جام درک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اٹھارہویں صدی کا بلوچی صوفی شاعر۔

تعارف[ترمیم]

جام درک کا تعلق ڈومکی بلوچ قبیلے سے تھا۔ وہ ڈومبکی قبیلہ کے سردار کرم خان کے صاحبزادہ تھا۔

شاعری[ترمیم]

اس نے نہ صرف عوامی کہانیوں کو منظوم کیا بلکہ بلوچی شاعری میں تغزل کو معراج تک پہنچایا۔ اس کی زبان تشبیہات اور استعارات خالص بلوچی ہیں۔ اس نے عرب اور ایران کی رومانی داستانوں لیلی مجنوں اور شیریں فرہاد کو بلوچی نظم میں ایسے لکھا کہ یہ کردار بلوچی معلوم ہونے لگے۔ اس کی مشہور ترین نظمیں ’’بھمبور کی پریاں‘‘ اور ’’غسل کرتی عورتیں ‘‘ ہیں۔

زندگی[ترمیم]

وہ ناصر اول کے زمانے میں قلات آ گیا اور اس کی سرپرستی مختلف علوم سے فیض حاصل کیا۔ شاہی خانذادے کے علاوہ عام لوگ بھی ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں عشق مجاذی کے حوالے سے عشق حقیقی کی روحانی گتھیاں سلجھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ وہ شاہی خانذادے کی کسی خاتون پر فریفتہ ہو گئے تھے۔ کیونکہ ان کی بہت سی شاعری اور گیت اسی امر کے غماز ہیں کہ وہ حسن فطرت کے ساتھ ساتھ اپنے کسی مجاذی محبوب کی تعریف میں رطب اللسان ہیں او عشق نے ان کی روح میں آگ بھڑکا رکھی ہے۔ جام درک کی شاعری عوام الناس کے لیے شعری عطیہ کے علاوہ صوفیانہ روحانی قوتوں کی حامل بھی نظر آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ستغراق کے عالم میں خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے وقتدنیا و مافیا سے بے خبر ہو جاتے تھے۔ اور اس عالم میں بے خودی کے سرخوشی کے عالم میں جو شاعری تخلیق کرتے تھے وہ اعلی صوفیانہ اقدار کی حاصل ہوا کرتی تھی۔ جام درک کی نظموں میں فی البدیہہ اور رواں طرز اظہار ساحل پر پھیلتی سکڑتی موجوں کی طرح معلوم ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ روحانی تجربوں سے گزر کر وہ بنی نوع انسان کو حقیقت مطلق تک رسائی کا راستہ بجھا رہے ہیں انہی خصوصیات کی بنا پر بلوچی زبان میں ان کی شاعری بے حد مقبول ہوئی۔ اپنی عوامی ثقافت، روایات اور طرز زندگی کو اپنی شعری تخلیقات میں س قدر سودینا کہ وہ حقیقت کے قریب تر نظر آئیں جام درک کا ہی کمال ہے۔

انتقال[ترمیم]

جام درک کا 1784ء میں انتقال ہوا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

جام درک کا تعارف جام درک کی بلوچی شاعری کا ایک نمونہ