جاپان میں خواتین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

جاپان میں خواتین (انگریزی: Women in Japan) کافی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ایک ترقی یافتہ ملکوں کے باشندگان کے حصے کے طور پر وہ مساوی حقوق رکھتی ہیں۔ وہ تعلیم اور روز گار میں مردوں کے شانہ بہ شانہ دکھائی پڑتی ہیں۔ میدان سیاست اور فنون و سائنس میں بھی عورتیں کافی ترقی کر چکی ہیں۔

جنسی ہراسانی، امتیاز اور جنسی معاملات[ترمیم]

جاپان میں اسپائیڈر مین کی طرح جال پھینکنے والے آلے کی ویڈیو جدید طور پر دنیا بھر میں مقبول ہورہی ہے جس میں ایک خاتون کو حملہ آور شخص پر ’اسپائیڈرمین‘ گن سے جال پھینکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ملک میں خواتین پر حملوں اورعوامی مقامات پر جرم کی شرح بہت کم ہے لیکن اس اہم ایجاد کے ذریعے حملہ آور شخص کو سیکنڈوں میں جال میں پھنسایا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک خاتون کو بڑی ٹارچ جیسا آلہ استعمال کرتے دکھایا گیا ہے جو ننجا لباس پہنے ایک حملہ آور شخص پر ٹیوب جیسی گن کے سرخ بٹن کو دباتی ہے تو اس پرایک جال لپکتا ہے اوروہ مضبوط جال میں کسی بے بس پرندے کی طرح پھنس جاتا ہے۔[1]

جاپان میں کچھ کمپنیوں کی جانب سے خواتین پر عینک پہننے کی پابندی کی اطلاعات کے بعد اب ان کے لیے کام پر عینک پہننا ایک حساس موضوع بن گیا ہے۔متعدد نیوز چینلوں کے مطابق جاپان کی بعض کمپنیوں نے یہ فیصلہ مختلف وجوہات کی بنا پر لیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ عینک پہننے والی خواتین جو کسی دکان پر اسسٹنٹ کے طور پر جب کام کرتی ہیں ’ایک غیر دوستانہ تاثر‘ دیتی ہیں۔ یہ شرط مرد ملازمین پر نہیں لگائی گئی ہے۔[2]

جنسی ہراسانی کے واقعات بھی جاپان میں اعلیٰ سطح پر رو نما ہوئے ہیں۔ جاپان کی عدالت نے ’آبرو ریزی‘ کے ایک معاملے میں وزیر اعظم شنزو آبے کے قریبی سمجھے جانے والے ملک کے معروف صحافی کو خاتون صحافی کو ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم 2019ء دے دیا تھا۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق جاپانی عدالت نے اس مقدمے میں 53 سالہ معروف صحافی یماگوچی کو 30 سالہ خاتون صحافی کی ’عصمت دری‘ کرنے کے الزام میں ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔[3]

جنوبی کوریا اور جاپان میں خواتین کے ذریعے شروع کی گئی نو میرج وومین کا مقصد ہے کہ شادی نہ کرنے کو بڑھاوادینا۔ اس مہم اور خواتین کے شادی نہ کرنے کی وجہ سے (ملک میں جنوبی کوریا اور جاپان ) میں مالی اور سماجی بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ خواتین شادی، جسمانی تعلق اور اولاد سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔[4]

خاتون فرماں روا کی چاہت[ترمیم]

جاپان میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق ملکی ووٹروں کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ خواتین کو بھی شہنشاہ کا وارث قرار دیا جائے۔ جاپان کے برسر اقتدار شہنشاہ ناروہیٹو گزشتہ 2015ء میں ملکی تخت پر براجمان ہونے کے ساتھ ہی ایک نئی الجھن کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں، وہ صرف ایک بیٹی کے والد ہیں اور ملکی قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کی بیٹی آئیکو ان کی جانشین بن سکے۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]