جارج فلائڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جارج فلائڈ
Wandbild Portrait George Floyd von Eme Street Art im Mauerpark (Berlin).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: George Perry Floyd Jr. ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 14 اکتوبر 1973[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فائیٹویل، شمالی کیرولینا[2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 مئی 2020 (47 سال)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
منیاپولس[3]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات اختناق[4]  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل[4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش سینٹ لوئس پارک، مینیسوٹا[7]
منیاپولس (2014–2020)  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا[2]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد
وزن
عارضہ کووڈ-19[8]  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد
عملی زندگی
مادر علمی ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی–کنگزویل  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ریپر[9]،  ٹرک ڈرائیور[2]،  باسکٹ بال کھلاڑی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان امریکی انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل باسکٹ بال،  امریکی فٹ بال  ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام و سزا
جرم چوریفی: 1998)سزا: imprisonment)[10]
غیر قانونی تجارت منشیاتفی: 2004)[10]  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جارج فلائڈ (انگریزی: George Floyd) ایک سیاہ فام ریاستہائے متحدہ امریکا کے شہری تھے۔ وہ محض ایک جعلی ڈالر کی نوٹ کے رکھنے کی وجہ سے ملک کی پولیس کی گرفت میں آگئے تھے۔ یہ قتل اس ملک میں سیاہ فام افراد کے دوسرے درجے کے شہری کے متصور ہونے کی ایک مثال سمجھا جانے لگا، کیوں کہ پولیس نے از خود ان کی گردن پر کافی دیر تک پاؤ رکھا تھا، جس سے موت واقع ہو گئی۔ خاطی پولیس اہل کار ضمانت پر رہا ہو گیا تھا۔[11] ملک اور بیرون ملک نسل پرستی کے خلاف زبر دست احتجاج ہوا۔ سماجی میڈیا پر #BlackLivesMatter کا خوب چلن ہوا، جس میں سیاہ فاموں کے خونوں کو ارزاں سمجھنے کے خلاف کافی احتجاج کیا گیا۔

اس کے جواب میں کئی اور ہیش ٹیگ وجود میں آئے، جیسے کہ #MuslimLivesMatter کیونکہ دنیا کے کئی قطعوں پر مسلمان اور دیگر سماجی گروہ خود کو دوم درجے کے شہری اور پولیس اور حکمران طبقے کے نشانے پر سمجھتے تھے۔[12]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]