ثناء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ثناء کو "دعائے استفتاح" بھی کہتے ہیں۔ اسلام کا سب سے اہم رکن نماز ادا کرتے وقت نمازی جب تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جائے تو ثناء پڑھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اس موقع پر مختلف دعائیں پڑھتے اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کی حمد، پاکیزگی اور تعریف بیان فرماتے۔ دعائے استفتاح پڑھنا ضروری ہے کیونکہ نماز ٹھیک طرح سے ادا نہ کرنے والے ایک صحابی کو نماز کا درست طریقہ سکھاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا:

لا تتم صلاة لأحد من الناس حتى يتوضأ فيضع الوضوء يعني مواضعه ثم يكبر ويحمد الله جل وعز ويثني عليه ويقرأ بما تيسر من القرآن[1]
ترجمہ:لوگوں میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ اچھی طرح وضو کر کے تکبیر تحریمہ نہ کہے اور جب تک اللہ تعالٰیٰ کی حمد و ثناء اوربڑائی بیان نہ کرے اور جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتا ہے وہ نہ پڑھ لے۔

دعائے استفتاح کے لیے منقول دعائیں[ترمیم]

درج ذیل دعاؤں میں سے کوئی بھی دعا اس موقع پر پڑھی جا سکتی ہے۔ ان میں سے بعض دعاؤں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نفل نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔ انہیں فرض نماز میں پڑھنا بھی اگرچہ جائز ہے لیکن امام کو جماعت کرواتے وقت لمبی دعائیں پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے تا کہ مقتدیوں پر مشقت نہ ہو۔

پہلی دعا[ترمیم]

اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق و المغرب اللهم أغسلني بالماء ونقني من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد [2]
ترجمہ:اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔ اے اللہ! میری خطائیں (اپنی مغفرت کے )پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اس دعا کو فرض نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔

دوسری دعا[ترمیم]

وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا و ما أنا من المشركين إن صلاتي و نسكي و محياي و مماتي لله رب العالمين لا شريك له و بذلك أمرت و أنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي و اعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك [3]
ترجمہ: میں نے یکسو اور فرمانبردار ہو کر اپنا چہرہ اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والوں میں سے ہوں۔ اللہ! تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں۔ تو پاک اور حمد کے لائق ہے۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں (یعنی تیرے سوا میں کسی کی عبادت نہیں کرتا)۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے سارے گناہ معاف فرما دے۔تیرے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کو معاف کر سکے۔ مجھے اچھے اخلاق کی توفیق عطا فرما، تیرے سوا کوئی بھی اس کی توفیق نہیں دے سکتا۔اور مجھ سے برے اخلاق کو دور رکھ، تیرے سوا ان کو دور رکھنے والا بھی کوئی نہیں۔اللہ! میں (تیرے دربار میں) حاضر ہوں تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں ۔ اور شرکی نسبت تیری طرف نہیں کی جا سکتی ۔ جسے تو ہدایت عطا فرما دے حقیقت میں وہی ہدایت یافتہ ہے۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری طرف ہی میرا لوٹنا ہے۔ تجھ سے بھاگ کر نجات پانے اور پناہ ڈھونڈنے کی کوئی جگہ سوائے تیرے ہی پاس ہونے کے کہیں اور کوئی نہیں ہے۔ تیری ذات بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ میں تجھ سے مغفرت کا طلب گار ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں

تیسری دعا[ترمیم]

سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك۔ [4]
ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے،( ہم )تیری حمد کے ساتھ (تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں)۔ تیرا نام بڑی برکت والا ہے اور تیری بزرگی بلند ہے۔ اور تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:

إن أحب الكلام إلى الله أن يقول العبد سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك [5]
ترجمہ: اللہ تعالٰیٰ کے ہاں پسندیدہ ترین کلام یہ ہے کہ بندہ کہے سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك۔

یہ دعا مقبول عام ہے اور مسلمانوں کی اکثریت اسی دعا کو ثناء میں پڑھتی ہے۔

چوتھی دعا[ترمیم]

سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك ۔ لا إله إلا الله ۔ لا إله إلا الله ۔ لا إله إلا الله ۔ الله أكبر كبيرا ۔ الله أكبر كبيرا ۔ الله أكبر كبيرا [6]
ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے،(ہم) تیری حمد کے ساتھ (تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں)۔ تیرا نام بڑی برکت والا ہے اور تیری بزرگی بلند ہے۔ اور تیرے سوا کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں ہے، اللہ کےسوا کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں ہے، اللہ کےسوا کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں ہے، اللہ کےسوا کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے سب سے بڑا، اللہ بہت بڑا ہے سب سے بڑا، اللہ بہت بڑا ہے سب سے بڑا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یہ دعا رات کی نفلی نماز میں پڑھتے تھے۔

پانچویں دعا[ترمیم]

الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا۔ [7]
ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے۔ بہت بڑا۔ اس کے لیے حمد و شکر ہے بہت زیادہ۔ وہ (ہر عیب سے) پاک ہے۔ صبح و شام ہم اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں

ایک صحابی نے ان کلمات سے نماز کا آغاز کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:

عجبت لها فتحت لها أبواب السماء۔ [8]
ترجمہ: اِن الفاظ کو (اللہ کی طرف سے اتنا) پسند کیا گیا کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے

چھٹی دعا[ترمیم]

الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه [8]
ترجمہ: تمام تعریف اور حمد اللہ کے لیے ہے، بکثرت، پاکیزہ اور برکت دی گئی (حمد اور تعریف)۔

