جامعہ صدیقیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جامعہ صدیقیہ
جامعہ صدیقیہ
Darul uloom.JPG
شعار رَبِّ زدْنيِ عِلْماً (عربی)
قسم Islamic seminary
قیام 1990
الحاق اسلام (دیوبندی مکتبہ فکر)
طلبہ +500
مقام کراچی، سندھ، پاکستان Flag of پاکستان
وابستگیاں

Wifaq ul Madaris العربیہ پاکستان اور

Board of Secandry Education کراچی
ویب سائٹ Official Website

جامعہ دار العلوم صدیقیہ پاکستان کے شہر کراچی کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا شمار شمالی کراچی کی چند بڑی دینی درسگاہوں میں ہوتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کی سن بنیاد1990ء میں مولانا مشکور ہاشمی صاحب صاحب نے اپنے استاد مولانا صدیق احمد صاحب باندوی کے نام پر رکھی۔ مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندوی کا نام ہندوستان و پاکستان والوں کے لیے کسی تعارف کا محتاج نہیں،حضرت اپنے علم و تقوی میں یگانۂ روزگار تھے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ میرے موجودہ مدرسہ یہاں تک پہنچا مگر اسی انتساب کی وجہ سے ۔

الحاق[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ دارالعلوم دیوبند، دیوبند ہندوستان کی ہزاراں شاخوں میں سے ایک شاخ ہے اور تدریسی و امتحانی معاملات میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحق ہے۔ یہاں قرآن و حدیث کے علاوہ مذاپب اربعہ خاص طور پر امام اعظم اہل سنت امام ابو حنیفہ کے فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اس ادارے کا الحاق میڑک، انٹر اور گریجویشن کے مقامی بورڈز سے بھی ہے۔

خصوصیت[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کراچی کے ان چند مدارس میں سے ہے جہاں درس نظامی کے ساتھ ساتھ گریجویشن تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس ادارے کا نصاب ایک طرف [درس نظامی] جیسی ٹھوس استعداد پیدا کرنے والے نصاب کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے تو دوسری طرف ایک ایسا نصاب مرتب کیے ہوئے ہے، جس سے علماء کرام کی عصری علوم میں بھی مہارت پیدا ہوگی اور یہ نظام تعلیم نیاد پرست، انتہا پسندکا طعنہ دینے والے دانشوروں کے عقل و دانش پر خندۂ زن ہوگی۔ گواس ادارے کی انفرادیت ہے کہ وہ جہاں ان نام نہاد دانشوروں کا زعم خاک میں ملا رہاہے،وہاں علما کے اندر آنے والی احساس کمتری کو احساس برتری سے بدل رہا ہے۔

علاقہ کی حالت[ترمیم]

دار العلوم کے قیام سے قبل علاقے کی حالت[ترمیم]

جس علاقے میں جامعہ دار العلوم صدیقیہ واقع ہے وہاں اس مد رسے سے قبل بداعت وجہالت عام تھی۔ لوگ دین کی بنیادی معلومات سے بھی ناآشنا تھے۔ خاتم النبین حضرت محمد صلہ و علیہ وسلم کی مقدس سنتوں کے مقابلے میں لوگوں کی خود تراشی بدعات عام ہوچکی تھیں، رمضان المبارک میں میں تراویح کی ادائیگی کے لیے پورے علاقے میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی حافظ قرآن نہیں ملتا تھا۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لیے کوئی بھی شخص مسجد میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ علاقے کی مرکزی مسجد انتہائی زبوحالی کا شکار تھی جو اہل علاقہ کی دینی معاملات سے عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

