جابر بن عبد اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جابر بن عبد اللہ
معلومات شخصیت
پیدائشی نام جابر بن عبد اللہ
پیدائش سنہ 607  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 697 (89–90 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو عبد اللہ
طبی کیفیت اندھا پن  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ نسیبہ بنت عقبہ عدی  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نسب السَلَمی الخزرجی الانصاری
تعداد روایات 1540 حدیث
پیشہ فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جابر بن عبد اللہ (عربی: جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام الأنصاري) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک تھے جن کا تعلق یثرب (مدینۃ الرسول) سے تھا۔ عقبۂ ثانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ وہ کثیر الحدیث صحابی اور حدیث لوح کے راوی ہیں اس حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے ائمۂ شیعہ کے اسماء مبارک درج ہیں۔

جابر امام حسین کے مزار کے پہلے زائر ہیں۔[2] وہ (واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد) روز اربعین کربلا پہنچے اور امام محمد باقر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام پہنچایا۔[3]

نسب اور کنیت[ترمیم]

جابر نام،ابو عبداللہ کنیت ،قبیلہ خزرج سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے،جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام بن کعب بن غنم بن سلمہ ،والدہ کا نام نسیبہ تھا،جن کا سلسلۂ نسب حضرت جابرؓ کے آبائی سلسلہ میں زید بن حرام سے مل جاتا ہے۔ سلمہ کی اولاد اگرچہ حرہ اور مسجد قبلتین تک پھیلی ہوئی ہے،لیکن خاص بنو حرام قبرستان اورایک چھوٹی مسجد کے درمیان آباد تھے۔ حضرت جابرؓ کے دادا(عمرو) اپنے خاندان کے رئیس تھے، عین الارزق (ایک چشمہ ہے) جس کو مروان بن حکم نے حضرت امیر معاویہؓ کے عہد میں درست کرایا تھا انہی کی ملکیت تھا،بنو سلمہ کے بعض حصے، قلعے اور جابر بن عتیک کے قریب کے قلعے ان کے تحت و تصرف میں تھے۔ عمرو کے بعد یہ چیزیں عبداللہ کے قبضہ میں آئیں، حضرت جابرؓ انہی عبداللہ کے فرزند ہیں جو تقریبا ۶۱۱ھ (مطابق ۳۴ عام الفیل) میں ہجرت سے ۲۰ سال قبل تولد ہوئے تھے۔

جابر کے والد ہجرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے مسلمان ہوئے اوردوسری بیعت عقبہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عہد کیا اور ان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جنہيں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا۔ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔[4]

جابر کی کنیت ان کے بیٹوں کے ناموں کی مناسبت سے مختلف تاریخی منابع میں مختلف ہے لیکن ان کی صحیح تر کنیت "ابو عبد اللہ" مانی گئی ہے۔[5]

ابتدائی زندگی اور اسلام[ترمیم]

جابر بن عبد اللہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ ہجرت سے پندرہ سال پہلے مدنیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج کے ایک غریب خاندان سے تھا۔ آپ کم عمری میں اسلام لائے اور بے شمار غزوات میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا۔ والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام نصیبا بنت عقبہ بنت عدی تھا جو ان کے والد کے خاندان ہی سے تھیں۔ آپ کے والدعبد اللہ انصاری غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ ان کی نسل کو بنو حرام کہا جاتا ہے جو آج بھی مسجد قبلتین کے قریب رہائش رکھتے ہیں۔[6] جابر بن عبد اللہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ بعض روایات کے مطابق ایک دفعہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ :اے جابر تم ایک لمبی زندگی پاؤ گے اگرچہ اندھے ہو جاؤ گے مگر تمہاری ملاقات میری اولاد میں سے ایک شخص سے ہوگی وہ میرا ہم نام ہوگا اور میری طرح چلتا ہوگا جو پانچواں امام ہوگا۔ جب اسے ملو تو میرا سلام کہنا۔ یہ بات پوری ہوئی جب ان کی ملاقات امام محمد باقر سے ہوئی۔عقبہ ثانیہ میں اپنے والد کے ساتھ اسلام لائے اوران کے والد کو یہ شرف حاصل ہوا کہ بنو حرام کے نقیب تجویز کئے گئے اس بیعت میں ان کا سن ۱۸،۱۹ سال کا تھا۔

جابر کی زندگی سے موصولہ سب سے پہلی معلومات کا تعلق دوسری بیعت عقبہ ہے جو بعثت کے تیرہویں سال انجام پائی۔ اس بیعت میں وہ اپنے والد کے ساتھ تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر اوس اور خزرج کی بیعت کے کم عمر ترین شاہد و گواہ ہیں۔[7] ان کی مدتِ عمر اور سال وفات کو مد نظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیعت عقبہ میں ان کی عمر 16 برس ہوگی۔

جنگوں میں شرکت[ترمیم]

استعمال[ترمیم]

{{نقل چسپاں|قطعہ|url=http://www.example.org/|date=ستمبر 2021}}

مثال[ترمیم]

رجوع مکررات[ترمیم]



ان کے والد نے غزوۂ احد میں شہادت حاصل کی کافروں نے مثلہ کردیا تھا اس لئے جنازہ کپڑوں میں اڑھا کر لایا گیا، حضرت جابرؓ نے کپڑا اٹھا دیا اوردیکھنا چاہا لوگوں نے منع کیا ،آنحضرتﷺ نے یہ دیکھ کر کپڑا اٹھادیا، بہن پاس کھڑی تھیں، بھائی کی حالت دیکھ کر ایک چیخ ماری، آنحضرتﷺ نے پوچھا کون ہے؟ لوگوں نے کہا ان کی بہن ،فرمایا تم روؤ یا نہ روؤ جب تک جنازہ رکھا رہا ،فرشتے پروں سے سایہ کئے تھے [8] حضرت عبداللہؓ نے دس لڑکیاں چھوڑیں جو گھر میں بلک رہی تھیں،انہوں نے اپنے بھائی حضرت جابرؓ کے پاس ایک اونٹ بھیجا کہ ابا جان کی لاش گھر لے آئیں اور مقبرہ بنی سلمہ میں دفن کردیں، وہ تیار ہوگئے،آنحضرتﷺ کو خبر ہوئی فرمایا کہ جہاں ان کے دوسرے بھائی شہداء دفن کئے جائیں گے، وہیں وہ بھی دفن ہونگے ؛چنانچہ احد کے گنج شہیداں میں دفن کئے گئے۔

ان پر قرض بہت تھا، حضرت جابرؓ کو اس کے ادا کرنے کی فکر ہوئی، لیکن ادا کہاں سے کرتے؟ کل دو باغ تھے جن کی پوری پیدا وار قرض کو کافی نہ تھی، رسول اللہ ﷺ کے پاس گھبرائے ہوئے آئے اور کہا یہودیوں کو بلاکر کچھ کم کرا دیجئے، آپ نے ان لوگوں کو طلب فرماکر جابرؓ کا مدعا بیان کیا، انہوں نے چھوڑنے سے انکار کیا، پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ اچھا دو مرتبہ میں اپنا قرض وصول کرلو، نصف اس سال اور نصف دوسرے سال، وہ لوگ اس پر رضا مندنہ ہوئے، آپﷺ نے یہ دیکھ کر حضرت جابرؓ کو تسکین دی اور فرمایا کہ سنیچر(ہفتہ) کے دن تمہارے ہاں آؤں گا، چنانچہ سنیچر کو صبح کےو قت تشریف لے گئے، پانی کے پاس بیٹھ کر وضو کیا، مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی، پھر خیمہ میں آکر متمکن ہوئے، اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ بھی پہنچ گئے، تقسیم کا وقت آیا تو ارشاد ہوا کہ چھوہاروں کو قسم دار الگ کرکے خبر کرنا، چنانچہ آپ کو خبر کی گئی ،آپ تشریف لائے اورایک ڈھیر پر بیٹھ گئے،حضرت جابرؓ نے بانٹنا شروع کیا اور آپ دعا کرتے رہے، خدا کی قدرت کہ قرض ادا ہونے کے بعد بھی جو کچھ بچ گیا، حضرت جابرؓ خوشی خوشی آپ کے پاس آئے اوربیان کیا کہ قرض ادا ہوگیا اور اتنا فاضل ہے، آپ نے خدا کا شکر ادا کیا، حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ کو بھی بہت مسرت ہوئی۔

اس کے بعد آنحضرتﷺ کو مکان لے گئے اور گوشت ،خرما اور پانی پیش کیا، آپ نے فرمایا شاید تم کو معلوم ہے کہ میں گوشت رغبت سے کھاتا ہوں،چلنے کا وقت آیا تو اندر سے آواز آئی کہ مجھ پر اور میرے شوہر پر درود پڑھیے، فرمایا: اللھم صل علیھم [9] والد کی موجودگی تک انہوں نے کسی غزوہ میں حصہ نہیں لیا۔ مسلم میں ہے کہ انہوں نے بدر میں میدان کا عزم کیا، لیکن باپ مانع ہوئے ،احد میں بھی ایسا ہی اتفاق پیش آیا، لیکن باپ احد میں شہید ہوگئے، تو باقی غزوات میں نہایت گرمجوشی سے شرکت کی اور آنحضرتﷺ کے ساتھ ان کو ۱۹ غزوات میں شرف شرکت حاصل ہوا، [10] ابتدائی غزوؤں میں والد کے روکنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ خود میدان میں جانا چاہتے تھے اور گھر میں ۹ لڑکیاں تھیں، دونوں کے چلے جانے کے بعد گھر بالکل خالی ہوجاتا، (بخاری کی روایت ہے، ۶ لڑکیاں چھوٹی تھیں) تاہم بعض ابتدائی غزوات میں بھی ان کے شریک ہونے کی شہادت ملتی ہے،چنانچہ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ بدر کے دن وہ لوگوں کو پانی پلاتے تھے، [11] غزوہ ذات الرقاع میں جو ۵ھ میں ہوا وہ شامل تھے [12] واپسی کے وقت ان کا اونٹ بھاگ گیا تھا، آنحضرتﷺ نے دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے واقعہ بیان کیا آپ نے ایک لکڑی سے مار کر دعا کی اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ تیز رو ہوگیا۔ [13]

