بہیمیت
بہیمیت[1] یا استلذاد بالحیوان یا وطی الحیوان[2] (انگریزی: Zoophilia یا Bestiality) ایک نسانی جماع کی بے راہ روی ہے جس میں کسی انسان کی ماورائے انسان حیوانات سے جنسی خواہشات کی تسکین پر توجہ مرکوز ہوتی ہے۔[3] حالاں کہ جانوروں سے جنسی خواہشات کی تکمیل کچھ ممالک میں غیر قانونی نہیں ہے، تاہم جنسی تسکین کے لیے جانوروں کے استعمال پر کئی ممالک میں غیر قانونی دفعات درج ہیں جو جانوروں سے بد سلوکی اور قدرت کے خلاف جرائم کے زمرے میں شامل ہیں۔ المختصر وطی بالحیوان سے مراد کسی انسان کا کسی جانور سے مباشرت کرنا ہے چاہے اس کے لیے مقعد یا اندام نہانی کا استعمال کیا جائے۔ یہ عمل تعزیراتِ ہند کی دفعہ 377 کے تحت قابل تعزیر جرم مانا جاتا ہے۔ اس فعل کے لیے گھر یلو اور پالتو جانوروں کا استعمال کیا جاتا ہے مثلاً گدھا، سور، بکری، مرغی، کتا یا بلی وغیرہ۔ عام طور پر مرد اس کام کے لیے بھیڑوں کا استعمال کرتے ہیں جب کہ عورتیں بلی اور کتوں کا استعمال کرتی ہیں کیونکہ ان کو یہ جانور بآسانی دستیاب ہوا کرتے ہیں۔[2]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ شیخ منہاج الدین (1965)۔ قاموس الاصطلاحات (پہلا ایڈیشن)۔ لاہور: مغربی پاکستان اردو اکیڈمی۔ ص 891
- 1 2 طب القانون و علم السموم۔ نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان۔ 2021۔ ص 253۔ ISBN:9789391511067
- ↑ R. Ranger؛ P. Fedoroff (2014)۔ "Commentary: Zoophilia and the Law"۔ Journal of the American Academy of Psychiatry and the Law Online۔ ج 42 شمارہ 4: 421–426۔ PMID:25492067
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر بہیمیت سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- Encyclopedia of Human Sexuality entry for "Bestiality" at Sexology Department of Humboldt University, Berlin.
- Zoophilia References Database Bestiality and zoosadism criminal executions.
- Animal Abuse Crime Databaseآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ pet-abuse.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) search form for the U.S. and UK.