جامع مسجد بھلائی
| جامع مسجد بھلائی | |
|---|---|
چھتیس گڑھ میں مسجد کا محل وقوع | |
| بنیادی معلومات | |
| مقام | بھلائی، درگ ضلع، چھتیس گڑھ |
| متناسقات | 21°12′05.1″N 81°21′00.2″E / 21.201417°N 81.350056°E |
| مذہبی انتساب | اہل سنت |
| ملک | بھارت |
| مذہبی یا تنظیمی حالت | مسجد |
| حیثیت | فعال |
| سربراہی | حافظ اقبال حیدر انجم (امام) |
| تعمیراتی تفصیلات | |
| معمار | خیر الدین احمد صدیقی |
| نوعیتِ تعمیر | اسلامی فن تعمیر |
| سنگ بنیاد | 1964ء |
| سنہ تکمیل | 1967ء |
| تفصیلات | |
| گنجائش | 3،000 نمازی |
| لمبائی | 36 میٹر (118 فٹ) |
| چوڑائی | 30 میٹر (98 فٹ) |
| انتہائی بلندی | 18 میٹر (59 فٹ) |
| گنبد | ایک |
| گنبد کی اونچائی (خارجی) | 5 میٹر (16 فٹ) |
جامع مسجد بھلائی بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع درگ میں واقع ایک اہم اور خوبصورت عبادت گاہ ہے جو بھلائی شہر کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد نہ صرف اپنی مذہبی اہمیت کے لیے جانی جاتی ہے بلکہ اپنی منفرد تعمیراتی ساخت کے لیے بھی مشہور ہے کیونکہ اس کی شکل عربی لفظ "یا اللہ" کے حروف سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ خطے کی بڑی مساجد میں سے ایک ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں نمازیوں کی گنجائش موجود ہے اور یہ بھلائی اسٹیل پلانٹ کے قریب سیکٹر 6 میں واقع ہے۔
تعمیر اور ساخت
[ترمیم]جامع مسجد بھلائی کی تعمیر 1967ء میں مکمل ہوئی تھی اور اس کا فن تعمیر جدید اور روایتی اسلامی طرز کا حسین امتزاج ہے۔ مسجد کا نقشہ اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ فضائی منظر یا بلندی سے دیکھنے پر یہ واضح طور پر یا اللہ لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے جو اسے دنیا بھر کی مساجد میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ اس کا مینار 80 فٹ سے زائد بلند ہے اور مرکزی گنبد اپنی وسعت اور پائیداری کے لیے جانا جاتا ہے۔ مسجد کے اندرونی ہال میں ستونوں کا کم سے کم استعمال کیا گیا ہے تاکہ نماز کے دوران صفوں میں کوئی رکاوٹ پیدا نطہ ہو اور ایک وقت میں تین ہزار سے زائد نمازی باآسانی عبادت کر سکیں۔مسجد کے مرکزی معمار خیرالدین احمد صدیقی تھے جنھوں نے صدیقی اینڈ ایسوسی ایٹس، حیدرآباد، تلنگانہ کی مدد سے اسے تعمیر کیا، خیر الدین کی وفات ۔[1][2]
مذہبی اور سماجی اہمیت
[ترمیم]یہ مسجد بھلائی اور گرد و نواح کے مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا مذہبی مرکز ہے۔ یہاں روزانہ کی پانچ وقتہ نمازوں کے علاوہ جمعہ کی نماز، عیدین کے اجتماعات اور ماہِ رمضان میں تراویح کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ مسجد کی انتظامیہ مقامی کمیونٹی کے فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اور یہاں ایک تعلیمی مرکز (مدرسہ) بھی قائم ہے جہاں بچوں کو دینی و عصری تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ مسجد بھلائی اسٹیل پلانٹ کے ملازمین اور مقامی رہائشیوں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ جامع مسجد بھلائی کی مذہبی خدمات اور روحانی رہنمائی کے لیے ممتاز علما کرام وابستہ رہے ہیں۔
پہلے امام اجمل الدین حیدر
[ترمیم]مسجد کے پہلے باقاعدہ حافظ سید اجمل الدین حیدر تھے جنھوں نے 1968ء سے 2013ء تک اس منصب پر خدمات سر انجام دیں۔ ان کی طویل وابستگی نے مسجد کی تعمیر و ترقی اور مقامی کمیونٹی کی مذہبی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سید اجمل الدین حیدر 1942ء میں پٹنہ (بہار) میں پیدا ہوئے اور 1952ء میں ان کا خاندان مستقل طور پر درگ منتقل ہو گیا۔ ان کے والد مولانا افضل الدین حیدر بھی ایک جید عالم تھے جو 1952ء سے جامع مسجد درگ کے امام رہے اور ان کا مزار سوپیلا قبرستان، بھلائی میں ہے۔ حافظ سید اجمل الدین حیدر نے اپنی تعلیم دار العلوم اسلامیہ ناگپور سے مکمل کی اور روحانی طور پر آپ کا تعلق تصوف کے مشہور سلاسل قادریہ، چشتیہ اور اشرفیہ سے ہے۔ ان کی علمی و روحانی خدمات کی وجہ سے خطے میں انھیں خاصا احترام حاصل ہے[3][4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Khairuddin Ahmad Siddiqui
- ↑ "معروف معمار خیرالدین احمد صدیقی کی دسویں برسی پر خراج تحسین"
- ↑ "Jama Masjid - Bhilai"۔ wikimapia.org
- ↑ "Laws of India : The Madhya Pradesh Public Trusts Act, 1951"۔ lawsofindia.org۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 2015-06-10۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-06-10
{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ناموزوں یوآرایل (link)