جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم
جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان پاکستان کے قدیم اور نمایاں دینی اداروں میں سے ایک ہے، جسے غزالِ زماں، مفسرِ قرآن اور ممتاز عالمِ دین مولانا سید احمد سعید کاظمی (1913ء–1986ء) نے قائم کیا۔ یہ ادارہ برصغیر میں سلسلۂ کاظمیہ کی علمی و روحانی روایت کے فروغ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ مولانا کاظمی نے 1935ء میں ملتان کی طرف ہجرت کی اور ابتدائی طور پر اپنے گھر ہی میں تدریسِ قرآن و حدیث کا آغاز کیا۔ ان کے حلقۂ درس میں روزانہ علما، طلبہ اور اہلِ ملتان کی بڑی تعداد شریک ہوتی تھی، جس کے پیشِ نظر ایک باقاعدہ دینی درس گاہ کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی۔[1] [2]
عمارت کی تعمیر اور درس و تدریس کا آغاز
[ترمیم]جامعہ کی عمارت کی تعمیر مارچ 1944ء میں مکمل ہوئی جس کے بعد ماہِ شوال 1363ھ مطابق ستمبر 1944ء میں باقاعدہ تدریس کا آغاز کر دیا گیا۔ اس موقع پر قریبی علاقوں کے متعدد طلبہ نے داخلہ لیا اور جلد ہی یہ ادارہ جنوبی پنجاب میں اعلیٰ دینی تعلیم کا ایک معتبر مرکز بن گیا۔ جامعہ کی افتتاحی تقریبات 9، 10 اور 11 دسمبر 1944ء کو منعقد ہوئیں، جنہیں اُس دور کے ممتاز علما، مشائخ اور سماجی شخصیات نے ’’تاریخی اجتماع‘‘ قرار دیا۔ اس اجتماع میں مولانا کاظمی نے دینی تعلیم کی اہمیت، اسلامی علوم کی ترویج اور نوجوان نسل کی تربیت کے حوالے سے تفصیلی خطاب کیا جسے بعد میں مختلف جرائد نے شائع بھی کیا۔
مختلف شعبہ جات کی تقسیم اور کار گردگی
[ترمیم]جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں درسِ نظامی، تجوید و قراءت، حدیث، تفسیر، فقہ، منطق، عربی ادب اور افتاء (تخصص فی الفقہ) جیسے متعدد شعبہ جات قائم ہیں۔ مولانا کاظمی کے بعد ان کے صاحبزادگان اور تلامذہ نے اس دینی مرکز کی علمی خدمات کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ ادارے کی توسیع بھی کی۔ جامعہ کی لائبریری میں نادر مخطوطات، فارسی و عربی کے قدیم نسخے اور برصغیر کے اکابر علما کی تصانیف شامل ہیں، جو تحقیقی اعتبار سے نہایت قیمتی سمجھی جاتی ہیں۔
دستار بندی و سالانہ تقریب کی ملک گیر افادیت
[ترمیم]یہ ادارہ سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت منعقد کرتا ہے جس میں ملک بھر سے علما شریک ہوتے ہیں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے پاکستان اور بیرونِ ملک مساجد، جامعات، مدارس اور تحقیقی مراکز میں خدمات سر انجام دیں اور اسے علمی طور پر ایک معتبر دینی ادارہ کے طور پر منوایا۔ اس کے علاوہ جامعہ میں مختلف ملکی و بین الاقوامی دینی وفود کی آمد باعثِ افتخار سمجھی جاتی ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "دارالعلوم انوارالعلوم ملتان – تعارف"۔ Kazmis.com۔ 2013-10-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-23
- ↑ تاریخ جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان
بیرونی روابط
[ترمیم]- دفتری ربط جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتانآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ kazmis.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)