ایک صحابی نے ان کلمات کے ساتھ اپنی نماز کا آغاز کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:

لقد رأيت اثني عشر ملكا يبتدرونها أيهم يرفعها [9]
ترجمہ: میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا جو اس کوشش میں تھے کہ کون پہلے ان الفاظ کواوپر (اللہ سبحانہ و تعالٰیٰ کی بارگاہ میں لے جانے کے لیے) اُٹھاتا ہے۔

ساتویں دعا[ترمیم]

اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت ملك السموات والأرض ومن فيهن أنت الحق وقولك الحق ووعدك الحق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق والبعث حق والنبيون حق ومحمد صلى الله عليه وسلم حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أعلنت وما أسررت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك[10]
ترجمہ: اے اللہ! حمد وشکر تیرے ہی لیے ہے۔ تو نور ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان کا بھی۔حمد و شکرتیرے لیے ہے تو قائم رکھنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اس کو بھی۔ اور حمد و شکر تیرے ہی لیے ہے، تو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان کا بھی۔اور تیرے لیے حمد و شکر ہے، تیری ذات برحق ہے، تیرا وعدہ سچا ہے، تیری باتیں حق ہیں، (قیامت کے دن) تیری ملاقات حق ہے، جنت اور جہنم برحق ہیں، انبیاء برحق تھے اور محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) برحق (سچے نبی)ہیں، قیامت (کا آنا) برحق ہے۔ اے اللہ! میں نے خود کو تیرا مطیع کر دیا، میں تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری ہی طرف میں رجوع کرتا ہوں، تیری ہی مدد سے میں جھگڑا کرتا ہوں اورتیرے ہی فیصلے کا طلبگار رہتا ہوں۔ پس تو میرے اگلے ،پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔ تو ہی اول ہے تو ہی آخر ہے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی طاقت (عطا کرنا بھی) تیرے سوا کسی کے بس میں نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یہ دعا رات کے نوافل میں پڑھا کرتے تھے۔

آٹھویں دعا[ترمیم]

اللهم رب جبرائيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السماوات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم [11]
ترجمہ: اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ حق کے بارے میں جو اختلاف کیا گیا ہے اس میں مجھے اپنے حُکم سے (درست بات کی) ہدایت عطا فرما، بے شک تو جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔

نویں دعا[ترمیم]

بعض دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم رات کی نفل نماز میں تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد دس دفعہ اللہ اکبر، دس دفعہ الحمدللہ، دس دفعہ سبحان اللہ، دس دفعہ لا الٰہ الا اللہ اور دس دفعہ استغفر اللہ کہتے پھر دس دفعہ ہی یہ دعا فرماتے:

اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني [12]
ترجمہ: اللہ! میری مغفرت فرما دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق اور عافیت عطا فرما

پھر دس مرتبہ یہ دعا فرماتے تھے:

اللهم إني أعوذ بك من الضيق يوم الحساب [13]
ترجمہ: اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں قیامت کے دن کی تنگی سے

دسویں دعا[ترمیم]

رات کی نفلی نمازشروع کرنے کا ایک اور طریقہ جو سنت مطہرہ سے ملتا ہے یہ ہے کہ تین دفعہ اللہ اکبر کہہ کر درج ذیل دعا پڑھی جائی:

ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة [14]
ترجمہ: (اللہ) بادشاہت، غلبہ، کبریائی اور عظمت کا مالک (ہے)۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 857
  2. (صحیح البخاری کتاب الاذان باب ما یقول بعد التکبیر، صحیح مسلم کتاب المساجد باب ما یقال بین تکبیرۃ الاحرام و القراءۃ، سنن نسائی حدیث نمبر1039، ارواء الغلیل حدیث8۔ متن میں مذکور الفاظ سنن نسائی کے ہیں
  3. صحیح مسلم كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه، مسند احمد، صحیح ابن حبان، مستخرج ابی عوانۃ، السنن الکبرٰی للنسائی۔ یہاں تمام روایات کے الفاظ جمع کرکے بیان کیے گئے ہیں
  4. سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من رأی الاستفتاح بسبحانک اللھم و بحمدک حدیث عائشۃ رضی اللہ عنہا، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 776
  5. سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 2598۔ سنن نسائی
  6. سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من رأی الاستفتاح بسبحانک اللھم و بحمدک، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 775
  7. صحیح مسلم المساجد و مواضع الصلاۃ باب ما یقال بین التکبیرۃ الاحرام و القراءۃ
  8. ^ ا ب صحیح مسلم المساجد و مواضع الصلاۃ باب ما یقال بین التکبیرۃ الاحرام و القراءۃ
  9. صحیح مسلم المساجد و مواضع الصلاۃ باب ما یقال بین التکبیرۃ الاحرام و القراءۃ
  10. صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ و ھو الذی خلق السماوات والارض، صحیح مسلم صلاۃ المسافرین و قصرھا باب الدعاء فی صلاۃ الیل و قیامہ، ابو عوانہ، ابو داؤد، وابن نضر، وا لدارمی۔ یہاں امام البانی نے ان تمام روایات میں مذکور الفاظ کو جمع کر دیا ہے
  11. صحیح مسلم صلاۃ المسافرین و قصرھا باب الدعاء فی صلاۃ الیل و قیامہ
  12. صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 1356، مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبۃ
  13. ایضاً
  14. سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 874، و رواہ الطیالسی ایضا