اسی سنہ میں خندق کا معرکہ پیش آیا، حضرت جابرؓ خندق کھود رہے تھے،اسی اثنا میں رسول اللہ ﷺ خود کدال لے کر ایک سخت پتھر کو کھود نے کے لئے تشریف لائے دیکھا تو شکم مبارک پر بھوک کیوجہ سے پتھر بندھا ہوا ہے، [14] یہ دیکھ کر آنحضرتﷺ سے اجازت لے کر گھر پہنچے اور بیوی سے کہا کہ آج ایسی بات دیکھی جس پر صبر نہیں ہو سکتا کچھ ہو تو پکاؤ اور خود ہی ایک بکری کا بچہ ذبح کرکے آنحضرتﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا کہ میرے ہاں چل کر ما حضر تناول فرمائیے،سروردوعالمؓ کے کاشانہ میں تین روز سے فاقہ تھا، دعوت قبول ہوئی اورعام منادی کرادی کہ جابرؓ نے سب لوگوں کی دعوت کی ہے، حضرت جابرؓ نے انتظام آپ کے اور دو تین آدمیوں کے لئے کیا تھا، اس لئے نہایت تنگ دل ہوئے، مگر ادب سے خاموش رہے،آنحضرتﷺ تمام مجمع کو لے کر ان کے مکان تشریف لے گئے ،خود بھی کھانا نوش فرمایا اور لوگوں نے بھی کھایا، [15] پھر بھی بچ رہا،آپ نے ان کی بیوی سے فرمایا کہ یہ تم کھاؤ اور لوگوں کے یہاں بھیجو، کیونکہ لوگ بھوک میں مبتلا ہیں۔

۶ھ میں بنو مصطلق کا غزوہ ہوا ،آنحضرتﷺ جب روانگی کے قصد سے اونٹ پر سوار ہوئے اور نماز پڑہنے لگے تو ان کو کسی کام سے بھیجا تھا، جب یہ واپس آئے اس وقت کوچ کا حکم دیا۔ اس غزوہ کے بعد غزوہ انمار واقع ہوا، اس میں بھی حضرت جابرؓ موجود تھے۔ اسی سنہ میں آنحضرتﷺ عمرہ کی غرض سے مکہ روانہ ہوئے ،۱۵۰۰ جان نثار ہمرکاب تھے،بیعت الرضوان کا مشہور واقعہ اسی میں پیش آیا اور حضرت جابرؓ مشرف بہ بیعت ہوئے، اس میں حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ کا اورحضرت جابرؓ حضرت عمرؓ کا بیعت کے وقت ہاتھ پکڑے تھے، آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ ساری دنیا سے بہتر ہو۔ جب ۸ھ میں ساحل کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، حضرت ابو عبیدہؓ اس کے امیر تھے، اسلام کی تاریخ میں یہ عجیب ابتلاء کا وقت تھا؛ لیکن مسلمان اس میں پورے اترے زاد راہ ختم ہوگیا، پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانا شروع کیا، آخر سمندر سے ایک بڑی مچھلی کنارہ پر آئی اور لوگوں نے عطیہ غیبی سمجھ کر نوش جان کیا [16]

مچھلی اتنی بڑی تھی کہ سردار لشکر نے اس کی ایک پسلی کھڑی کرائی اور سب سے اونچا اونٹ انتخاب کرکے لایا گیا، اور وہ اس کے نیچے سے نکل گیا،[17] حضرت جابرؓ پانچ آدمیوں کے ساتھ اس کی آنکھ کی ہڈی کے حلقہ میں بیٹھ گئے تو کسی کو پتہ بھی نہ لگا، اس مچھلی کا نام عنبر تھا ۱۵۰ روز تک کھائی گئی کھانے والے ۳۰۰ تھے۔ [18] اس کے بعد اور بھی غزوات پیش آئے،جن میں ان کی شرکت رہی،حنین اورتبوک میں ان کا نام صراحت سے آیا ہے،حجۃ الوداع میں بھی جو ۱۰ ھ میں ہوا، وہ بھی شامل تھے۔ [19] ۳۷ھ میں حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کی جنگ میں حضرت جابرؓ ،حضرت علیؓ کی طرف سے صفین میں جاکر لڑے۔ [20] ۴۰ ھ میں امیر معاویہؓ کا عامل بسر بن ابی ارطاۃ حجاز ویمن پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے آیا اور مدینہ منورہ میں ایک خطبہ دیا، اس میں اس نے کہا کہ بنو سلمہ کو اس وقت تک امان نہیں مل سکتی جب تک جابرؓ میرے پاس نہ حاضر ہوں، حضرت جابرؓ کو جان کا خوف تھا حضرت ام سلمہؓ (ام المومنین) کے پاس جاکر مشورہ کیا، انہوں نے کہا میں نے اپنے لڑکوں کو بھی بیعت کی رائے دی ہے، تم بھی بیعت کرلو، عرض کیا یہ تو گمراہی پر بیعت ہے،فرمایا مجبوری ہے،لیکن میری رائے یہی ہے، ان کے مشورہ کے مطابق بسر کے پاس آگئے اور امیر معاویہؓ کی خلافت پر بحث کی۔ ۷۴ھ میں حجاج مدینہ کا امیر تھا، اس کے جو روظلم سے صحابہ بھی محفوظ نہ رہے؛ چنانچہ اس نے متعدد صحابہ پر یہ عنایت کی گردنوں پراورحضرت جابرؓ کے ہاتھ پر مہر لگوائی۔ [21]

غزوہ حمراء الاسد[ترمیم]

غزوہ حمراء الاسد، جو 4 ھ میں اور غزوہ احد کے بعد واقع ہوا اور یہ جابر کا پہلا جنگی تجربہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان پر احد کے شرکاء کے سوا کسی کو بھی حمراء الاسد میں شرکت کی اجازت نہ تھی تاہم جابر غزوہ احد میں شریک نہ ہونے کے باوجود اس جنگ میں شریک ہوئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ احد میں ان کی عدم شرکت کا عذر قبول فرمایا تھا۔[22]

جنگوں میں جابر کا کردار[ترمیم]

مغازی اور جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں جابر کا کردار کچھ زيادہ بڑا نہ تھا۔ وہ ایک نوجوان مؤمن تھے جو دوسرے مجاہدین کے ہمراہ بعض غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رکاب میں لڑتے تھے اور بعد میں بعض غزوات کے وقائع نگار کا کردار ادا کیا۔

شادی[ترمیم]

سنہ 3 ھ میں غزوہ ذاتُ الرَقاع سے پہلے، جابر نے سُہَیمہ، بنت مسعود بن اوس، نامی بیوہ خاتون سے شادی کی تا کہ والد کی شہادت کے بعد اپنی 9 بہنوں کی بہتر سرپرستی کرسکیں۔[23]

اس زمانے میں جابر کو معاشی مسائل کا سامنا تھا اور انہیں والد کے کچھ قرضے ادا کرنے تھے۔ کچھ عرصہ بعد (سنہ 4 ھ میں) غزوہ ذات الرقاع سے واپسی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جابر کا حال پوچھا اور آبرومندانہ انداز سے ان کے قرضے ادا کیے اور ان کے لیے طلب مغفرت کی۔[24]

رسول اللہ کے ساتھ تعلق[ترمیم]

بعض روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جابر کے ساتھ رویہ ہمیشہ شفقت آمیز رہا جابر کا تعلق بھی الفت اور محبت آمیز تھا۔ ایک دفعہ جابر بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی عیات کے لیے گئے اور جابر نے ـ جو گویا اپنی تندرستی سے مایوس ہوچکے تھے ـ بہنوں کے درمیان میں اپنے ترکے کی تقسیم کے بارے میں سوالات پوچھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں طویل عمر کی خوشخبری دی اور ان کے سوال کے جواب میں ایک آیت نازل ہوئی جو آیت کلالہ کے نام[25] سے مشہور ہوئی۔[26]

خلفائے ثلاثہ کا دور[ترمیم]

جابر سے خلیفۂ اول کے بارے میں کوئی بات نقل نہیں ہوئی ہے۔ وہ شاید ابتدا میں مدینہ میں انصار اور مہاجرین کے ہمراہ تھے اور کچھ عرصہ بعد امام علی اور اہل بیت کے حامیوں سے جا ملے تھے۔[27]

خلفائے راشدین، کے دور میں جابر غالبا علمی اور تعلیمی امور میں مصروف تھے اور سیاسی اور عسکری معاملات سے دوری اختیار کرتے تھے۔ انہوں نے اس دور میں صرف ایک عسکری مہم میں شرکت کی جس کا تعلق خلیفۂ ثانی کے دور کے آغاز میں اسلامی فتوحات سے تھا۔

جابر نے ایک روایت میں خالد بن ولید کی سرکردگی میں دمشق کے محاصرے کی روئداد بیان کی ہے جس میں وہ شریک ہوئے تھے۔[28] لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ کیا جابر فتح عراق کے دوران میں بھی خالد کی سپاہ میں تھے یا نہیں۔

جابر خلیفۂ ثانی کے دور میں عَریف تھے۔[29] عریف کسی بھی قبیلے کے ایسے فرد کو کہا جاتا تھا جو خلیفہ کی طرف سے اپنے قبیلے کے سربراہ کے طور پر مقرر کیا جاتا تھا یا قبیلے کے ہاں خلیفہ کا رابط یا نمائندہ ہوتا تھا۔۔

خلیفۂ ثالث کے دور میں جابر کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی خاص اطلاع، تاریخ نے ثبت نہیں کی ہے؛ صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ جب مصری معترضین نے مدینہ کا رخ کیا تو جابر انصار کے دوسرے پچاس افراد کے ہمراہ خلیفہ کی طرف سے متعین ہوئے کہ معترضین کے ساتھ مذاکرات کرکے انہيں مصر کی طرف پلٹا دیں۔[30]

خلافت امام علی کا دور[ترمیم]

وہ جنگ صفین میں امیرالمؤمنین امام علی کی سپاہ میں شامل تھے۔[31]

امیرالمؤمنین مولا علی کی خلافت کے اواخر میں جب معاویہ کے گماشتوں نے شہروں کو غارت کرنا شروع کیا تو مدینہ بھی اس لوٹ مار اور قتل و غارت سے محفوظ نہ رہا۔ معاویہ کی طرف سے بُسر بن اَرْطاۃ نے سنہ 40 ھ میں مدینہ پر حملہ کیا تو جابر کا قبیلہ یعنی قبیلۂ بنو سَلَمہ بھی اس حملے میں نشانہ بنا اور بسر بن ارطاۃ نے اس قبیلے سے بیعت کا مطالبہ کیا۔

