جاوید میانداد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جاوید میانداد
Javed-miandad.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نام محمد جاوید میانداد
بلے بازی دائیں ہاتھ سے
گیند بازی دائیں ہاتھ سے لیگ بریک گگلی
حیثیت ماہر بلے باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 71) 9 اکتوبر 1976  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
آخری ٹیسٹ 16 دسمبر 1993  بمقابلہ  زمبابوے
ایک روزہ پہلا (کیپ 15) 11 جون 1975  بمقابلہ  ویسٹ انڈیز
آخری ایک روزہ 9 مارچ 1996  بمقابلہ  بھارت
قومی کرکٹ
سالٹیم
کراچی
حبیب بنک
گلمورگن Glamorgan
سسکس Sussex
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ فرسٹ کلاس
میچ 124 233 402
رنز بنائے 8832 7381 28663
بیٹنگ اوسط 52.57 41.70 53.37
سنچریاں/ففٹیاں 23 / 43 8 / 50 80 / 139
ٹاپ اسکور 280* *119 311
گیندیں کرائیں 1470 436 12688
وکٹیں 17 7 191
بولنگ اوسط 40.11 42.42 34.06
اننگز میں 5 وکٹ -- -- 6
میچ میں 10 وکٹ -- -- --
بہترین بولنگ 3/74 2/22 7/39
کیچ/سٹمپ 93 / 1 71 / 2 340 / 3
ماخذ: [1], 23 جولائی 2010

جاوید میانداد (مکمل نام: محمد جاوید میانداد، پیدائش 12 جون 1957ء، کراچی، پاکستان ) پاکستان کے مایہ ناز اور عالمی شہرت کے حامل کرکٹ کھلاڑی جو 1975ء سے لیکر 1996ء تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلتے رہے اور پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں کے کپتان رہے۔ جاوید میانداد ایک لمبے عرصے تک، ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ اسکور بنانے والے بلے باز رہے۔ اس وقت یہ اعزاز یونس خان کے پاس ہے ۔[1] جاوید میانداد کو پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مستند بلے باز بھی سمجھا جاتا ہے۔

کیریئر[ترمیم]

جاوید میانداد کا بین الاقوامی کرکٹ کیریئر تقریباً 21 سالوں پر محیط ہے اور ایک روزہ بین الاقومی میچوں میں ابھی تک کسی بھی کھلاڑی کا، 20 سال اور 272 دنوں کے ساتھ سب سے لمبا کیریئر ہے ۔[2] اس کے علاوہ ان کے اس طویل کیریئر کی ایک اور منفرد بات یہ ہے کہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے عالمی کپ (آئی سی سی ورلڈ کپ) میں انہوں نے چھ دفعہ شرکت کی، 1975ء کے پہلے ورلڈ کپ سے 1996ء کے چھٹے ورلڈ کپ تک، دنیا کے کسی دیگر کھلاڑی کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے۔

ٹیسٹ کیریئر[ترمیم]

جاوید میانداد کے بین الاقومی ٹیسٹ کیریئر کا آغاز نوعمری میں ہوا جب 19 سال کی عمر میں آپ نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف قذافی سٹیڈیم، لاہور میں 9 اکتوبر، 1976ء کو کھیلا اور اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی ہی اننگز میں، میچ کے پہلے ہی دن، سینچری بنا کر شائقینِ کرکٹ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور اپنے آئندہ آنے والے یادگار کیریئر کی بنیاد رکھی۔ اس ٹیسٹ سینچری نے ان کو دو یادگار ریکارڈ دیے، ایک تو یہ کہ وہ عباد اللہ کے بعد دوسرے پاکستانی بلے باز بن گئے جنہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں سینچری اسکور کی۔[3] دوسرے یہ کہ وہ اس وقت سب سے کم عمر ٹیسٹ سینچری بنانے والے بلے باز گئے، اس وقت میانداد کی عمر 19 سال اور 119 دن تھی، اب یہ عالمی ریکارڈ ان کے پاس نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے کھلاڑی محمد اشرافل کے پاس ہے جنہوں نے 17 سال اور 61 دن کی عمر میں ٹیسٹ سینچری اسکور کی۔[4]

