جامعہ نظامیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ضد ابہام صفحہ کے لیے معاونت نظامیہ سے مغالطہ نہ کھائیں۔


جامعہ نظامیہ
جامعہ نظامیہ
تاسیس 1876ء
الحاق سنی اسلام[1]
عطیہ عوامی امداد
امیر جامعہ حضرت مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری
شیخ الجامعہ حضرت مولانا مفتی خلیل احمد
مقام حیدر آباد، تلنگانہ، بھارت
شاخ شبلی گنج حیدرآباد
وابستگیاں خود مختار ( عوامی امدادی ادارہ )۔
ویب سائٹ www.jamianizamia.org

جامعہ نظامیہ بھارت میں سنی مکتبہ فکر کے مطابق اعلیٰ اسلامی تعلیم کے چنداہم قدیم ترین مدارس میں سے ایک ہے۔[1]

تاریخ[ترمیم]

اس کی بنیاد شیخ الاسلام امام حافظ محمد انواراللہ الفاروقی ملقب فضیلت جنگ (یہ لقب انہیں نظام دکن کی طرف سے دیا گیا) نے حیدر آباد، بھارت میں 1876ء میں رکھی۔ میر عثمان علی خان (حیدر آباد کے نظام ہفتم) کے دور میں اس نے خوب ترقی کی۔ 146 سال سے زیادہ عرصہ سے جامعہ نے فقہ اسلامی اور علوم اسلامی کی متصل خلافت یعنی اجازت اور اسناد کے ذریعے حفاظت کی ہے جو 14 صدیوں پہلے مختلف علماء کے واسطے سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمﷺسے جا ملتی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران جامعہ نظامیہ کے اساتذہ کے تحقیقی کام کا ہی نتیجہ تھا کہ ریاست حیدرآباد برصغیر کی علمی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر کام کرتی رہی۔ برصغیر اور خصوصاً دکن کی اسلامی تاریخ میں جامعہ کا بڑا کردار ہے۔

تنظیم[ترمیم]

بھارت کے یونیورسٹی گرانٹ ایکٹ 1956ء کے مطابق جامعہ نظامیہ یونیورسٹی نہیں ہے اس لیے یہ سند جاری نہیں کر سکتی۔ جامعہ نظامیہ کے موقع جال کے مطابق ان کی "مولوی"، "عالم"، "فاضل" اور "کامل" کی اسناد جامعہ عثمانیہ میں مشرقی زبانوں کی اسناد جیسا کہ B.A.L. اور M.A.L. کے برابر تسلیم کی جاتی ہیں۔ B.A. کی انگریزی زبان کے مضمون کا امتحان پاس کرنے کے بعد جامعہ کے درجہ فاضل کے طلباء جامعہ عثمانیہ میں M.A. میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں جامعہ کی اسناد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ الازہر مصر، جامعہ ام القری مکہ، اسلامک یونیورسٹی مدینہ اور کویت یونیورسٹی میں بھی تسلیم کی جاتی ہیں۔[2] 1995ء میں جامعہ نے خواتین کے لیے ایک کالج (بنام کلیة البنات ) قائم کیا۔[3]

پچھلے سال جامعہ کے عربی زبان کے طلباء عربی کال مراکز پر نوکری ملی اور 2004ء سے 2007ء کے دوران جامعہ کے طلباء کی تعداد 500 سے 1300 تک پہنچ گئی۔[4]

جامعہ نظامیہ کا 2004-2005 کا بجٹ 97,72,000.00 بھارتی روپیہ (220,000 امریکی ڈالر) تھا[5]، سنہ 2004 تا 2005 میں اخراجات 1,41,56,000 بھارتی روپیہ (2004ء میں 31,5000 امریکی ڈالر) تھے۔[6]

مشہور فارغ التحصیل شخصیات[ترمیم]

  • علامہ ابوالوفاء محمود الافغانی( احیاء المعارف النعمانیہ)۔

مفتی رکن الدین (خلیفہ حضرت شیخ الاسلام )۔

  • علامہ حاجی منیر الدین شاذلی (خطیب مکہ مسجد)۔

علامہ حکیم محمد حسین نقشبندی ۔

  • مولانا عبدالوهاب عندلیب ۔
  • مولانا غلام احمد ۔
  • مولانا قاضی غلام محی الدین ( مولف :نصاب اہل خدمات شرعیہ )۔
  • علامہ مفتی محمود کان اللہ لہ۔
  • علامہ مفتی عبدالحمید (امیر ملت اول)۔
  • شیخ الشیوخ شاہ محمد شطاری۔
  • علامہ حسام الدین فاضل(امیر ملت دوم)۔

سالم باحطاب ( مفتی شافعی )۔

مولانا عبداللہ مداھج۔

مولانا عبدالرحمن بن محفوظ الحمومی۔

مولانا عثمان (شیخ التفسير جامعہ) ۔

  • علامہ امجد حیدرآبادی (شاعر رباعیات)۔
  • علامہ سید مسعود میاں۔
  • علامہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدرآبادی فرانسیسی (محقق ، مبلغ ، مترجم قرآن و سیرت نگار )۔
  • سید شاہ ابراہیم ادیب الرضوی۔
  • سری بروگلو راما کرشنا راو ( اولین وزیر اعلٰی آندھرا پردیش)۔
  • مولانا الطاف حسین فاروقی ۔
  • مولانا عبد الواحد اویسی ( مجلس اتحاد المسلمین)۔
  • سید شاہ طاہر الرضوی (صدر الشیوخ)۔

