جامعہ دارالعلوم کراچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جامعہ دار العلوم کراچی پاکستان کا سب سے بڑا دینی ادارہ ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1951ء میں مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب نوراللہ مرقدہ اور ان کے دست راست، داماد مولانا نور احمد رحمہ اللہ نے نے رکھی۔ حضرت مفتی صاحب تقسیم ہند سے قبل دارالعلوم دیوبند میں کئی سال صدر مفتی کے عہدے پر فائز رہے۔ اور 1947ء میں تقسیم کے بعد پاکستان کے شہر کراچی تشریف لا کر یہ عظیم ادارہ قائم فرمایا۔

ادارے کے ناظم اول مولانا نوراحمد تھے جن کی انتھک محنت کی بدولت دیکھتے ہی دیکھتے کورنگی کا وہ صحرا ایک عظیم الشان علمی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ اس وقت اس ادارے کے صدر مفتی شفیع صاحب کے فرزند مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب ہیں۔ اور نائب صدر ان کے چھوٹے بھائی مفتی تقی عثمانی صاحب ہیں۔ اس عظیم درسگاہ کے قیام کی تاریخ کچھ یوں ہے۔

مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نوراللہ مرقدہ اور مولانا نور احمد رح نے نہایت بے سروسامانی کے عالم میں محض توکلاًعلی اللہ، صرف دو اساتذہ اور چند طلبہ سے محلہ نانک واڑہ میں ایک پرانے اسکول کی بلڈنگ میں ایک مدرسہ اسلامیہ قائم فرمادیا۔ جس کا نام دار العلوم کراچی قرار پایا۔ یہ دار العلوم شوال 1370؁ھ مطابق جون 1951؁ء میں قائم ہوا۔

دار العلوم کے قیام کے بعد پاکستان کے تمام صوبوں اور اضلاع سے طلبہ جمع ہو گئے مزید برآں، ہندوستان، برما، انڈونیشیا، ملائیشیا، افغانستان، ایران، ترکی وغیرہ اسلامی ممالک سے طلبہ کا رجوع ہوا، جس سے بحمداللہ دار العلوم کراچی نے بہت قلیل عرصہ میں عالم اسلام میں دین کے مضبوط قلعہ کی حیثیت اختیار کرلی جو دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ ِعلوم نبوت اور داعیان دین کا مرکز بن گیا۔ اور بظاہر ایک بڑی عمارت بھی طلبہ کی کثرت سے آمد کے سبب تنگ محسوس ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی مسلسل دعاؤں اور ان کے دست راست مولانا نوراحمد کی حیرت انگیز صلاحیتوں اور ان کے جذبۂ صادقہ کی بدولت کورنگی میں چھپن (56) ایکڑ کا وسیع رقبۂ زمین مع ایک دو منزلہ عمارت اور پختہ کنویں اور ڈیزل انجن وغیرہ کے، جناب حاجی ابراہم دادابھائی مقیم جنوبی افریقہ نے لوجہ اللہ دار العلوم کے لیے وقف فرمادیا۔ شکراللہ سعیہ و جزاہ فی الدارین خیر الجزاء