ثناء اللہ امرتسری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ثناء اللہ امرتسری
معلومات شخصیت
پیدائش 12 جون 1868  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 مارچ 1948 (80 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرگودھا، پنجاب، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری(پیدائش:12 جون1868ءوفات:15 مارچ 1948ء) معروف عالم دین تھے جو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔ مولانا غلام رسول قاسمی، مولانا احمد اللہ امرتسری، مولانا احمد حسن کانپوری، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے علوم دینیہ حاصل کیے۔ مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ اور بہت سی کتب لکھیں۔ فن مناظرہ میں مشاق تھے۔ سینکڑوں کامیاب مناظرے کیے۔ مشہور تصنیف تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی) ہے۔ دوسری تفسیر ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) ہے۔ 1947ء میں سرگودھا میں مقیم ہو گئے تھے۔ بعارضہ فالج وفات پائی۔

تعلیم[ترمیم]

مولانا احمداللہ رئیس امرتسرکے مدرسہ تائید الاسلام سے درس نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد مولانا نے وزیرآباد میں حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی سے تفسیر،حدیث، فقہ اوردوسرے علوم حاصل کیے۔ وزیر آباد سے تکمیل تعلیم کے بعدسیدنذیرحسین دہلوی کی خدمت میں حاضرہوئے اوراستادکی سنددکھاکرتدریس کی اجازت حاصل کی۔ دہلی میں سیدنذیر حسین سے اجازت لے کرسہارن پورمدرسہ مظاہرالعلوم میں پہنچے اورکچھ عرصہ یہیں قیام کیا اورپھردیوبندتشریف لےگئے۔ دیوبندمیں موالانامحمودالحسن سے علوم عقلیہ ونقلیہ اورفقہ وحدیث کی تعلیم حاصل کی۔ دیوبندسے فراغت کے بعدمولاناثناءاللہ کان پورمدرسہ فیض عام چلےگئے اوروہاں احمداحسن کان پوری صاحب سے علم معقول ومنقول کے علاوہ علم حدیث میں بھی استفادہ کیا۔ کان پور سے فراغت کے بعدمولاناثناءاللہ اپنے وطن امرتسرواپس آئے اورمدرسہ تائیدالاسلام میں جہاں سے تعلیم تعلم کاآغازکیاتھادرس وتدریس پرمامورہوئے۔ اس کے علاوہ اپ جمعیت علما ہند کی طرف سے صوبہ پنجاب کے امیر بھی رہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

اُنکے والد نام خضر تھا۔ مولانا کی عمر 7 سال تھی کہ اُن کے والد کی وفات ہو گئی۔ ان کے بڑے بھائی کانام ابراہیم تھا۔ انہوں نے ا ن کورفوگری پرلگادیا۔ چودہ سال کی عمرمیں والدہ بھی خالق حقیقی سے جاملیں۔ اسی سال مولاناکو پڑھنے کاشوق ہوااورمولانا احمداللہ رئیس امرتسرکے مدرسہ تائیدالاسلام میں داخل ہو گئے اوردرس نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ شیخ الاسلام مولاناابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری جیسی جامع کمالیت ہستی صدیوں میں کہیں پیداہوتی ہے۔ مولاناثناءاللہ پوری ملت کامشترکہ سرمایہ تھے وہ بیک وقت مخالفین اسلا م کاچو طرفہ حملوں کاجواب دیتے تھے اور فضاء ہندوپاک پرعظمت اسلام اوروقاردین محمد ی کاجھنڈا بھی لہراتے تھے۔ سیدسلیمان ندوی نے مولاناکی تعریف کرتے ہوئے لکھاہے۔’’اسلام پیغبراسلام کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اورقلم اٹھایااس کے حملے کوروکنے کے لیے ان کاشمشیربے نیام ہوتاتھااوراسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں نے عمربسرکی۔

تصانیف[ترمیم]

ردعیسائیت میں اسلام اورمسیجیت لکھی۔ اس کتاب کے اہل علم اوراہل قلم نے بہت تعریف کی اورمولاناکوخراج تحسین پیش کیا۔ تردید آویر میں مولانانے تغلیب الاسلام کے نام سے چارجلدوں میں کتاب لکھی۔ ایک اورکتاب تبرء اسلام کے نام سے لکھی۔ مولاناثناءاللہ امرتسری نے ردقادیانیت میں بھی کتابیں لکھیں مولاناحبیب الرحمن نے ایک مجلس میں مولاناثناء اللہ مرحوم کے بارے میں فرمایاتھاکہ ہم لوگ 30سال میں بھی اتنی معلومات قادیانی فتنہ کے بارے میں نہیں حاصل کرسکتے جتنی معلومات اور واقفیت مولاناثناء اللہ صاحب کو ہیں۔ مولانانے تفسیرنویسی میں بھی کام کیاہے۔ اوراہل تقلیدپرعلمی تنقیدکی ہے اوران کے غلط کاقلع قمع کیا ہے۔ تفسیر قران میں ایک تفسیر " تفسیرثنائی " کے نام سے لکھی ہے۔ ایک تفسیر اردو میں ہے’’تفسیرباالرائے،،اس تفسیرمیں مولانا نے تفاسیر و تراجم قرآن قادیانی چکڑیالوی ،بریلوی شیعہ وغیرہ کی اغلاط کی نشان دہی کی ہے اور ساتھ ساتھ ان کی اصلاح بھی کی ہے۔ مولاناکی تصانیف رسائل وجرائد کی تعداد کم وبیش 174ہے۔

وفات[ترمیم]

مولاناامرتسرسے ہجرت کرکے لاہور آ گئے تھے اورپھر لاہور میں کچھ دن قیام کے بعدگوجرانوالہ مولانااسماعیل سلفی کے ہاں ٹھہرے اوروہاں سے سرگودھاتشریف لےگئے اورسرگودھامیں ہی مولاناکی وفات ہوئی 13فروری 1948کومولاناپرفالج کاحملہ ہوااورٖآپ اس کے بعدسوا مہینہ زندہ رہے 15 مارچ1948کوصبح اسلامیہ کادرخشاں آفتاب سرگودھا کی سرزمیں میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

علما کی آراء[ترمیم]

تعریفی کلمات[ترمیم]

شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری بیک وقت مفسر،محدث اور مقرر بھی تھے۔ دانشور بھی تھے اور خطیب بھی تھے اور فن مناظرہ کے توامام تھے۔ سیاسیات ہند میں ان کی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کوہمہ جہت خوبیوں سے نوازاتھا توکل زہدومدح حلم وصبرتقوی واتقاء دیانت وامانت عدالت وثقاہت قناعت وسنجیدگی حق گوئی اور بے باکی حاضر جوابی میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے آپ نے دینی و مذہبی قومی اور ملی اور سیاسی خدمات انجام دیں۔ مولاناثناء اللہ اسلام کی سربلند ی اور پیغبراسلام کے دفاع میں سرگرم رہے اور ساری زندگی دین کی خالص اشاعت کتاب وسنت کی ترویج شرک وبدعت کی تردید وتوبیخ ،ادیان باطلہ کاردکرنے میں گزاری۔ اللہ تعالی نے پنچاب کی سرزمیں سے ایک ایسا عظیم مرد مجاہد ہمیں عطا کیاجس نے ایک جھوٹے نبی کی بھی سرکوبی کی۔

حوالہ جات[ترمیم]