مندرجات کا رخ کریں

جارج ایلیٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جارج ایلیٹ
جارج ایلیٹ (میری این ایونز) بہ سال 1850ء
پیدائشمیری این ایونز
22 نومبر 1819(1819-11-22)
نیونیٹن، واروِک شائر، انگلستان
وفات22 دسمبر 1880ء(1880-12-22) (61 سال)
چیلسی، لندن، انگلستان
آخری آرام گاہہائی گیٹ قبرستان (مشرقی)، ہائی گیٹ، لندن
قلمی نامجارج ایلیٹ
پیشہناول نگار، شاعرہ، صحافی، مترجمہ
دوروکٹوریائی عہد
نمایاں کامسینز آف کلیریکل لائف (1857ء)
ایڈیم بیڈ (1859ء)
دی مل آن دی فلاس (1860ء)
سائلس مارنر (1861ء)
رومولا (1862–1863ء)
فیلکس ہالٹ، دی ریڈیکل (1866ء)
مڈل مارچ (1871–1872ء)
ڈینیئل ڈیرونڈا (1876ء)
شریک حیاتجان کراس (ش۔ 16 مئی 1880ء)
ساتھیجارج ہنری لوئس (1854ء–1878ء)

دستخط

جارج ایلیٹ (اصل نام: میری این ایونز یا میریئن[1][2] ، پیدائش: 22 نومبر 1819ء – وفات: 22 دسمبر 1880ء) وکٹوریائی عہد کی نامور انگریز ناول نگار، شاعرہ، صحافی اور مترجمہ تھیں۔[3] وہ اپنے مردانہ قلمی نام جارج ایلیٹ سے معروف تھیں اور وکٹوریائی دور کی نمایاں ترین ادیبات میں شمار کی جاتی ہیں۔

ایلیٹ نے سات ناول تحریر کیے: ایڈم بیڈ (1859ء)، دی مل آن دی فلاس (1860ء)، سائلس مارنر (1861ء)، رومولا (1862ء–1863ء)، فیلکس ہالٹ، دی ریڈیکل (1866ء)، مڈل مارچ (1871ء–1872ء) اور ڈینیئل ڈیرونڈا (1876ء)۔ ان کے بیشتر ناول دیہی انگلستان کے پس منظر میں لکھے گئے ہیں اور حقیقت نگاری، نفسیاتی بصیرت، مقامی ماحول اور دیہی زندگی کی جیتی جاگتی عکاسی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے شہرۂ آفاق ناول مڈل مارچ کو ورجینیا وولف نے ”بالغ افراد کے لیے لکھے گئے چند انگریزی ناولوں میں سے ایک“ کہا[4] جبکہ مارٹن ایمِس[5] اور جولیئن بارنز[6] نے اسے انگریزی ادب کا سب سے عظیم ناول قرار دیا۔

ایلیٹ کی ذاتی زندگی بھی غیر روایتی تھی۔ 1854ء سے 1878ء تک وہ شادی شدہ ادیب اور فلسفی جارج ہنری لوئس کے ساتھ ازدواجی تعلق میں رہیں اور انھیں اپنا شوہر کہا حالانکہ لوئس اپنی بیوی ایگنس جیرِوس سے قانونی طور پر علاحدہ نہیں ہوئے تھے۔[7] لوئس اپنی بیوی اور اس کے بچوں کی کفالت کرتے رہے باوجود اس کے کہ وہ کسی اور شخص کے ساتھ جا بسی تھیں۔ لوئس کی وفات (1878ء) کے بعد ایلیٹ نے مئی 1880ء میں اپنے دیرینہ دوست جان کراس سے شادی کی، جو ان سے عمر میں خاصے چھوٹے تھے اور اس کے بعد انھوں نے اپنا نام میری این کراس رکھ لیا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ Rosemary Ashton (1996). George Eliot: A Life (بزبان انگریزی). London: Hamish Hamilton. p. 255. ISBN:978-0-241-13473-3.
  2. ↑ Alexandra Jacobs (13 Aug 2023). "George Eliot's Scandalous Answer to 'The Marriage Question'". The New York Times (بزبان انگریزی). Retrieved 2023-08-20.
  3. ↑ "George Eliot (…) is the most earnestly imperative and the most probingly intelligent of the great mid-Victorian novelists". In: Sanders, Andrew The Short Oxford History of English Literature. Clarendon Press, 1994. p. 440
  4. ↑ Woolf, Virginia. "George Eliot." The Common Reader. New York: Harcourt, Brace, and World, 1925. pp. 166–176.
  5. ↑ Long, Camilla.Martin Amis and the sex war, The Times, 24 January 2010, p. 4: "They've [women] produced the greatest writer in the English language ever, George Eliot, and arguably the third greatest, Jane Austen, and certainly the greatest novel, Middlemarch..."
  6. ↑ Shusha Guppy [انگریزی میں]. "Interviews: Julian Barnes, The Art of Fiction No. 165". The Paris Review (بزبان انگریزی) (Winter 2000). Retrieved 2012-05-26.
  7. ↑ Kathryn Hughes (2001). George Eliot: the last Victorian (بزبان انگریزی). New York: Cooper Square Press. ISBN:978-0-8154-1121-5.