جابر جو بُسر کی بیعت کو گمراہی اور ضلالت سمجھتے تھے، نے ام المؤمنین ام سلمہ کے گھر میں پناہ لی اور آخر کار ام سلمہ کے مشورے سے خونریزی کا سد باب کرنے کی غرض سے، بیعت کر لی۔[32]

منبر رسول کی منتقلی[ترمیم]

معاویہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد (سنہ 50 ھ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر کو دمشق منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جابر ان لوگوں میں سے ایک تھے جو معاویہ کے پاس گئے اور اس کو اس عمل سے روکا تو وہ باز رہے۔[33]

جابر کے سفر[ترمیم]

جابر نے سنہ 50 ھ کے عشرے میں مصر کا سفر کیا۔ بعض مصریوں نے ان سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[34] ان دنوں جابر کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا مَسلَمۃ بن مُخَلَّد انصاری، مصر کا والی تھا اور ابن مَنْدَہ، کی روایت کے مطابق جابر نے مسلمہ کے ہمراہ شام اور مصر کا سفر اختیار کیا۔[35]

حدیث کے بعض منابع کے مطابق جابر نے عبداللہ بن أُنَیس سے قصاص کے بارے میں ایک حدیث سننے کی غرض سے شام کا سفر کیا؛[36] جس کی تاریخ نامعلوم ہے۔ وہ معاویہ کے دور میں شام گئے جہاں انہیں معاویہ کی بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جابر معاویہ کے اس رویے سے سخت ناراض ہوئے اور مدینہ کی طرف واپس روانہ ہوئے اور معاویہ کی طرف سے 600 دینار کا ہدیہ بھی قبول نہيں کیا۔[37] جابر کے ساتھ معاویہ کے طرز سلوک کو خلیفۂ ثالث کے قتل کے بموجب اہلیان مدینہ کی توہین و تذلیل کی اموی روش کا تسلسل اور حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔

امویوں کی حکومت[ترمیم]

جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دور دیکھا تھا اور قرآن و سنت سے واقف تھے چنانچہ وہ امویوں کی بدعتوں اور نہایت بھونڈے اعمال سے آزردہ خاطر تھے اور آروز کرتے تھے کہ کاش سماعت سے محروم ہوتے اور بدعتوں اور دینی اقدار میں تبدیلیوں کی خبریں نہ سنتے۔[38]

سنہ 74 ھ میں حجاج بن یوسف (امویوں کی طرف سے ) مدینہ کا والی بنا، [39] اور ہر طرف اس کی گستاخیوں کا چرچا تھا۔ جہاں تک ممکن تھا اس نے مدنی عوام اور بزرگوں کی توہین کی اور جابر سمیت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غلاموں کے طرح داغ لگا دیے۔[40] اس کے باوجود جابر نے اپنے رویے میں تبدیلی کے سوا حجاج کے اس عمل پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کیا۔[41] اور وصیت کی کہ حجاج ان کی نماز جنازہ نہ پڑھائے۔[42]

حدیث میں جابر کا کردار[ترمیم]

جابر صحابہ کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بکثرت حدیثیں نقل کی ہیں۔[43] حدیث و روایت اور سیرت و تاریخ کی کتب میں جابر کی روایات سے بکثرت استناد ہوا ہے اور ان کی منقولہ روایات اسلامی مذاہب کے ہاں قابل توجہ ہیں۔ جابر فقہی احکام میں صاحب رائے تھے اور فتوی دیا کرتے تھے۔[44] چنانچہ ذہبی [45] نے انہیں صاحب فتوی مجتہد اور فقیہ کا خطاب دیا ہے۔

جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث نقل کرنے کے علاوہ صحابہ اور حتی بعض تابعین سے بھی روایت کی ہے۔ علی بن ابی طالب، طلحہ بن عبیداللہ، عمار بن یاسر، معاذ بن جبل اور ابو سعید خدری جیسے صحابہ سے جابر نے روایت کی ہے۔[46]

جابر اس قدر دینی معارف و تعلیمات حاصل کرنے کے طالب و مشتاق تھے کہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے براہ راست حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سننے کے لیے عازمِ شام ہوئے۔[47]

اس شوق نے آخرِ عمر میں جابر کو خانۂ خدا کی مجاورت پر آمادہ کیا تاکہ وہاں رہ کر بعض حدیثیں سن لیں۔[48] وہ حدیث کے سلسلے میں نہایت بابصیرت اور نقاد تھے اور احادیث اور روایات نقل کرنے میں قبائلی مسابقتوں سے پ رہی ز کرتے تھے؛ مثال کے طور پر وہ خود خزرجی تھے لیکن اس بات کے معترف تھے کہ خزرجی راویوں نے بنو قریظہ کے فیصلے کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس کلام میں تحریف کی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سعد بن مُعاذ کے حق میں ادا کیے تھے؛ صرف اس لیے کہ سعد بن مُعاذ قبیلۂ اوس کے زعیم تھے۔[49]

امام باقر، نیز امام صادق اور امام کاظم نے امام باقر کے حوالے سے، چند احادیث نبوی جابر سے نقل کی ہیں۔[50]

مشہور شیعہ احادیث کی اسناد میں جابر کا نام ذکر ہوا ہے؛ ان مشہور احادیث میں حدیث غدیر، [51] حدیث ثقلین، [52] حدیث انا مدینۃ العلم و علی بابہا، [53] حدیث منزلت، [54] حدیث رد الشمس، [55] اور حدیث سد الابواب [56] شامل ہیں۔

نیز جابر ان احادیث کے راوی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بعد بارہ ائمہ کے اسماء گرامی بیان فرمائے ہیں۔[57] اور امام مہدی کی خصوصیات متعارف کرائی ہیں۔[58]

حدیث لوح ان مشہور احادیث میں سے ہے جو جابر نے نقل کی ہیں اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین ائمۂ اثناعشر کے اسماء گرامی بیان ہوئے ہیں۔[59]

جابر کا حلقۂ درس[ترمیم]

جابر نے مسجد نبوی میں اپنا حلقۂ درس دائر کیا تھا جہاں وہ حدیثیں املا کرتے اور لکھواتے تھے اور تابعین کی ایک جماعت ان سے علم حاصل کرتے اور حدیثیں لکھتے تھے۔[60]

جابر سے بڑی تعداد میں راویوں نے حدیثیں نقل کی ہیں جن میں سعید بن مُسیب، حسن بن محمد بن حنفیہ، عطاء بن ابی رباح، مجاہد بن جَبر، عمرو بن دینار مکی، عامر بن شراحیل شعبی اور حسن بصری سر فہرست ہیں۔[61]

مفتیِ مدینہ[ترمیم]

الطبقات الکبیر میں ابن سعد کی درجہ بندی کے مطابق جابر کو مفتی اصحاب اور مقتدی یا اہل العلم والفتوی کے زمرے میں قرار نہیں دیا گیا ہے تاہم ذہبی نے انہیں مفتی مدینہ کے عنوان سے یاد کیا ہے۔

موسی بن علی بن محمد امیر نے جابر بن عبد اللہ کی فقہی آراء کو مختلف منابع سے اخذ کر کے ایک جامع تحقیق کے طور پر مرتب کر کے ایک کتاب جابر بن عبداللہ و فقہہ کے نام سے زیور طبع سے آراستہ کی ہے۔[62]

تفسیر قرآن[ترمیم]

قرآن کریم کی تفسیر میں جابر سے بہت سی روایات منقول ہیں جن سے تفسیری منابع میں استناد کیا گیا۔[63] بعض آیات کے سلسلے میں جابر کی تفسیری آراء شیعہ تفسیری آراء سے ہمآہنگ ہیں۔[64]

امامیہ منابع میں[ترمیم]

امامیہ کے رجالی منابع میں جابر کی شخصیت کو محترم اور قابل احترام قرار دیا گیا ہے۔ وہ ائمہ، (امام علی سے امام باقر، تک) کے اصحاب میں شمار کیے گئے ہیں۔[65]

تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جابر امام سجاد کے دور میں دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جبکہ امام باقر ابھی لڑکپن یا نوجوانی کی عمر میں تھے چنانچہ انہيں امام باقرکے اصحاب میں شمار نہيں کیا جاسکتا۔[66]

بعض رجالی منابع میں جابر کی شہرت اور ان کی مدح میں منقولہ روایات کے پیش نظر، تاکید ہوئی ہے کہ "جابر کے لیے کسی توثیق کی ضرورت نہیں ہے"۔[67] گوکہ جابر سقیفہ کے واقعے میں امیرالمؤمنین کے ساتھیوں میں سے نہ تھا لیکن کچھ عرصہ بعد اہل بیت علیہم السلام کے سچے، وفادار اور مخلص اصحاب و انصار کے زمرے میں قرار پائے۔[68] کَشّی، [69] نے جابر کو علی بن ابی طالب کے فدائیوں کے گروہ میں شمار کیا ہے جو ہمیشہ علی کے تابع اور گوش بہ فرمان تھے اس گروہ کو ‌شرطۃ الخمیس‌ کہا جاتا ہے۔[70]

محبت اہل بیت[ترمیم]

جابر کی نگاہ میں علی بن ابی طالب اس قدر بلند مقام و مرتبے کے مالک تھے جنہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں میزان حق سمجھا جاتا تھا اور آپ کے ساتھ بغض اور دشمنی، منافقین کی شناخت کا ذریعہ تھی۔۔[71][72] جابر مدینہ کی گلیوں سے گذرتے تھے اور انصار کی مجالس میں شرکت کرتے تھے اور انہیں نصیحت کرتے تھے کہ اپنے فرزندوں کی تربیت حب علی بن ابی طالب کے ساتھ کیا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو شخص امیرالمؤمنین علی کو اللہ کی برتر مخلوق نہ سمجھے وہ ناشکری کا مرتکب ہوا ہے"[73] جابر کا یہ کلام کہ "علی خیر البشر ہیں" جعفر بن احمد قمی نامی شیعہ مؤلف کی کتاب نوادر الاثر فی علی خیر البشر کا عنوان ٹہرا۔ قمی نے اس کتاب کی ایک تہائی روایات جابر سے نقل کی ہیں۔[74]

جابر اور واقعۂ عاشورہ[ترمیم]

