جامعۃ الحبیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

}}

جامعة الحبيب کھریپڑ شریف حبیب آباد ، تحصیل پتوکی ، ضلع قصور یہ آستانہ کھریپڑ شریف کے نام سے بھی معروف ہے جہاں کے بزرگوں میں خواجہ عالم محمد اشرف لالہ پاک صاحبزادہ پیر سردار احمد عالم قادری سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ [1]


بانی :- خواجہ عالم محمد اشرف لالہ پاک رحمة الله عليه ناظم اعلیٰ :- صاحبزادہ پیر سردار احمد عالم قادری (سجادہ نشین آستانہ عالیہ کھریپڑ شریف) پرنسپل :- پروفیسر سعید احمد الأزہری ناظم تعلیمات :- علامہ مشتاق احمد اشتیاق


ہمیں اپنے عظیم اسلاف پر فخر ہے جنہوں نے برصغیر میں صحیح نہج پر تعلیم و تربیت کے لیے اسلامی تعلیمی ادار ے قائم کیے۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل فضلائ نے اسلام کا حیات بخش پیغام مشرق و مغرب میں پہنچایا اور علوم و فنون میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جانباز مجاہدجنہوں نے دلوں کی مملکتوں کو فتح کیا اور قلوب کے ظلمت کدوں میں چراغ روشن کیے وہ انہی درس گاہوں کے پروردہ تھے‘ جن میں علومِ اسلامیہ کی تدریس ہوتی تھی۔ مسلمان حکمران بھی تہذیب و ثقافت کے نور کو پھیلانے کے لیے اور علمی معیار کو بلند کرنے کے لیے کثیر سرمایہ خرچ کرتے اور یہاں سے فراغت پانے والے علمائ زندگی کے ہر شعبہ میں اعلیٰ عہدوں پرفائز ہوتے۔اس وقت نصابِ تعلیم تمام علوم و فنون پر مشتمل ہوتا تھا۔

یہ علمی سرگرمی اپنے عروج پر رہی‘ لیکن مغربی سامراج کے ہندوستان پر قابض ہونے کے بعد یہ تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ علمی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں‘ تعلیمی ادارے اور کتب خانے علمی سرمایہ سے محروم ہو گئے اور علمائ پر ظلم و ستم کی حد کردی گئی۔ انگریز نے اپنے استعماری مقاصد کی تکمیل کے لیے نیا نصاب تعلیم متعارف کروایا جو قدیم اسلامی نصاب سے یکسر متصادم تھا۔

ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو لوٹانے کے لیے قرآن و حدیث کا نظام نافذ کیا جائے اور وہی نصابِ تعلیم متعارف کروایا جائے جس کے ذریعے مسلمانوں کو عروج حاصل ہوا۔اسلام ایک مؤثر اور فیصلہ کن قوت کی حیثیت سے اسی صورت میں ز ندہ رہ سکتا ہے کہ ایسے مدارس کا قیام عمل میں لایا جائے‘ جہاں علوم قرآن و حدیث کی تدریس کا اہتمام ہو تاکہ ان درس گاہوں کے فیض یافتہ عالم انسانیت کو بھلائی کی طرف بلانے‘ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے بازرکھنے کا اہم فریضہ ادا کرسکیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد دینی غیرت اور قومی حمیت کے حامل علمائ و مشائخ نے وقت کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اور مسلمانوں کی زبوں حالی اور علمی پستی کو دیکھتے ہوئے نامساعدحالات کے باوجود دینی مدارس کے قیام کی طرف فوری توجہ دی۔ ایسے دینی ادارے قائم کیے گئے جہاں سے فارغ ہونے کے بعد طلبہ نہ صرف علومِ دینیہ میں ٹھوس قابلیت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ علومِ جدیدہ سے واقفیت کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان عظیم مدارس میں ایک درخشاں نام جامعۃ الحبیب ہے‘ جو طویل عرصے سے علومِ اسلامیہ اور فنون و معارف کی ترویج میں کوشاں ہے۔ یہ ایسا سراجِ منیر ہے جس کے انوار سے جہالت کی تاریکیاں کافور ہو رہی ہیں۔ یہ ایسا شیریں گھاٹ ہے جس سے ہر وہ شخص سیراب ہو سکتا ہے جو فکر صائب‘ علم قیم اوراور معرفت صحیحہ کا متلاشی ہے۔[2]

اس عظیم درس گاہ کی تاسیس

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://m.youtube.com/channel/UCPNJqJmFqVc_QyDcVurlyAg
  2. https://www.facebook.com/jamiaalhabib/