جام نظام الدین دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جام نظام الدین دوم
(سندھی میں: ڄام نظام الدين عرف‎)،(اردو میں: جام نظام الدين ثاني‎ ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 24 اگست 1440  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹھٹہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1509 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹھٹہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مکلی قبرستان، ٹھٹہ  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد جام فیروز الدین، دولہا دریا خان  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد جام سنجر  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سندھ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1461  – 1508 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جام سنجر 
جام فیروز الدین  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

جام نظام الدین دوم عرف جام نندو سمہ سلطنت کے 17ویں حاکم تھے۔[1] آپ نے سنہ 896ھ بمطابق (1490ء) میں تخت سنبھالا۔ نہایت ہی پ رہی زگار اور پابند شریعت تھے۔ بچپن سے ہی علم سے بیحد لگاؤ تھا اور اکثر کتب خانے میں وقت گذارتے تھے۔ نماز و عبادت کے پابند تھے۔ ان دنوں مساجد نمازیوں سے بھری ہوا کرتی تھی۔ کچھ وقت ساموئی رہنے کے بعد بکھر پہنچے۔ وہاں بلوچ ڈاکوؤں کو سزائیں دے کر، اپنے غلام دلشاد کو بکھر کا ناظم مقرر کرنے کے بعد واپس ساموئی آئے۔ ان کے عہد حکومت میں رعایہ سکھ و چین سے زندگی بسر کرتی تھی۔ سیاحوں اور تاجروں کو ہر قسم کی سہولت تھی۔ ملتان کے لانگاه سلاطین اور گجرات کے مظفریہ سلاطین کے ساتھ دوستی تھی۔ مسلمانوں کے خلاف جنگ اور ناحق خون ریزی کو ناپسند کرتے تھے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جنت السنده، صفحہ 290
  2. تحفة الكرام: جلد-3، ذكر جام نندو