دار العلوم کے قیام کے بعد علاقے کی حالت[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کے قیام کے بعد اس سے محلق علاقے میں کئی انقلابی تبدلیاں رونما ہوئیں، جہاں علاقے میں پھیلی بدعات اور جہالت میں خاطر خواہ کمی آئی وہاں اہل علاقے میں دینی علوم کا احیاء ہوا۔ اب اس عالاقے میں حفاظ قرآن کی بڑی تعداد موجود ہے جو ناصرف اس علاقے بلکہ بیرون بھی اپنی خدمات پیش کر رہی ہے۔ مہتمم دارلعلوم مولانا مشکور ہاشمی صاحب اور دارلعلوم کے دیگر اساتزہ کی انتہک محنت سے علاقے کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد صوم و صلاۃ کی پابند اور باشرع ہوچکی ہے۔ [دارلعلوم] کے مختصر فہم دین کورس رات کے اوقات میں کاروباری اور ملازمت پیشہ حضرات کے علاوہ عصری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے ضروری دینی علوم کے حصول کا مناسب، موثر اور کامیاب ذریعہ بن چکے ہیں

جامعہ کے شعبہ جات[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کا آغاز قرآن کی حفظ اور ناظرا کلاسوں سے ہو تھا مگر اب یہ مکمل تعلیم و اصلاصی ادارہ بن چکا ہے جہاں قرآن مجید کے حفظ و ناظرے کے علاوہ درس نظامی۔ میٹرک سے گریجویشن کی تک کی تعلیم، کمپیوٹر اور انگلیش و عربی لینگویج کی اعلا تعلیم دی جاتی ہے۔ ادارے میں قائم مختلف شعبہ جات مندرجہ ذیل ہیں

  • شعبہ دردجہ ناظرہ و حفظ
  • شعبہ درجہ درس نظامی
  • مدرسہ بنات
  • کمپیوٹر لیب
  • سائنس لیبارٹری
  • شعبہ مستورات
  • شعبہ فہم دین
  • شعبہ انگریزی و عربی زبان

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کے مختلف ریگولر پروگرامز[ترمیم]

فہم دین کورس[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کے فہم دین کورس کی کلاسیں ہفتہ میں تین دن جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو بعد نماز عشاء ہوتی ہیں، ان کلاسوں میں ہر عمر کے طلبہ زیر تعلیم ہیں جن کی اکژیت کاروباری و ملازمت پیشہ حضرات اور عصری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی ہے۔ ان کلاسوں میں دار العلوم صدیقیہ کے مستند علما حضرات، فقہ، تجوید اور عربی زبان کے بنیادی مظامیں پڑھاتے ہیں۔ ان تمام مضامین کے سالانہ امتحانات بھی لیے جاتے ہیں۔

نوٹس بورڈ تحریک[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کی نوٹس بورڈ تحریک ایک اچھوتا اور کامیاب پروگرام ہے جس میں ہر دوسرے ہفتہ حالات حاضرہ کی مناسبت سے دینی و فکری مضامیں دار العلوم صدیقیہ سے ملحق جامع مسجد خضراء میں نسب نوٹس بورڈ پر چسپاں کیے جاتے ہیں۔ جہاں ان مضامین کو اہل محلہ میں بہت س رہایا اور پسند کیا جا رہا ہے وہاں یہ تبلیغی دین کا ایک اچھوتا ذریعہ بن چکا ہے۔ ماشاء اللہ

دارلعلوم کا سہ ماہی مجلہ الصدیق[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ کا سہ ماہی مجلہ الصدیق دارلعلوم کا ترجمان رسالہ ہے جس کا مقصد دینی علوم کی ترویج اور دعوت فکر ہے۔ اس رسالے کا پہلا ایڈیشن بہت جلد طباعت کے مراعل گزر کر شائع ہو جائے گا۔ اس ایڈیشن میں مختلیف موضوعات پر فکری اور تحقیقی مضامین کے علاوہ۔ مدرسے کا تعارف اور اس کے مقاصد، علمائے کرام کے انڑویوز اور ادبی مقالات شامل ہوں گے۔

نمایاں خدمات[ترمیم]

جامعہ دار العلوم صدیقیہ پچھلے 18 سالوں سے دینی و عصری علوم کی موتیاں بکھیرنے میں مصروف عمل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک اس ادارے سے 300 حفاظ فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔ دار العلوم صدیقیہ کی ایک خاص خوصیت یہ بھی ہے کہ فارغ التحصیل حفاظ کی اکثریت مسافر کی بجائے مقامی طلبہ پر مشتعمل ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]