واقعۂ عاشورہ اور شہادت امام حسین کے وقت جابر بن عبد اللہ انصاری مدینہ کے معمر بزرگوں میں شمار ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذریت کے لیے فکرمند تھے۔ امام حسین نے یزیدی کے والی عبید اللہ بن زیاد کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے جابر بن عبد اللہ کو اپنے مدعا کے گواہ کے عنوان سے متعارف کرایا ہے۔۔[75][76] امام حسین کی شہادت کے چالیسویں روز جابر آپکے اولین زائر تھے۔[77]</ref> محمدبن ابوالقاسم عمادالدین طبری، بشارۃ المصطفٰی لشیعۃ المرتضی، ص74ـ 75۔</ref> امام زین العابدین کی امامت کے آغاز پر، آپ کے اصحاب کی تعداد بہت کم تھی اور جابر ان ہی انگشت شمار اصحاب میں شامل تھے۔ وہ اپنے بڑھاپے کی وجہ سے حجاج بن یوسف ثقفی کے تعاقب سے محفوظ تھے۔[78]

امام باقرکی ملاقات[ترمیم]

محمد باقر کے ساتھ جابر کی ملاقات کا واقعہ بہت سے مآخذ و مصادر میں نقل ہوا ہے۔۔۔۔۔[79] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا: "اے جابر! تم اس قدر عمر پاؤگے کہ میری ذریت میں سے میرے ایک فرزند کا دیدار کرو گے جو میرے ہم نام ہوگا؛ وہ علم کا چیرنے پھاڑنے والا ہے (یبْقَرُالعلم بَقْراً؛ علم کی تشریح کرتا ہے جیسا کہ تشریح و تجزیئے کا حق ہے)، پس میرا سلام انہیں پہنچا دو[80][81] جابر کو اس فرزند کی تلاش تھی حتی کہ مسجد مدینہ میں پکار پکار کر کہتے تھے "یا باقَرالعلم" اور آخر کار ایک دن امام محمد بن علی کو تلاش کیا ان کا بوسہ لیا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام انہیں پہنچایا۔[82][83][84][85]

کاوشیں[ترمیم]

کثیر احادیث کی روایت[ترمیم]

آپ سے 1500 سے زائد احادیث روایت کی گئی ہیں۔ آپ ان کو مدینہ میں مسجد نبوی میں اور مصر و دمشق میں بیان کیا کرتے تھے۔

اہل سنت کے منابع حدیث کے ذریعے منقولہ مسند جابر، 1540 احادیث پر مشتمل ہے جن میں سے 58 حدیثیں بخاری اور مسلم کے ہاں متفق علیہ ہیں۔[29] احمد بن حنبل نے جابر کی حدیثیں اپنی مسند میں [86] جمع کی ہیں۔ مسند جابر بن عبداللہ بروایت ابو عبدالرحمن بن احمد بن محمد بن حنبل، مراکش کے خزانۃ الرباط میں موجود ہے[87] جو غالبا مسند احمد بن حنبل میں منقولہ جابر بن عبد اللہ کی روایات پر مشتمل ہے۔ حسین واثقی نے بھی جابر کی روایات شیعہ کتب حدیث سے جمع کرکے اپنی کتاب جابر بن عبداللہ الانصاری حیاتہ و مسندہ میں شائع کی ہیں۔

اہم ترین کاوش جو منابع میں جابر سے منسوب کی گئی ہے صحیفۂ جابر ہے۔ یہ صحیفہ ـ جو تدوین حدیث کی قدیم ترین صورت ہے ـ سلیمان بن قیس یشْکری نے تالیف کیا ہے لیکن بعد کے راویوں نے ـ سلیمان کی اچانک وفات کی وجہ سے ـ یہ حدیثیں سماع اور قرائت کے بغیر مذکورہ صحیفے سے نقل کی ہیں۔[88] اس صحیفے کا ایک نسخہ استنبول کے مجموعے شہید علی پاشا میں موجود ہے۔[89]

حدیث کا ادب[ترمیم]

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

مجھے ایک صاحب کے متعلق اطلاع ملی کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے۔ میں نے فوراً ایک اونٹ خریدا، اس پر کجاوہ کسا اور ان صاحب کی طرف ایک ماہ کا سفر طے کر کے سیدھا ملک شام پہنچا۔ یہ صاحب عبداللہ بن انیس تھے۔ میں نے ان کے دربان سے کہا، جاکر کہو کہ جابر دروازے پر کھڑا ہے۔

انہوں نے سنتے ہی پوچھا "کیا جابر بن عبد اللہ؟"

میں نے کہا کہ "ہاں"

وہ فوراً باہر آ گئے اور گلے ملے، میں نے کہا مجھے ایک حدیث کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ آپ نے اسے آنحضرت سے سنا ہے، میں ڈرا کہ کہیں مجھے موت آجائے اور میں اس حدیث کے علم سے محروم رہ جاؤں۔ یہ سن کرعبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث بیان کردی۔[90]

اہل وعیال[ترمیم]

حضرت جابرؓ نے اپنے والد کی شہادت کے بعد ایک بیوہ عورت سے نکاح کرلیا تھا، آنحضرتﷺ کو معلوم ہوا تو فرمایا، کسی کنواری سے کیا ہوتا کہ وہ تم سے کھیلتی، تم اس سے کھیلتے، عرض کیا کہ بہنیں چھوٹی تھیں، اس لیے ہوشیار عورت کی ضرورت تھی جوان کے کنگھی کرتی،جوئیں دیکھتی ،کپڑے سی کر پہناتی، فرمایا: اصبت ۔ (تم نے ٹھیک کیا) [91] دوسری شادی بنو سلمہ میں کی، اسلام میں عورت کو دیکھ کر شادی کرنے کی اجازت ہے اس لئے پیام کے بعد لڑکی کو چھپ کر دیکھ لیا پھر شادی کی۔ [92] پہلی بیوی کا نام سہیلہ بنت مسعود تھا، [93] صحابیہ تھیں اور انصار کے قبیلہ ظفر کی لڑکی تھیں دوسری کا ام حارث تھا، وہ محمد بن مسلمہ بن سلمہ کی جو قبیلہ اوس سے تھے اور معزز صحابی تھے، ان کی بیٹی تھیں۔ [94] اولاد کے نام یہ ہیں،عبدالرحمن، [95] عقیل [96] محمد، حمیدہ ،میمونہ ،ام حبیب [97]

اولاد[ترمیم]

جابر کی اولاد میں عبدالرحمن، محمد[98] محمود، عبداللہ[99] اور عقیل[100] شامل ہیں۔

افریقیہ[101] اور بخارا [102] میں جابر سے منسوب افراد اور خاندانوں کے بارے میں روایات موجود ہیں۔ ان کی نسل ایران میں موجود ہے اور اس خاندان کے مشہور ترین فرد معاصر دور کے عظیم المرتبت شیعہ فقیہ اور اصولی شیخ مرتضی انصاری، تھے۔[103]

وفات[ترمیم]

انہوں نے چورانوے سال کی عمر پائی اور 68 یا 78ھ میں وفات پائی۔

جابر عمر کے آخری سالوں میں ایک سال تک مکہ میں بیت اللہ کی مجاورت میں مقیم رہے۔ اس دوران میں عطاء بن ابی رَباح اور عمرو بن دینار سمیت تابعین کے بعض بزرگوں نے ان کا دیدار کیا۔ جابر عمر کے آخری برسوں میں نابینا ہوئے اور مدینہ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔[104] مِزّی[105] نے جابر کے سال وفات کے بارے میں بعض روایات نقل کی ہیں جن میں جابر کے سال وفات کے حوالے سے اختلاف سنہ 68 تا سنہ 79 ہجری تک ہے۔ بعض مؤرخین اور محدثین سے منقولہ روایت کے مطابق جابر بن عبداللہ انصاری نے سنہ 78 میں، 94 سال کی عمر میں وفات پائی اور والی مدینہ ابان بن عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔[106]

روایات کے مطابق انہیں حجاج بن یوسف نے زہر دلوا کر شہید کیا تھا۔ انہیں بغداد کے قریب مدائن میں دریائے دجلہ کے قریب دفن کیا گیا۔

قبر کشائی[ترمیم]

1932ء میں عراق کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل کو خواب میں صحابیِ رسول حذیفہ بن یمانی (معروف بہ حذیفہ یمانی) کی زیارت ہوئی جس میں انہوں نے بادشاہ کو کہا کہ اے بادشاہ میری قبر میں دجلہ کا پانی آ گیا ہے اور جابر بن عبد اللہ کی قبر میں دجلہ کا پانی آ رہا ہے چنانچہ ہماری قبر کشائی کر کے ہمیں کسی اور جگہ دفن کر دو۔ اس کے بعد ان دونوں اصحابِ رسول کی قبریں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھولی گئیں جن میں مفتیِ اعظم فلسطین، مصر کے شاہ فاروق اول اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ ان دونوں کے اجسام حیرت انگیز طور پر تازہ تھے، جیسے ابھی دفنائے گئے ہوں۔ ان کی کھلی آنکھوں سے ایسی روشنی خارج ہو رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی زیارت بھی کروائی گئی جن کے مطابق ان دونوں کے کفن تک سلامت تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔ ان دونوں اجسام کو سلمان فارسی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی قبر مبارک کے بالکل قریب سلمان پاک نامی جگہ پر دوبارہ دفنا دیا گیا جو بغداد سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔

حلیہ[ترمیم]

حلیہ یہ تھا،مونچھ خوب کٹی ہوئی، سر اور داڑھی میں زرد خضاب لگاتے تھے آنکھیں اخیر عمر میں جاتی رہی تھیں۔

مکان[ترمیم]

مسجد نبوی سے ایک میل دور تھا، اس لئے ایک مسجد بھی بنوائی تھی۔ [107]

علم وفضل[ترمیم]

