ثوب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزاداری شیعیان در ماه محرم 10.jpg

ثوب کی جمع ثیاب ہے، پہننے کے کپڑے کو ثوب کہا جاتا ہے خواہ سلا ہوا ہو یا بغیر سلا لہذا بے سلا تہبند بھی ثوب ہے اور سلا ہوا پائجامہ کرتا بھی ثوب۔[1] ثواب کے اصل معنیٰ اور اس کا لغوی مفہوم لوٹنے اور رجوع کرنے کا ہے۔ اور کپڑے کو بھی " ثوب " اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں یہ طریقہ ہوا کرتا تھا کہ کپڑا بنانے والے ایک آدمی سے سوت لیتے اور پھر اس کا کپڑا بنا کر اس کو واپس لوٹا دیتے۔ تو یہ اس کا اپنا ہی سوت ہوتا تھا جو اب کپڑے کی شکل میں اس کو واپس مل جایا کرتا تھا۔ اس لیے اس کو " ثوب " کہا جاتا تھا۔ پھر اس کا اطلاق عام ہو گیا اور ہر کپڑے کو " ثوب " کہا جانے لگا۔ جیسا کہ عربی لغت میں بکثرت ایسے ہوتا ہے۔ اور اس کی بے شمار مثالیں پائی جاتی ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،مفتی احمد یار خان،جلد 6،صفحہ 173، نعیمی کتب خانہ گجرات
  2. تفسیر مدنی کبیر مولانا اسحاق مدنی ،آل عمران 135