جاوید حیات کاکاخیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جاوید حیات کاکاخیل
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1958 (عمر 63–64 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل سید
مذہب اسلام
اولاد خسرو حیات
نوید حیات
رشتے دار نیت قبول حیات کاکاخیل (والد)
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Sign JavedH.png

جاوید حیات کاکاخیل گلگت بلتستان کے ضلع غذر سے تعلق رکھنے والے کھوار زبان کے کہنہ مشق شاعر، ادیب، مصنف اور لکھاری ہیں۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی[ترمیم]

جاوید حیات کاکاخیل 11 نومبر 1958ء کو گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں والئیے (کاکاخیل) قوم سے ہے جو ضلع غذر کے حکمران اقوام کی فہرست میں شامل ہے۔ [1] آپ کے والد بابائے غذر نیت قبول حیات کوہ غذر کے چارویلو اعلیٰ رہے ہیں۔[2] ایف سی آر کے خاتمے کے بعد آپ کے والد سے عہدہ جب چھن گیا اس وت آپ کی عمر صرف تیرہ سال تھی۔ بیٹوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے لاڈ پیار ملا۔

تعلیم[ترمیم]

جاوید حیات کاکاخیل کے والد بابائے غذر نیت قبول حیات کاکاخیل ایف سی آر کے وقت کوہ غذر میں ایک سرکاری افیشل رہے تھے۔ گلگت بلتستان کے پہلے مشہور پولی ٹیکل ایجنٹ سردار محمد عالم خان کی طرف سے ان کو چارویلو اعلیٰ کا لقب بھی ملا تھا۔ جاوید حیات کاکاخیل نے ابتدائی تعلیم آغا خان ڈائمنڈ جوبلی سکول گولاغمولی سے ہی حاصل کی۔ چونکہ آپ کے والد ایف آر کے ایام میں ایک گورنمنٹ افیشل تھے، اور گورنر کوہ غذر مہتر راجا حسین علی خان کے ساتھ کافی مراسم تھے،  پرائمری تعلیم کے بعد آپ کے والد نے ۱۹۷۰ ء کو آپ کو گورنرراجا حسین علی خان کے ساتھ رکھا۔ گوپس قلعے میں رہتے ہوئے آپ نے مڈل سکول کی تعلیم حاصل کی۔ میڑک  تعلیم کے لئے آپ کو سن ۱۹۷۵ ء کو گلگت منتقل ہونا پڑا اور سرسید احمد خان ہائی سکول (گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱)گلگت سے میٹرک  بعد انٹرمیڈیٹ بھی مکمل کی اور۱۹۷۷ء کو  درس و تدریس کے پیشے کے ساتھ منسلک ہوگئے۔

ادبی سفر[ترمیم]

تعلیم سے فراغت کے بعد شاعری کو اپنا لیا۔ شاعری کو اس نے خطے کے مفاد، عوام کی آگاہی اور نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا اور اس میں کافی نام کمایا۔ غذر میں اس نے انجمن ترقی کھوار اور بزم ترقی کھوار غذر کے نام سے ایک ادبی تنظیم کا بنیاد رکھا جس کا بنیادی مقصد غذر میں کھوار زبان کی ترویج، شاعروں کی حوصلہ افزائی اور نوجوان شاعروں کو اعلیٰ سطح کے پلیٹ فارمز تک پہنچانا ہے۔

جاوید حیات کاکاخیل کی شاعری کی ابتداء ستر کی دہائی میں چترال سے جمہور اسلام کھوار نام کے ایک ماہنامہ رسالہ سے ہوئی۔ ۱۹۷۵ء کو ایک حمد باری تعالیٰ سے ادبی سفر کا آغاز جاوید حیات کاکاخیل کے لئے نیک شگون رہا۔ جاوید حیات کاکاخیل کی ابتدائی شاعری کھوار زبان کے اسی مشہور رسالے میں شائع ہوتیں رہیں۔ ۲۰۱۸ ء میں انہوں نے اپنی شاعری کی بے مثال شاہکار گرزین کی طباعت کا کام مکمل کروایا۔[3] [4] کتاب کی تقریب رونمائی کی مرکزی تقریب چترال میں منعقد ہوئی[5]۔ کتاب میں جاوید حیات کاکاخیل نے مختلف صنف میں شاعری کی ہوئی ہے۔ ان کی شاعری کا محور دنیا کی تلخیان ہے۔ اور اسی میں ہی ان کی اپنی شاعری بھی نشر ہوتے رہتے ہیں۔

جاوید حیات کاکاخیل کھوار کے گلستان کو سر سبز رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ گلگت بلتستان کے معروف شاعر و ادیب عبدالخالق تاجؔ لکھتے ہیں؛۔

جاوید حیات کاکاخیل اکثر کھوار میں لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ ان کو شاعری کے تمام اصناف پر عبور حاصل ہے۔ اگر چہ گلگت بلتستان کی زبانیں ذخیرہ الفاظ کے حوالے سے تنگ دامنی کا شکار ہیں، مگر جاوید حیات نے ذخیرہ الفاظ کو ایک نئی طرح دے کے اس کمی کو پورا کیا ہے۔ ان کی کتاب گرزین ہی سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک گلدستہ ہے۔ گلدستہ اس لیے کہ اس میں ہر صنف کی شاعری دیکھنے کو ملتی ہے۔ حمد، نعت، ملی نغمے، مرثیے، نظم اور غزلیات نے مل کر رنگ برنگی کا سماں پیدا کیا ہے۔ غذر میں کھوار شاعروں میں گل اعظم خان گل، خوش بیگیم کے عاشق آمان جیسے شاعر ہو گزرے ہیں۔ مگر ان کی شاعری لکھی ہوئی صورت میں موجود نہیں۔ مگر جاوید حیات کاکاخیل نے ان کی تاریخ بینی اور شاعری پر کافی تحقیق کیا ہے۔

جاوید حیات کاکاخیل کی مشہور زمانہ کتاب گرزین نے ۲۰۱۹ء میں ملکی سطح کے ادبی میلے میں کھوار زبان کی نمائندگی کی۔[6]۔ یہ ادبی میلہ لوک ورثہ اسلام آباد میں سالانہ منعقد ہوتا ہے

تصانیف[ترمیم]

  • گرزین (کھوار شعری مجموعہ) سال اشاعت ۲۰۱۸ء
  • حیاتو آرزو (زیر طبع)
  • حیات اللغت (زیر طبع) کھوار زبان کی زخیم لغت

حوالہ جات[ترمیم]