تحصیل کی ابتداء سرچشمہ وحی سے ہوئی، لیکن تربیت یافتگان نبوت میں جو لوگ علوم وفنون کے مرکز تھے، ان کے حلقوں سے بھی استفادہ کیا، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابو عبیدہؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت معاذ ؓ بن جبل، عمارؓ، خالد بن ولیدؓ، حضرت ابو بردہؓ بن نیار، ابو قتادہؓ، ابو سعید خدریؓ، ابو حمید ساعدی، عبداللہ بن انیسؓ، ام شریکؓ، ام مالکؓ، ام مبشرؓ، ام کلثومؓ بنت ابوبکر صدیقؓ، (تابعیہ تھیں) سب کے سب ان کے اساتذہ میں داخل ہیں۔ حدیث کا یہ شوق تھا کہ ایک ایک حدیث سننے کے لئے مہینوں کی مسافت کا سفر کرتے تھے، عبداللہ بن انیس کے پاس ایک حدیث تھی، وہ شام میں رہتے تھے، حضرت جابرؓ کو معلوم ہوا، تو ایک اونٹ خریدا اور ان کے پاس جاکر کہا کہ وہ حدیث بیان کیجئے میں نے اس لئے عجلت کی کہ شاید میرا خاتمہ ہوجاتا اور حدیث سننے سے رہجاتی۔ [108] اسی طریقہ سے مسلمہ بن مخلد امیر مصر سے حدیث سننے کے لئے مصر کا سفر کیا اورحدیث کی اجازت لی،اس سفر کا تذکرہ طبرانی میں موجود ہے۔ تحصیل علم سے فراغت کے بعد مسند درس پر جلوہ فرما ہوئے ،حلقہ درس مسجد نبوی میں قائم تھا، شائقین مقامات بعیدہ سے آتے تھے ،مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، یمن ،کوفہ، بصرہ، مصر میں ان کا دریائے فیض رواں تھا۔ کمالات کے مظہر تفسیر وحدیث و فقہ کے فن تھے، تفسیر میں اگرچہ روایتیں زیادہ نہیں،تاہم معتدبہ ہیں، لوگوں میں درود کے معنی میں اختلاف تھا، بعض کہتے تھے کہ مسلمان جہنم میں داخل نہ ہوگا، بعض کا خیال تھا کہ سب جائیں گے، مگر مسلمان کو نجات مل جائے گی، حضرت جابرﷺ سے پوچھاگیا ،فرمایا:نیک وبد سب جہنم میں داخل ہوں گے؛لیکن اچھوں پر آگ کا کوئی اثر نہ ہوگا، پھر متقیوں کو نجات ملے گی اور ظالم اس میں رہ جائیں گے۔ [109]

طلق بن حبیب کو شفاعت کا انکار تھا،انہوں نے حضرت جابرؓ سے مناظرہ کیا اور خلو دفی النار کے متعلق جتنی آیتیں قرآن میں ہیں، سب پڑھیں، حضرت جابرؓ نے فرمایا، شاید تم اپنے کو مجھ سے زیادہ قرآن و حدیث کا عالم جانتے ہو ،انہوں نے کہا استغفراللہ میرا خیال بھی نہیں ہوسکتا ،ارشاد ہوا تو سنو! یہ آیتیں مشرکین کے متعلق ہیں جو لوگ عذاب دینے کے بعد نکال لئے گئے،ان کا اس میں ذکرنہیں ،لیکن رسول اللہ ﷺ نے حدیث میں اس کو بیان فرمایا ہے۔ حدیث ان کی تمام کوششوں کا جولانگاہ ہے،اشاعت حدیث ان کی زندگی کا اہم مقصد رہا ،باایں ہمہ کہ کثیرالروایات تھے اوران کی مرویات ۵۴۰ تک پہنچتی ہیں،بیان حدیث میں نہایت احتیاط وحزم سے کام لیتے تھے، ایک حدیث بیان کی سمعت کا لفظ بولنا چاہتے تھے، کہ رک گئے اور اپنے اوپر موقوف کردی،اس کا سبب یہ تھا کہ ان کو الفاظ پر اطمینان نہ ہوسکا۔ تلامذہ حدیث کا شمار طوالت سے خالی نہیں، تابعین کا ہر طبقہ ان کے خرمن فیض کا خوشہ چین ہے،لیکن خاص شاگردوں کے نام حسب ذیل ہیں: امام باقرؓؓؓ، محمد بن منکدر، سعد بن میناء، سعید ابی بلال، عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری، محمد بن عمرو حسینؓ، حسن بن محمد حنیفیہ وغیرہم۔ فقہ بھی ان کی علمی موشگافیوں کا مظہر ہے، وہ مسائل و فتاویٰ جو وقتاً فوقتاً پوچھے گئے اورانہوں نے جو جوابات دیئے اگر وہ جمع کئے جائیں تو ایک مختصر رسالہ تیار ہوسکتا ہے۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

اقامۃ حدود اللہ،جوشِ ایمان، اورجرأت اظہار حق ،امر بالمعروف،مؤدت رسول، اتباع ِسنت ورفق بین المسلمین، اخلاق کی بیخ وبنیاد ہیں اورقدرت نے حضرت جابرؓ کو نہایت فیاضی سے ان تمام چیزوں سے حصہ دیا تھا۔ اقامت حدود اللہ، ہر مسلمان کا فرض ہے، حضرت جابرؓ کو اس میں یگانہ وبیگانہ کافرق وامتیاز روک نہ سکتا تھا، حضرت ماعزبنؓ اسلمی جو مدینہ کے باشند ےاوراصحاب پاک میں داخل تھے،ان کی حد رجم کے موقع پر خود جاکر اپنے ہاتھ سے ان کو پتھر مارے تھے۔ [110] اظہا حق میں کسی کی وجاہت خلل انداز نہ ہوسکتی۔ حضرت سعد بن معاذ انصاری،قبیلہ اوس کے سردار اور بڑے رتبہ کے صحابی تھے ان کا انتقال ہوا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج عرش اعظم جنبش میں آگیا ہے ،حضرت برا ءبن عازب ؓ کو یہ حدیث معلوم تھی،لیکن وہ عرش رحمن کے بجائے صرف سریر کہتے تھے جس سے جنازہ کا ہلنا مراد ہے، حضرت جابرؓ سے لوگوں نے براؓء کا قول نقل کیا ،فرمایا کہ حدیث تو یہی ہے جو میں نے بیان کی، باقی براء کا قول تو وہ باہمی بغض و عداوت وکینہ توزی کا نتیجہ اوراثر ہے، اوس اورخزرج میں اسلام سے پہلے سخت مخاصمت تھی۔ [111]

اس واقعہ کا یہ پہلو بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت جابرؓ قبیلۂ خزرج سے تھے اس بنا پر ان کو خزرجیوں کا ہم آہنگ و ہمنوا ہونا چاہئے تھے۔ حجاج بن یوسف جب مدینہ کا امیر ہوکر آیا تو اس نے اوقات نماز میں کچھ تقدیم وتاخیر کی، لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے فرمایا کہ آنحضرتﷺ ظہر کی نماز دوپہر کے بعد، عصر کی آفتاب کے صاف اور روشن ہونے تک، مغرب کی وقت غروب ،فجر کی تاریکی میں پڑہتے تھے اور عشاء کے وقت لوگوں کا انتظار ہوتا تھا، اگر جلد مجمع ہو گیا تو جلد پڑہتے تھے ورنہ دیر میں۔ [112] ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن جابرؓ نے تین برس کے لئے اپنی زمین کا پھل فروخت کردیا ان کو خبر ہوئی تو کچھ لوگوں کو لے کر مسجد آئے اور سب کے سامنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، جب تک پھل کھانے کے قابل نہ ہوجائیں، ان کا فروخت کرنا جائز نہیں۔ [113] (پھر نکلنے سے قبل کیونکر جائز ہوسکتا ہے) ایک مرتبہ ایک سر گروہ فتنۂ وفساد مدینہ آیا، لوگوں نے حضرت جابرؓ کو گھیرا کہ اس کو شر سے باز رکھئے، اس زمانہ میں وہ بینائی سے محروم ہوچکے تھے اپنے دو بیٹوں کو بلایا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نکلے اور کہا کہ خدا اس کو ہلاک کرے جس نے رسول اللہﷺ کو خوف میں ڈال رکھا ہے،بیٹوں نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ تو وفات پاچکے ہیں، اب ان کو خوف کیسا؟ فرمایا آنحضرتﷺ کا ارشاد مبارک ہے جس نے اہل مدینہ کو ڈرایا،گویا خود مجھے ڈرایا۔ آپ اتباع رسول کے ولولہ میں ان مور میں بھی آپ کی اقتدا کرتے تھے جنہیں آپ کی تقلید ضروری نہیں ہے، آنحضرتﷺ کو ایک مرتب صرف ایک کپڑا اوڑھے نماز پڑہتے دیکھا تھا اس لئے خود بھی اسی طرح نماز پڑھی ،شاگردوں نے کہا کہ آپ کے پاس چادر رکھی تھی اس کو کیوں نہ اوڑھ لیا کہ ازار اورچادر دوکپڑے ہوجاتے،فرمایا اس لئے کہ تم جیسے بے وقوف رسول اللہ ﷺ کی اس رخصت کو دیکھیں اور اعتراض کریں۔ [114]

آنحضرتﷺ نے مسجد فتح میں تین روز (پیر،منگل، بدھ) دعا مانگی تھی تیسرے دن نماز کے اندر قبول ہوئی تو چہرہ مبارک پر بشارت کی موجیں نور بن کر دوڑ گئیں، حضرت جابرؓ نے یہ واقعہ دیکھا تھا،چنانچہ جب کوئی مشکل آپڑتی تو اس خاص وقت میں وہاں جاکر دعا کرتے اور قبولیت واجابت کا مژدہ ساتھ لاتے تھے۔ [115] غزوات نبویﷺ میں انہوں نے سر فروشی اور فداکاری کا اعلانیہ ثبوت دیا اور غزوہ ٔحدیبیہ یا مشہد بیعت الرضوان میں جس قوت نے کام کیا تھا اس کا اقرار خود مصحف ناطق میں کیا گیا ہے۔ حب رسولﷺ کے مناظر یہ ہیں: غزوۂ خندق میں تمام لشکر بے آب ودانہ تھا اور سید کونین ۳ دن فاقہ سے رہے اور پیٹ پر پتھر باندھ کر مہمات جنگ میں مصروف تھے،آقا کو اس حالت میں دیکھا تو کام چھوڑ کر مکان گئے اوردعوت کا انتظام کیا۔ [116] ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں اعلیٰ قسم کے چھوہارے جن میں گٹھلی نہ تھی پیش کئے، آپ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا تھا کہ میں گوشت سمجھا تھا، اسی وقت گھر جاکر بیوی سے کہا ،انہوں نے بکری ذبح کرکے گوشت پکادیا۔ [117] ایک روز آنحضرتﷺ ان کے مکان پر تشریف لے گئے، آپ کی عادت معلوم تھی،اٹھے اورایک فربہ بکری کا بچہ ذبح کیا، وہ چلایا تو آپ ﷺ نے فرمایا نسل اور دودھ کیوں قطع کرتے ہو؟ عرض کیا ابھی بچہ ہے چھوہارے کھاکر اتنی موٹی ہوگئی ہے۔ ایک مرتبہ آنحضرت سامنے سے گذرے ،یہ ڈھال میں چھوہارے لئے تھے شرکت کی دعوت دی،آپﷺ نے قبول فرمائی۔ [118] حدیبیہ سے آنحضرتﷺ کے ساتھ چلے، سقیا میں قیام ہوا، پانی موجود نہ تھا، حضرت معاذ بن جبلؓ کی زبان سے نکلا کہ کوئی پانی پلاتا، حضرت جابرؓ چند انصار کو لیکر پانی کی تلاش میں روانہ ہوئے ۲۳ میل چل کر اثایہ میں پانی ملا وہاں سے مشکوں میں بھر کر لائے، عشاء کے بعد دیکھا تو ایک شخص اونٹ پر سوار حوض کی طرف جارہا ہے، یہ آنحضرتﷺ تھے بڑھ کر مہار تھام لی اونٹ کو بٹھایا ،آنحضرتﷺ نے اتر کر نماز پڑھی خود بھی پہلو میں کھڑے ہوکر نماز میں شریک ہوئے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے گرپڑے تھے وہ عیادت کو آئے، رسول اللہ ﷺ کو کبھی قرض کی ضرورت ہوتی تو ان سے لیتے تھے ؛چنانچہ ایک مرتبہ قرض لیا تھا اور ادائیگی کے وقت بطور اظہار خوشنودی کچھ زیادہ دیا۔ [119]

