جامعہ اشرفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرض وجود میں آگیا جس کے فوراً بعد حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری قدس سرہٗ امرتسر سے لاہور تشریف لے آئے حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ جب لاہور تشریف لائے تو ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا۔ لیکن حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ نے ان تمام امور سے صرف نظر فرماتے ہوئے سب سے پہلے جس چیز کا سوچا وہ ایک دینی درسگاہ کا قیام تھا۔ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ جیسے عالم ربانی کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی۔ آپ کے خدام میں ایک خادم نصیر پراچہ (مرحوم) بھی تھے جنہوں نے محلہ نیلا گنبد کی بلڈنگ دیکھی اور اس کے بارے میں حضرت مفتی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ جگہ دینی درسگاہ کےلیے موزوں رہے گی چنانچہ جب حضرت نے اس عمارت کو دیکھا تو اس جگہ کو جامعہ کے لیے پسند کیا۔ اور یہاں 24 ستمبر 1947ء کو جامعہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی،

مولانا محمد عبیداللہ 1953ء سے 1961ء تک جامعہ اشرفیہ لاہور میں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ناظمِ تعلیمات کے عہدہ پر بھی فائز رہے اس دوران حضرت مفتی محمد حسن ؒ نے اپنی زندگی میں ہی آپؒ کو جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم کا عہدہ تفویض فرمادیا۔ آپ ؒ وفات (2016ء) تک 55 سال مہتمم کے منصب پر فائز رہے اور آپ ؒ نے اس منصب کا حق ادا کیا آپ ؒ کے اخلاص و للہیت کی وجہ سے جامعہ اشرفیہ لاہور بڑی تیزی کے ساتھ ترقی اور اپنی علمی و دینی منازل طے کرتے ہوئے آج پوری دنیا میں ثانی دارالعلوم دیوبند کی حیثیت سے مشہور و معروف ہے اس وقت پوری دنیا میں جامعہ اشرفیہ لاہور کے فیض یافتہ دین حنیف کی خدمت میں مصروف ہیں اور حرمین شریفین میں بھی جامعہ کے فضلاء درس و تدریس کے فرائض سرانجام دینے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ سے تعلیمی فراغت پانے کے بعد سینکڑوں طلبہ نے ایم فل ،پی ایچ ڈی ، ایم بی بی ایس، انجینئرنگ اور قانون کی ڈگریاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف ،صحافت و خطابت اور دعوت و ارشاد کے میدانوں میں قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں

اس دوران جامعہ اشرفیہ لاہور کوعالم اسلام کی سرکردہ اور ممتاز شخصیات کی میزبانی کا شرف بھی حاصل رہا، شیخ الازہر ، مفتی اعظم فلسطین، مسجد اقصیٰ کے سابق امام کے ساتھ ساتھ خصوصی دعوت پر ہردلعزیز امامِ کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد ا لرحمن السدیس حفظہ اللہ2007ء میں پاکستان تشریف لائے اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں نماز فجر کی امامت فرمائی جسے پوری دنیا میں میڈیا کے ذریعہ براہ راست دیکھا اور سنا گیا۔اسی طرح امام کعبہ فضیلۃالشیخ ڈاکٹر خالد الغامدی حفظہ اللہ نے بھی دورۂ پاکستان کے دوران 25 اپریل 2015ء بروز ہفتہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں مہتمم حضرت مولانا محمد عبیداللہ المفتیؒ کی زیر سرپرستی تاریخ ساز تحفظ حرمین شریفین کانفرس میں بھی شرکت کرتے ہوئے جامعہ اشرفیہ لاہور میں نماز ظہر کی امامت فرمائی۔ اور پھر 9 مارچ 2018ء کو امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب حفظہ اللہ نے نماز مغرب کی امامت کی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، امامِ کعبہ کے دورہ پاکستان سے جہاں ایک طرف پاک سعودی تعلقات میں مزید مضبو طی اور استحکام کا باعث بنا وہاں پوری دنیا میں جامعہ اشرفیہ سمیت دیگر دینی مدارس کی عظمت پوری دنیا پر واضح ہوئی، مولانا محمد عبیداللہ نے کم و بیش 55 سال تک جامعہ اشرفیہ لاہور میں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ مسجد الحسن جامعہ اشرفیہ لاہور میں جمعۃ المبارک کا خطبہ دیتے ہوئے نماز پڑھائی، جامعہ کے مجلہ "الحسن" کے مدیر بھی رہے،