مفتی حافظ ولی اللہ (مدرسہ نعمانیہ)۔

  • امام القراء میر روشن علی سنا۔
  • جلالة العلم علامہ سید حبیب اللہ قادری المعروف رشید پاشا۔

پروفیسر سلطان محی الدین (جامعہ عثمانیہ )۔

  • علامہ قاری محمد عبدالباری (قاری نشرگاہ ، مترجم قرآن)۔
  • مفتی مخدوم بیگ۔
  • مولانا مفتی حافظ ولی اللہ ۔
  • مفتی سید مخدوم حسینی۔

خورشید علی ( لائبریرین سالار جنگ میوزیم لائبریری )۔

مولانا عبد الشکور کرنولی۔

  • سری باگا ریڈی ( وزیر آندھرا پردیش)۔
  • علامہ حافظ و قاری محمد عبد اللہ قریشی ازہری(خطیب مکہ مسجد)۔
  • مفتی ابراہیم خلیل الہاشمی ۔
  • مفتی محمد عظیم الدین۔
  • پروفیسر سید عطاء اللہ حسینی ملتانی ( جامعہ ملیہ، کراچی، پاکستان)۔
  • علامہ خواجہ شریف( ثروة القاري)۔

مفتی عبدالجليل (بہار ) ۔

قاضی عبدالقادر ( قاضی شریعت پناہ بلدہ حیدرآباد )۔

  • پروفیسر سمیع اللہ خان ( دائرة المعارف)۔
  • پروفیسر عبد المجید صدیقی( جامعہ عثمانیہ )۔

سید امین الدین ازھری(خلیج)۔

  • مفتی سیدصادق محی الدین فہیم (دار الإفتاء و القضاء )۔

حامد قریشی (شارجہ )۔

حافظ مظہر علی ( دبئی )۔

  • حافظ مفتی سید رؤوف علی قادر ی ملتانی(محبوب نگر)۔
  • قاری شمس الدین زمان (عالمی انعام یافتہ برائے حسن قرات و اذان)۔
  • پروفیسر سید یوسف حسینی (بیجاپور)۔
  • مفتی عبدالرشید (گلبرگہ)۔
  • ڈاکٹرسید جہانگیر ( انگلش اینڈ فارن لینگویجیس یونیورسٹی حیدرآباد)۔
  • ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری ( جامعہ عثمانیہ )۔
  • مولانا رفیق احمد انواری (رائچور)۔
  • حافظ محمد عبدالقدیر نقشبندی (صدر انجمن طلبہ قدیم)۔

مولانا فصیح الدین نظامی ( شیخ الاسلام لائبریری اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن )۔

  • قاری بشیر القادری (اجمیر)۔
  • الشیخ حسن الھیتو (کویت)۔
  • شاعر خلیج جلیل نظامی ( دوحہ قطر)۔
  • نوید افروز نوید (جدہ)۔

ڈاکٹر محمد سراج اللہ خان (چارمینار ہاسپٹل )۔

ڈاکٹرمحمد سراج احمد نظامی (دمام)۔

  • سید عزیز اللہ قادری۔

سید افضل بیاباں خسرو پاشاہ (چئیرمین وقف بورڈ آندھراپردیش )۔

  • مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر ( امریکہ )۔


  • مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی( ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر )۔
  • حافظ محمد لطیف احمد ملتانی ( امام مکہ مسجد)۔
  • حافظ محمد رضوان قریشی(خطیب مکہ مسجد)۔
  • حافظ فریدالدین سر قاضی (ویلور)۔
  • سعید بن مخاشن (مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی لکھنؤ )۔
  • مولانا محمد مخدوم احمد معشوقی (جامعہ عثمانیہ)۔
  • مفتی سکندر چشتی (جئے پور)۔
  • سید مصباح الدین حسینی ( نظام کالج )۔

عبدالخالق قمر (روزنامہ سہارا )۔

سید زبیر ہاشمی ( روزنامہ سیاست )۔

مفتی انوار احمد ( روزنامہ اعتماد )۔

حافظ محمد جیلانی ( روزنامہ منصف )۔

عبدالرشید جنید ( ہفت روزہ گواہ )۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 "Despite Jamia Fatwa Milad-un-Nabi Extravagant in Hyderabad | TwoCircles.net"۔ twocircles.net۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 July 2015۔ 
  2. Jamia Nizamia Website: Recognition
  3. Jamia Nizamia to have Internet, Islamic Voice, August 2000
  4. Arabic call center jobs lapped up by Jamia Nizamia univ students sulekha, 29 May 2007
  5. Jamia Nizamia Website: Budget 2000-01: 78,97,480.00 INR, Budget 2004-05: 97,72,000.00 INR, Budget 2006-07: 3,27,21,892.85 INR
  6. Jamia Nizamia Website: Expenditure 2000-01: 72,21,000 INR, Expenditure 2004-05: 1,41,56,000 INR, Expenditure 2006-07: 2,24,71,803 INR

بیرونی روابط[ترمیم]