رسول اللہ ﷺ کو بھی ان سےبہت محبت تھی، ایک واقعہ میں ان کے لئے ۲۵ مرتبہ استغفار فرمایا تھا، ایک مرتبہ بیمار پڑے تو خود عیادت کے لئے تشریف لائے، حضرت جابرؓ بے ہوش تھے، آپ ﷺ نے وضو کرکے پانی کے چھینٹے دیئےتو ہوش آیا اس وقت تک ان کے کوئی اولاد نہ تھی، باپ بھی فوت ہوچکے تھے، شریعت میں ایسے شخص کے وارث کو کلالہ کہتے ہیں؛ چونکہ زندگی سے ناامید ہوچکے تھے، عرض کیا کہ میں مرگیا تو کلالہ وارث ہوگا، فرمائیے میراث کیونکر تقسیم کروں ؟ کیا دو ثلث بہنوں کو دیدوں؟ فرمایا اچھا ہے دیدو، عرض کیا خواہ نصف؟ فرمایا ہاں، یہ کہہ کر باہر تشریف لائے،پھر واپس ہوئے اورآکر کہا جابر! تم اس مرض میں نہ مروگے تمہارے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے: يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ [120] تم سے (اے پیغمبر)لوگ کلالہ کے بارہ میں استفسار کرتے ہیں کہو کہ خدا کا اس کے متعلق یہ فتویٰ ہے۔ تم بہنوں کو دو ثلث دے سکتے ہو۔ کہیں دعوت ہوتی تو ساتھ لیجاتے کبھی خود اپنے ساتھ مکان پر لاتے اورکھانا کھلاتے ایک روز وہ اپنے گھر کی دیوار کے سایہ میں بیٹھے تھے،رسول اللہ ﷺ سامنے سے گذرے، یہ دوڑ کر ساتھ ہولئے ادب کے خیال سے پیچھے چل رہے تھے، فرمایا پاس آجاؤ، ان کا ہاتھ پکڑ کر کاشانہ اقدس پر لائے اور پردہ گرا کر اندر بلایا اندر سے ۳ ٹکیاں اورسرکہ ایک صاف کپڑےپر رکھ کر آیا، آپ نے ڈیڑھ ڈیڑھ روٹی تقسیم کی اور فرمایا سرکہ بہت عمدہ سالن ہے،جابرؓ کہتے ہیں کہ اس دن سے سرکہ کو میں نہایت محبوب رکھتا ہوں۔ [121] کچھ اس واقعہ پر موقوف نہیں نوازشات خاصہ ہر صورت میں ہوتی رہتی تھیں،غزوہ ذات الرقاع میں حضرت جابرؓ نہایت عمدہ اونٹ پر سوار تھے جو اپنی تیز رفتاری میں تمام اونٹوں سے آگے تھا، چلتے چلتے یکا یک رک گیا[122] پیچھے سے آواز آئی کیا ہوا، یہ آنحضرتﷺ تھے،تشریف لائے اورایک کوڑا مارا اونٹ پھر تیز ہوگیا۔ اوران کو لے اڑا، آنحضرتﷺ نے فرمایا، اس کو میرے ہاتھ فروخت کردو، عرض کیا حاضر ہے، لیکن قیمت کی ضرورت نہیں، فرمایا نہیں قیمت دیجائے گی[123] درخواست کی کہ مدینہ تک میں اسی پر چلوں گا جو منظور ہوئی،شہر پہنچ کر اونٹ کو لیکر آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،آپ اس کو گھوم گھوم کے دیکھتے تھے اور فرماتے تھے کیسا اچھا ہے؟ اس کے بعد حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ اتنے اوقیہ سونا تول دو، اصل کے بعد کچھ اور بھی عطا فرمایااور پوچھا دام پاچکے؟ کہا جی ہاں، فرمایا دام اور اونٹ دونوں لیجاؤ سب تمہارا ہے [124] ایک یہودی نے اس واقعہ کو سنا تو تعجب کیا۔ [125]

