جامع محمد امین
| ||||
|---|---|---|---|---|
| ملک | ||||
| جگہ | بیروت | |||
| تاسیس سال | 2005 | |||
![]() |
||||
| إحداثيات | 33°53′42″N 35°30′23″E / 33.894969444444°N 35.506369444444°E | |||
| درستی - ترمیم | ||||
جامع محمد امین بیروت، لبنان میں واقع ایک عظیم الشان مسجد ہے جو دار الحکومت بیروت کے وسط میں ساحۃ الشہداء (شہداء کا چوک) میں واقع ہے۔ یہ لبنان کی سب سے بڑی اور شاندار مساجد میں شمار ہوتی ہے اور تقریباً پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے۔
اس جامع کی بنیاد ابتدا میں 1853ء میں ایک صوفی زاویہ کے طور پر رکھی گئی، جسے "زاویہ الشیخ محمد أبو النصر" (پیدائش: 1801ء) کا نام دیا گیا۔ سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبد المجید (1839–1861ء) نے شیخ کی دینی خدمات کے اعتراف میں انھیں ایک زمین عطا کی تاکہ وہ وہاں عبادت، دینی تعلیم اور صوفی اذکار کے لیے زاویہ قائم کریں۔ بعد ازاں، شیخ محمد ابو نصر نے اس زاویہ کو ایک چھوٹی مسجد میں تبدیل کر دیا، جس کا نام انھوں نے "محمد امین" رکھا، یعنی "محمد امانت دار"، جو پیغمبر اسلام محمد کے لقب کی طرف اشارہ ہے۔
بیسویں صدی کے وسط میں اس مسجد کو وسعت دینے کا منصوبہ سامنے آیا اور اس مقصد کے لیے چندہ بھی جمع کیا گیا، تاہم لبنانی خانہ جنگی کے باعث منصوبہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ پھر 2002ء میں، اس پرانے مسجدی مقام پر نئے جامع کی تعمیر کا سنگ بنیاد لبنانی وزیر اعظم مرحوم رفیق حریری نے رکھا۔[1]

جامع محمد امین کی عمارت، جو شہداء چوک اور شارع امير بشير کے سامنے واقع ہے، کا کل رقبہ 10,700 مربع میٹر ہے، جو چار منزلوں پر مشتمل ہے۔ مسجد کی گنبدیں نیلگوں فیروزی رنگ سے مزین ہیں اور اس کی چار بلند میناریں بیروت کے کئی علاقوں سے دیکھی جا سکتی ہیں۔[2]
مسجد کا عمومی طرز تعمیر عثمانی اور لبنانی انداز پر مبنی ہے، جبکہ اس کی نقش و نگار اور معماری کی تفصیلات مملوکی طرز کی ہیں۔ اس کی چھتیں بڑے بڑے کرسٹل کے فانوسوں سے آراستہ کی گئی ہیں۔ مسجد کے قریب ہی لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کا مقبرہ واقع ہے، جو 14 فروری 2005 کو ایک خودکش دھماکے میں اپنے قافلے کے ساتھ شہید ہو گئے تھے۔[3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ جامع «محمد الأمين» تحفة معمارية في وسط بيروت جريدة الشرق الأوسط تاريخ النشر 9 نوفمبر 2008 - تاريخ الوصول 29 أكتوبر 2010 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2020-05-16 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ جامع «محمد الأمين» تحفة معمارية في وسط بيروت جريدة الشرق الأوسط تاريخ النشر 9 نوفمبر 2008 - تاريخ الوصول 29 أكتوبر 2010 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2020-05-16 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ بيروت... بين زاوية الشيخ محمد أبو النصر اليافي وجامع محمد الأمين الحياة تاريخ النشر 15 مايو 2010 آرکائیو شدہ 2020-05-16 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]


