جان تھامپسن پلاٹس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جان تھامپسن پلاٹس
PLATTS, JOHN THOMPSON
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 اگست 1830(1830-08-01)
تاریخ وفات ستمبر 21، 1904(1904-90-21) (عمر  74 سال)
قومیت برطانیہ
عملی زندگی
مادر علمی بالیول کالج، آکسفورڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ تدریس

جان تھامپسن پلاٹس جامعہ اوکسفرڈ میں فارسی کے اسکالر اور مدرس تھے۔ فارسی زبان کے قواعد پر ان کی تحریر کافی مشہور ہوئی۔ انہوں نے گلستان سعدی کا انگریزی ترجمہ کیا۔ اسی طرح انہوں نے اردو قواعد، اردو اور روایتی ہندی لغت پر بھی کام کیا۔

خاندان[ترمیم]

جان تھامپسن، رابرٹ پلاٹس کے دوسرے فرزند تھے۔ والد کی بے وقت موت سے ان کی ماں اور وسیع خاندان کو مالی مشکلات پیش آئے تھے۔[1]

برطانوی ہند میں قیام[ترمیم]

جان تھامپسن کو برطانیہ کے بیڈفورڈ اسکول میں شریک کیا گیا۔ تاہم وہ بیس سے کچھ سال اوپر تھے جب وہ برطانوی ہند ہی میں لوٹ آئے۔ وہ بنارس کالج میں ریاضی کے استاد کے طور پر 1858ء سے 1859ء کے بیچ پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد وہ مدھیہ پردیش کے سوگڑھ اسکول کے صدرمدرس بنائے گئے تھے۔ 1861ء میں وہ پھر بنارس کالچ کے ہیڈماسٹر اور ریاضی کے پروفیسر کے طور پر لوٹے۔ وہ 1864ء سے 1868ء تک شمال مشرقی صوبوں میں سیکنڈ سرکل کے اسسٹنٹ انسپکٹر آف اسکولز بنے رہے۔ پھر اسی علاقے کا انہیں برسرعہدہ انسپکٹر بنا دیا گیا۔ وہ 17 مارچ 1872ء کو خراب صحت کی وجہ سے وظیفے پر سبکدوش ہوئے تھے اور اس کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان چلے گئے۔[1]

ازواج و اولاد[ترمیم]

1874ء میں انگلستان میں دو سال کے قیام کے بعد جان تھامپسن کی پہلی بیوی ایلس جین (جن کا شادی سے پہلے خاندانی نام کینیان تھا)، گزر گئی۔ اس شادی سے تین بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئے تھے۔ 4 اکتوبر 1876ء کو جان تھامپسن نے دوسری بار شادی کی۔ دوسری بیوی میری ایلیزبیتھ (جن کا شادی سے پہلے خاندانی نام ڈَن تھا)، جان ہاییس کی بیوہ تھی جو ایک معمار اور کمپیوٹر (surveyor) تھے اور شادی سے ایک لڑکا پیدا ہوا تھا۔[1]

انگلستان میں ابتدائی سرگرمیاں[ترمیم]

جان تھامپسن ایلنگ (Ealing) میں مقیم ہوئے۔ وہ اپنا وقت ہندی، اردو اور فارسی پڑھانے کے ساتھ علمی تحقیق بھی کرتے تھے۔ 1870ء میں انہوں نے گرامر آف ہندوستانی آر اردو لینگویج (Grammar of the Hindustani or Urdu Language) چھپوایا۔ وہ 1 فروری 1881ء کو بلیول کالج (Balliol College) سے فارغ التحصیل ہوئے جب انہیں ایم اے کی سند ملی۔ یہ سند ایک اعلامیہ کے ذریعے انہیں 19 مارچ 1901ء کو عطا کی گئی تھی۔[1]

ادبی تخلیقات[ترمیم]

بوستان سعدی کا سرورق

جان تھامپسن نے گلستان سعدی کا ترجمہ کیا تھا۔ اس کے دو ایڈیشن 1871ء اور 1873ء میں شائع ہوئے۔ اس میں فارسی متن کے الفاظ کو حروف تہجی کے اعتبار ترتیب دیے گئے تھے اور انگریزی میں تشریحات اور تلفظ فراہم کیے گئے تھے۔ اس کے بعد ایلیکزینڈر روجرس کی شرکت کے ساتھ انہوں نے سعدی کے بوستان کا ترجمہ 1891ء میں کیا تھا۔ ناشر نے فوٹو لیتھوگرافی کے ذریعے ایک ایسا مسودہ چھاپا جو 1871ء اور 1872ء کے ہندوستان کے ایک پیشہ ورانہ خطاط کا تیار کردہ تھا۔ جان تھامپسن نے اردو اور روایتی ہندی کی ایک لغت 1884ء میں چھپوائی جس میں 50,000 الفاظ شامل تھے۔ اس میں ہر لفظ نستعلیق، دیوناگری اور رومن رسم الخط میں چھپا تھا، جس کے بعد نحوی تشریح اور انگریزی متبادل دیے گئے تھے۔ وہ فارسی قواعد پر بھی کام کیے تھے، مگر ان کی زندگی میں صرف پہلا حصہ چھپا۔ 12 ستمبر 1904ء کو جان تھامپسن کی اجانک موت کے بعد ان کے دوست جارج ایس اے رینکنگ (1854ء-1934ء) نے پہلا حصے کی نظرثانی کا کام کیا اور دوسرے حصے یعنی زبان کی ترتیب پر کام کیا۔[1]

انتقال[ترمیم]

جیساکہ اوپر کے قطعے میں مذکور ہے، 12 ستمبر 1904ء کو جان تھامپسن پلاٹس کا انتقال ہو گیا۔ 26 ستمبر 1904ء کو جان تھامپسن کو وولورکوٹ قبرستان میں دفیایا گیا جو آکسفورڈ کے قریب ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]