قیمت سے زیادہ دام چونکہ آنحضرت ﷺ کی بخشش تھی اس لئے اس کو ایک تھیلی میں علیحدہ حفاظت سے رکھ دیا، حرہ کے دن اہل شام نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اس میں دوسری چیزوں کے ساتھ اس کو بھی لوٹ لے گئے۔ [126] ایک مرتبہ بحرین سے مال آنے والا تھا، آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم کو ۳ آبخورہ بھر کردوں گا، لیکن جب مال آیا تو آپ ﷺ کا وصال ہوچکا تھا ،حضرت ابوبکرؓ نے منادی کرادی کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے کسی سے وعدہ کیا ہو یا آپ پر کسی کا قرض ہو تو وہ مجھ سے لے سکتا ہے، حضرت جابرؓ نے کہا کہ مجھ سے وعدہ فرمایا تھا فرمایا لے لو،۳ آنجورہ میں ۱۵۰۰ آئے۔ رسول اللہ ﷺ کا ادب واحترام خاص طور پر ملحوظ رہتا تھا، اعمال وعقائد میں تو آنحضرتﷺ کا ہر قول وفعل فرض وواجب کا درجہ رکھتا ہے اوراس میں کسی کو مجال انکار نہ تھی، لیکن امور باہمی میں بھی ان کو اس کا لحاظ رہتا تھا کہ جس بات کو آنحضرتﷺ ۳ مرتبہ ارشاد فرماتے بے چون وچرا تسلیم کرلیتے، ایک دو مرتبہ میں قیل وقال کی گنجائش رہتی تھی،[127] مسلمانوں سے محبت کرتے اور" رحماء بینھم" کی مجسم تصویر تھے۔ ایک مرتبہ ان کا پڑوسی کہیں سفر میں گیا تھا، واپس آیا تو بایں جلالت قدر ملاقات کو تشریف لے گئے ،اس نے لوگوں کے اختلاف اورجماعت بندی کی داستان سنائی، بدعات کا رائج ہونا بیان کیا، صحابہ نے کشت اسلام اپنے بدن کے خون سے سینچی تھی ان واقعات کے کب کان متحمل ہوسکتے تھے؟ بے اختیار آبدیدہ ہوگئے اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سچ کہا تھا کہ لوگ جس طرح گروہ در گروہ خدائی دین میں داخل ہونگے اسی طرح خارج بھی ہوجائیں گے۔ [128] ان اوصاف کے ساتھ مذہبی جوش اور حرارت بھی نہایت نمایاں تھی ایک میل سے پنجوقتہ نماز پڑہنے آتے تھے[129] ظہر کے وقت گرمی کی یہ شدت ہوتی تھی کہ زمین پر سجدہ کرنا دشوار تھا، ہاتھ میں کنکریاں ٹھنڈی کرتے اور سجدہ کرتے تھے، لیکن آنا ترک نہ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ مسجد نبویﷺ کے قرب میں مکانات خالی ہوئے،حضرت جابرؓ اوربنو سلمہ کا ارادہ ہوا کہ یہاں اٹھ آئیں کہ نماز کا آرام ہوگا، آنحضرتﷺ سے درخواست کی،آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں وہاں سے آنے میں ہر قدم پر ثواب ملتا ہے، سوچو تو کتنا ثواب ہوا، سب نے کہا کہ حضور ﷺکا ارشاد بدل وجان منظور ہے۔ [130] حج متعدد کئے تھے،دو کا تذکرہ حدیثوں میں آیا ہے، پہلا حجۃ الوداع ،دوسرا ایک اور جس میں محمد بن عباد بن جعفر نے ایک مسئلہ پوچھا تھا۔ سادگی مسلمانوں کی ترقی کا اصل راز ہے، حضرت جابرؓ نہایت سادہ تھے ،صحابہ کا ایک گروہ مکان پر ملنے آیا، اندر سے روٹی اورسرکہ لائے اورکہا بسم اللہ اس کو نوش فرمائیے، سرکہ کی بڑی فضیلت آئی ہے، پھر فرمایا آدمی کے پاس اگر اعزہ واحباب آئیں تو جو کچھ حاضر ہو پیش کردے اس میں کوتاہی نہ کرے ،اسی طرح ان لوگوں کا فرض ہے کہ پیش کردہ چیز کو خوشی خوشی کھائیں اوراس کو حقیر نہ سمجھیں کیونکہ تکلف میں دونوں کی ہلاکت کا سامان ہے۔ [131] ایک مرتبہ مقنع بیمار ہوئے تو حضرت جابرؓ دیکھنے کو گئے تو فرمایا میرے خیال میں تم پچھنہ لگاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔ [132] مزاج میں بے تکلفی تھی ملنے جلنے کا انداز بہت سادہ تھا، آنحضرتﷺ سے زیادہ کون معزز ومحترم ہوسکتا تھا،لیکن جب آپ چلتے تو لوگ آپ کے برابر یا آگے چلتے تھے،حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ﷺ کے پیچھے فرشتے چلتے تھے۔ [133] آنحضرتﷺ کی ایک ایک چیز دل و دماغ میں جاگزیں تھی۔ بیعت الرضوان کی بیعت ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی لوگ اس جگہ کو متبرک سمجھ کر نماز پڑہنے لگے حضرت عمرؓ نے اس کو کٹوادیا، مسیب بن حزن کا بیان ہے کہ اس درخت کو ہم دوسرے ہی سال بھول گئے تھے، [134] لیکن حضرت جابرؓ کو برسوں کے بعد بھی یاد تھا، اخیر عمر میں نابینا ہوگئے تھے، حدیبیہ کا قصہ بیان کیا تو فرمایا آج آنکھیں ہوتیں تو وہ موقع دکھلا دیتا۔ [135]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Джабир ибн Абдуллах
  2. الامین، اعیان الشیعۃ، ج4، ص46.
  3. ہاشم معروف الحسنی، زندگی دوازدہ امام، ج 2، ص 206۔
  4. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص286؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208، 211؛ قیس ابن حَبّان، مشاہیر علما الامصار و اعلام فقہا الاقطار، ص 30 نے عبد اللہ و اس کے بیٹے جابر کی بیعتِ عقبہ اولی و عقبہ ثانیہ میں موجودگی کا لکھا ہے۔
  5. ابن عبد البرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 1412، ج1، ص220؛ ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، 1417، ج1، ص377.
  6. "المسکینہ۔ بزبان انگریزی". 12 مئی 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جولا‎ئی 2008. 
  7. ابن قُتَیبَہ، المعارف، ص307؛ ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص192.
  8. (مسلم:۲/۳۴۶،بخاری:۲/۵۸۴)
  9. (واقعہ مسند صفحات:۲۹۷،۳۰۳،۱۳،۶۵،۹۱،۹۵،۹۸ میں موجود ہے،بخاری:۲/۵۸۰)
  10. (مسند:۳/۳۲۹)
  11. (اصابہ:۱/۲۲۲)
  12. (مسند:۳/۳۷۵)
  13. (مسند:۳۰۰)
  14. (بخاری:۲/۵۸۸،۷۸۹)
  15. (بخاری غزوہ انمار)
  16. (مسند:۲/۳۰۸)
  17. (مسند:۳/۳۰۸)
  18. (مسند:۳/۳۰۸)
  19. (مسند:۳/۳۴۹،۴۱،۲۹۲)
  20. (اسد الغابہ:۱/۲۵۷)
  21. (اسد الغابہ:۲،حالات سہل بن سعد،:۳۶۶)
  22. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 1، ص34؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص402ـ403.
  23. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8، ص248؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج4، ص99ـ100.
  24. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 1، ص43ـ44.
  25. سورہ نساء (4) 176۔ ارشاد ہوا: "يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّہُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَۃِ إِنِ امْرُؤٌ ہَلَكَ لَيْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَہُوَ يَرِثُہَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّہَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِن كَانُواْ إِخْوَۃً رِّجَالاً وَنِسَاء فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللّہُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ وَاللّہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ"۔ (ترجمہ: آپ سے حکم شرعی دریافت کرتے ہیں کہئے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم شرع بتاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تواس کے لیے آدھا ترکہ ہوگا اور وہ اس (بہن) کا پورا وارث ہو گا اگر اس (بہن) کی اولاد نہ ہو۔ اب اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں دو تہائی ترکہ ملے گا اور اگر بہنیں اور بھائی ہوں تو ہر بھائی کو دو بہنوں کے برابر ملے گا۔ اللہ تمہارے لیے صاف صاف بیان کرتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے)۔
  26. ؛ طبری، جامع طبری؛ و محمد بن طوسی، التبیان فی التفسیر القرآن، آیہ کے ذیل میں۔
  27. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص38
  28. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص210؛ و ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص192.
  29. ^ ا ب ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص194.
  30. ابن شَبّہ نمیری، تاریخ المدینہ المنورہ: اخبار المدینہ النبویہ، ج3، ص1134ـ1136؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج3، قسم 1، ص44ـ 45؛ و احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، ج5، ص193.
  31. الامین، اعیان الشیعۃ، ج4، ص46؛ ابن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، ج1، ص232.
  32. ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، ج2، ص602ـ607؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص235.
  33. طبری، تاریخ طبری، ج5، ص239.
  34. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج11، ص213ـ214.
  35. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج11، ص213ـ214۔
  36. ابن حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، ج3، ص495.
  37. مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص318ـ319.
  38. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص235؛ ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص193.
  39. زبیریوں کی مکمل سرکوبی کے بعد حجاج نے مکہ، یمامہ اور یمن کی حکومت سنبھالی اور اپنے ہاتھوں ویران شدہ کعبہ کی مرمت کی؛تاریخ یعقوبی، ترجمہ ابراہیم آیتی، ج2، ص207۔ کچھ عرصہ بعد عثمان کے آزاد کردہ طارق بن عمرو کی جگہ مدینہ کا والی بنا؛ تاريخ طبرى، ترجمہ ابوالقاسم پايندہ، تہران، اساطير، ج8، ص3490؛ اور پہلے ہی دن سے اہل مدینہ کے ساتھ بدسلوکی کا آغاز کیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اہل مدینہ عثمان کے قاتل ہیں۔ نویری، شہاب الدین احمد؛ نہایۃ الارب فی فنون الادب، ترجمہ مہدوی دامغانی، ج6، ص12۔ اس نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تذلیل کی غرض سے سہل بن سعد (طبری، ج 8، ص 3511)؛ سمیت متعدد صحابہ کی گردنوں پر سیسے کی پگھلتی مہریں لگا دیں۔ یعقوبی، وہی ماخذ، ج2، ص 222۔ یہ وہ سلوک تھا جو ان دنوں ذمیوں کے ساتھ روا رکھا جانے لگا تھا؛ ابن خلدون، العبر تاريخ ابن خلدون، ترجمہ عبد المحمد آيتى، ج2، ص70۔ اور اس کے اس عمل کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی تھی "صحابہ نے عثمان کو مدد نہيں پہنچائی تھی۔ طبری، ج8، ص3511۔
  40. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص288؛ طبری، تاریخ طبری، ج6، ص195.
  41. ابن عساکر، ج11، ص234.
  42. ابن حَجَر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج1، ص435.
  43. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 2، ص127؛ ابن عبد البرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 1412، ج1، ص220.
  44. ابن قیم جوزی، اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج1، ص12 میں رقمطراز ہے کہ وہ ان صحابہ میں سے ہیں جن سے اوسط تعداد میں فتاوی نقل ہوئے ہیں۔
  45. ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص189.
  46. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208ـ209؛ مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص444.
  47. خطیب بغدادی، الرّحلۃ فی طلب الحدیث، 1395، 1395، ص109ـ 118؛ ابن عبد البرّ، جامع بیان العلم و فضلہ و ماینبغی فی روایتہ و حملہ، 1402، ص151ـ152.
  48. ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص191.
  49. ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، 1417، ج1، ص378.
  50. برائے نمونہ ابن اشعث کوفی، الاشعثیات (الجعفریات)، ص22، 44، 47؛ کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص532، ج2، ص373، ج3، ص233ـ234، ج5، ص528 ـ 529، ج8، ص144، 168ـ169؛ ابن بابویہ، عیون اخبارالرضا، 1404، ج1، ص47، ج2، ص74.
  51. عبد الحسین امینی، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، ج1، ص57ـ60.
  52. صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد «ص »، ص414.
  53. ابن ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص34.
  54. ابن بابویہ، معانی الاخبار، 1361 ش، ص74.
  55. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج1، ص345ـ346.
  56. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص189ـ190.
  57. ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمہ، 1363 ش، ج1، ص258ـ259؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج1، ص282.
  58. ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1363ش، ج1، ص253، 286، 288.
  59. محمد بن یعقوب کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص527 ـ 528؛ ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمہ، 1363 ش، ج1، ص308ـ313.
  60. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص233؛ خطیب بغدادی، تقیید العلم، 1974، ص104؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج1، ص435.
  61. جابر سے نقل حدیث کرنے والے افراد کی مکمل فہرست کے لیے دیکھیے یوسف بن عبد الرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص444ـ 448؛ حسین واثقی، جابر بن عبد اللہ الانصاری، ص108ـ 118.
  62. بیروت 1421.
  63. نمونے کے طور پرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی، تفسیر القرآن، ج1، ص89، 129، 131، ج2، ص211، 231ـ 232؛ محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج2، ص112، 302، ج4، ص155، 166.
  64. طَبْرِسی، ذیل احزاب: 33؛ نساء: 24.
  65. احمدبن محمد برقی، کتاب الرجال، ص3، 7ـ9؛ محمدبن حسن طوسی، رجال الطوسی، ص59، 93، 99، 111، 129.
  66. خوئی، ج4، ص16؛ تستری، ج2، ص519 ـ521.
  67. مازندرانی حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، ج2، ص212؛ خوئی، معجم رجال الحدیث، ج4، ص12، 15.
  68. محمد بن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص38.
  69. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص5.
  70. احمد بن محمد برقی، کتاب الرجال، ص4.
  71. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص40ـ41۔
  72. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج42، ص284۔
  73. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج42، ص44.
  74. تستری، قاموس الرجال، ج2، ص525.
  75. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج2، ص97۔
  76. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ـ1386، ج4، ص62.
  77. طوسی، مصباح المتہجد، ص787۔
  78. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص123ـ124۔
  79. منجملہابن سعد، الطبقات الکبری، ج5، ص164۔
  80. کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص304، 450ـ469۔
  81. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج2، ص159.
  82. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص41ـ42۔
  83. کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص469ـ470۔
  84. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج54، ص275ـ276۔
  85. ما رواہ ابن عساكر ان الامام زين العابدين ومعہ ولدہ الباقر دخل على جابر بن عبد اللہ الانصاري، فقال لہ جابر: من معك يا ابن رسول اللہ؟ قال: معي ابني محمد فاخذہ جابر وضمہ إليہ وبكى ثم قال: اقترب اجلي، يا محمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم يقرؤك السلام فسئل وما ذاك؟ فقال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم يقول: للحسين بن علي يولد لابنى ہذا ابن يقال لہ علي بن الحسين، وہو سيد العابدين إذا كان يوم القيامۃ ينادي مناد ليقم سيد العابدين فيقوم علي بن الحسين، ويولد لعلي بن الحسين ابن يقال لہ محمد اذا رأيتہ يا جابر فاقرأہ منى السلام، يا جابر اعلم أن المہدي من ولدہ۔۔۔"۔ (ترجمہ: ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ امام زین العابدینجابر بن عبداللہ انصاری پر وارد ہوئے جبکہ ان کے بیٹے محمدبھی آپ کے ساتھ تھے؛ پس جابر نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! کون آپ کے ساتھ ہے؟ فرمایا: اے جابر یہ میرا بیٹا محمد ہے۔ جابر نے انہیں آغوش میں لیا اور اپنے سینے سے چپکایا اور روئے اور کہا: میری موت قریب ہوچکی ہے اور مزید کہا: اے محمد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو سلام کہتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا: وہ کیسے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو امام حسینکے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: میرے اس بیٹے کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا جو امام علی بن الحسین کہلائے گا وہ امام سید العابدین ہے؛ جب قیامت کے دن منادی ندا دے گا کہ "امام سید العابدین اٹھے"، تو وہی اٹھے گا اور امام علی بن الحسین کے ہاں ایک فرزند پیدا ہوگا جو محمد کہلائے گا؛ اے جابر جب اسے دیکھو اس کو میری طرف سے سلام پہنچاؤ؛ اے جابر جان لو کہ امام مہدی(عج) اسی کی نسل سے ہیں؛ اے جابر! اس کے بعد آپ کی زندگی کم ہے)۔
    حياۃ الإمام محمّد الباقر عليہ السلام دراسۃ وتحليل - ج 1، ص25؛ بحوالہ:تاريخ ابن عساكر 51 / 41 من مصورات مكتبۃ الامام أمير المؤمنين۔
  86. مسنداحمدبن حنبل، ج3، ص292ـ 400.
  87. خیرالدین زرکلی، الاعلام، ج2، ص104.
  88. خطیب بغدادی، الکفایۃ فی علم الروایۃ، 1406، ص392؛ سزگین، ج1، ص85؛ ترجمہ عربی، ج1، جزء 1، ص154ـ 155.
  89. نجم عبد الرحمن خلف، استدراکات علی تاریخ التراث العربی لفؤاد سزگین فی علم الحدیث، ص32.
  90. حکایات صحابہ : مولانا محمد زکریا
  91. (مسند:۳/۳۰۰،بخاری:۲/۵۸۰)
  92. (مسند:۳/۳۳۴)
  93. (فتح الباری:۷/۳۰۵)
  94. (طبقات :۲۰۳)
  95. (مسند:۳/۲۳۱)
  96. (مسند:۳/۳۴۳)
  97. (نزہۃ الابرار قلمی)
  98. ابن قتیبہ، المعارف، ص307.۔
  99. ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، ص359۔
  100. یوسف بن عبد الرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص446.
  101. آج کا تیونس؛ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، ص359.۔
  102. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ـ1386، ج10، ص545.
  103. عباس قمی، تحفۃ الاحباب فی نوادر آثار الاصحاب، ص40؛ ایران میں جابر کے اعقاب و احفاد کے سلسلے میں مزید آگہی کے حصول کے لیے واثقی، حسین واثقی، جابربن عبد اللہ الانصاری، ص31ـ34.
  104. ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص191ـ192.
  105. مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص453ـ545.
  106. نیزابن قتیبہ، المعارف، ص307.
  107. (مسند:۲۰۳)
  108. (ادب المفرد بخاری)
  109. (الباری:۱/۱۵۹)
  110. (مسند:۲/۲۸۱)
  111. (بخاری:۱/۵۳۶)
  112. (مسند:۳/۳۶۹)
  113. (مسند:۳/۳۶۹)
  114. (مسند:۳/۲۲۰)
  115. (مسند:۳/۳۷۷)
  116. (مسند احمد۳,۳۷۷)
  117. (مسند احمد،۳،۳۳۴)
  118. (مسند احمد)
  119. (مسند احمد)
  120. (نساء:۱۷۶)
  121. (مسند احمد)
  122. (مسند احمد)
  123. (مسند:۳/۳۱۴)
  124. (مسند:۳/۳۷۲)
  125. (مسند:۳/۳۰۳)
  126. (مسند:۳/۳۰۸)
  127. (مسند:۳/۲۸۵،۳۵۹)
  128. (مسند احمد)
  129. (مسند احمد)
  130. (مسند احمد)
  131. (مسند:۳/۳۷۱)
  132. (مسند:۳/۳۳۵)
  133. (مسند:۳/۳۳۲)
  134. (بخاری:۲/۵۹۹)
  135. (بخاری:۲/۵۹۹)