انکی اس پہلی ٹیسٹ سیریز کے تیسرے میچ میں جو 30 اکتوبر، 1976 کو نیشنل سٹیڈیم، کراچی میں کھیلا گیا، جاوید میانداد نے ایک اور عالمی ریکارڈ بنایا جب میچ کے دوسرے دن 31 اکتوبر کو انہوں نے ڈبل سینچری اسکور کی اور دنیائے کرکٹ کے سب سے کم عمر ڈبل سینچری اسکور کرنے والے بلے باز بن گئے ۔[5] اس وقت میانداد کی عمر 19 سال اور 141 دن تھی، پہلے یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے بلے باز جارج ہیڈلی کا تھا جو انہوں نے 1930ء میں انگلینڈ کے خلاف بنایا تھا اور میانداد نے اس ریکارڈ کو 46 سال بعد توڑا لیکن میانداد کا ریکارڈ ابھی تک محفوظ ہے اور 34 سال گزر جانے کے بعد بھی وہ دنیائے کرکٹ کے سب سے کم عمر ٹیسٹ ڈبل سینچری بنانے والے بلے باز ہیں۔

جاوید میانداد

اپنی اس پہلی ٹیسٹ سیریز کے تین میچوں کی پانچ اننگزوں میں 126 کی اوسط سے 504 اسکور کرنے کے بعد اگلی کچھ ٹیسٹ سیریز میں جو پاکستان سے باہر ہوئیں جاوید میانداد کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے، بالخصوص، پاکستان کے انگلینڈ کے دورے 1978ء میں جس میں تین میچوں میں میانداد نے 15 کی اوسط سے صرف 77 اسکور بنائے۔ اس کے بعد بھارت کے دورہ پاکستان 1978ء میں میانداد نے ایک بار پھر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس سیریز میں دو سنچریاں اسکور کیں۔

میانداد نے اپنی اس اچھی فارم کو برقرار رکھا اور اگلے سال 1979ء نے پاکستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا دورہ کیا تو ان دونوں سیریز میں میانداد نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دونوں ٹیموں کے خلاف سینچریاں اسکور کیں، نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ میں بننے والی سینچری (160*) گو ان کے کیریئر کی پانچویں سینچری تھی لیکن پاکستان سے باہر یہ انکی پہلی سینچری تھی۔

بھارت کا دورہ 1982ء / 1983ء میانداد کے لیے کئی لحاظ سے یادگار ثابت ہوا، اس سیریز کے چھ میچوں کی چھ اننگزوں میں میانداد نے 118٫80 کی اوسط سے دو سینچریوں اور ایک نصف سینچری کے ساتھ 594 اسکور بنائے جس میں انکی حیدر آباد میں کھیلی گئی 280 اسکور کی ناقابلِ شکست اور یادگار اننگز بھی شامل تھی۔ میانداد کے کیریئر کی یہ دوسری ڈبل سینچری تھی۔

میانداد نے اپنے کیریئر میں چھ ڈبل سینچریاں اسکور کی ہیں، جو کسی بھی پاکستانی کی سب سے زیادہ ڈبل سینچریاں ہیں جب کہ عالمی فہرست میں ڈبل سینچریوں کے لحاظ سے وہ چوتھے نمبر پر ہیں۔[6]

جاوید میانداد کی چھ ڈبل سینچریاں
اسکور بمقابلہ مقام تاریخ
206 نیوزی لینڈ کراچی 31 اکتوبر 1976ء
280* بھارت حیدر آباد، سندھ 15 جنوری 1983ء
203* سری لنکا فیصل آباد 21 اکتوبر 1985ء
260 انگلینڈ اوول 7 اگست 1987ء
211 آسٹریلیا کراچی 16 ستمبر 1988ء
271 نیوزی لینڈ آک لینڈ 25 فروری 1989ء

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]