مآخذ[ترمیم]

  • ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت: چاپ عادل احمد رفاعی، 1996ء/1417ھ۔
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت: 1385ـ 1386/ 1965ـ1966۔
  • ابن اشعث کوفی، الاشعثیات (الجعفریات)، چاپ سنگی، تہران: مکتبۃ نینوی الحدیثہ، بے تا۔
  • ابن بابویہ، عیون اخبار الرضا، بیروت: چاپ حسین اعلمی، 1404/1984۔
  • ابن بابویہ، کتاب من لا یحضرہ الفقیہ، قم: چاپ علی¬اکبر غفاری، 1414۔
  • ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۃ، قم: چاپ علی¬اکبر غفاری، 1363 ہجری شمسی۔
  • ابن بابویہ، معانی الاخبار، چاپ علی‌اکبر غفاری، قم 1361 ہجری شمسی۔
  • ابن حبّان، مشاہیر علما الامصار و اعلام فقہا الاقطار، بیروت: چاپ مرزوق علی ابراہیم، 1408/1987۔
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بیروت: چاپ علی محمد بجاوی، 1412/1992۔
  • ابن حزم، الاحکام فی اصول الاحکام، قاہرہ: چاپ احمد شاکر، بے تا۔
  • ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، چاپ عبد السلام محمد ہارون، قاہرہ، 1982۔
  • ابن حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، بیروت: دارصادر، بے تا۔
  • ابن سعد (لائڈن)؛
  • ابن شبّہ نمیری، کتاب تاریخ المدینۃ المنورۃ: اخبار المدینۃ النبویۃ، جدّہ: چاپ فہیم محمد شلتوت، 1399/ 1979، قم: چاپ افست، 1368 ہجری شمسی۔
  • ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، قم: چاپ ہاشم رسولی محلاتی، بے تا۔
  • ابن عبد البرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، بیروت: چاپ علی محمد بجاوی، 1412/1992۔
  • ابن عبد البرّ، جامع بیان العلم و فضلہ و ماینبغی فی روایتہ و حملہ، قاہرہ: 1402/1982۔
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، بیروت: چاپ علی شیری، 1415ـ1421/ 1995ـ 2000۔
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ 1960؛
  • ابن قیم جوزیہ، اعلام الموقعین عن رب العالمین، بیروت: چاپ طہ عبد الرؤف سعد، 1973۔
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت: چاپ علی شیری، 1408/ 1988۔
  • عبد الحسین امینی، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، قم: 1416ـ1422/ 1995ـ2002۔
  • احمد بن محمد برقی، کتاب الرجال، تہران: 1383۔
  • احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، دمشق: چاپ محمود فردوس العظم، 1996ـ2000۔
  • تستری، قاموس الرجال؛
  • ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، تہران: چاپ جلال الدین محدث ارموی، 1355 ہجری شمسی۔
  • احمد بن علی خطیب بغدادی، تقیید العلم، بیروت: چاپ یوسف عش، 1974۔
  • خطیب بغدادی، الرّحلۃ فی طلب الحدیث، بیروت: چاپ نور الدین عتر، 1395/1975۔
  • خطیب بغدادی، الکفایۃ فی علم الروایۃ، بیروت: چاپ احمد عمر ہاشم، 1406/1986۔
  • نجم عبد الرحمن خلف، استدراکات علی تاریخ التراث العربی لفؤاد سزگین فی علم الحدیث، بیروت: 1421/2000۔
  • ابوالقاسم خوئی، معجم رجال الحدیث؛
  • ذہبی، سیر اعلام النبلا؛
  • خیرالدین زرکلی، الاعلام، بیروت: 1986۔
  • فؤاد سزگین، تاریخ التراث العربی، ج1، جزء 1، نقلہ الی العربیۃ محمود فہمی حجازی، ریاض: 1403/ 1983۔
  • محمد بن حسن صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، قم: چاپ محسن کوچہ باغی تبریزی، 1404۔
  • عبد الرزاق بن ہمام صنعانی، تفسیرالقرآن، ریاض: چاپ مصطفٰی مسلم محمد، 1410/1989۔
  • طبرسی؛ طبری، تاریخ (بیروت)۔
  • طبرسی، جامع؛ محمد بن حسن طوسی، التبیان فی تفسیرالقرآن، چاپ احمد حبیب قصیر عاملی، بیروت بی‌تا۔
  • طبرسی، رجال الطوسی، قم: چاپ جواد قیومی اصفہانی، 1415۔
  • طبرسی، کتاب الخلاف، قم 1407ـ1417۔
  • طبرسی، مصباح المتہجد، بیروت 1411/ 1991۔
  • محمد بن ابوالقاسم عمادالدین طبری، بشارۃ المصطفٰی لشیعۃ المرتضی، نجف: 1383/1963؛
  • محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، بیروت: 1405/1985۔
  • عباس قمی، تحفۃ الاحباب فی نوادر آثار الاصحاب، تہران 1369۔
  • محمد بن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، [تلخیص] محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد: 1348 ہجری شمسی۔
  • کلینی؛ محمدبن اسماعیل مازندرانی حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، قم: 1416۔
  • یوسف بن عبد الرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، بیروت: چاپ بشار عواد معروف، 1422/2002۔
  • مسعودی، مروج (بیروت)؛ محمدبن محمد مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج¬اللہ علی العباد، قم: 1413۔
  • حسین واثقی، جابر بن عبد اللہ الانصاری: حیاتہ و مسندہ، قم: 1378 ہجری شمسی۔

انگریزی ماخذ[ترمیم]

  • Fuat Sezgin, Geschichte des arabischen Schrifttums، Leiden لائڈن 1967–1984

بیرونی ربط[ترمیم]

سانچے[ترمیم]