جاگنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
انگلستان کے کرکٹر ٹیم بریسنن (Tim Bresnan) باؤنڈری کی جانب جاگنگ کرتے ہوئے۔

جاگنگ (انگریزی: Jogging) ایک ایسی حرکت کو کہتے ہیں جو چہل قدمی اور دوڑنے کے بیچ کی کیفیت میں دیکھی جاتی ہے۔ یہ نسبتًا آہستہ ہوتی ہے اور اس کا مقصد پورے جسم کو متحرک کرنا ہے۔ یہ ایک طرح کی ورزش ہے اور یہ کئی لوگ شوقیہ طور پر کرتے ہیں۔جاگنگ سے ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ سے متعلق جاپان کی ایک یونیورسٹی کے محققین نے کہا ہے کہ روزانہ جاگنگ کرنے والے افراد ذہنی آزمائشوں میں بہتر اورا ضافی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔[1]

سائنسدانوں نے عوام الناس کا اکثر زبان زد عام بہانہ مسترد کر دیا کہ جاگنگ سے جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ گھٹنوں میں درد جاگنگ سے نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق کسی بھی طرح صبح کی ورزش سے نہیں جبکہ اس کے برعکس ورزش سے تو جوڑ مضبوط ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس سلسلے میں ایک کتابچہ بھی شائع کیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ صبح سویرے جاگنگ کرنے والے لوگ اپنے جسم کا 8گنا وزن ہر قدم پر اپنی ٹانگوں پر ڈالتے ہیں جبکہ دوڑنے کے دوران ہم لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہیں او ریوں ٹانگوں پر بوجھ کم پڑتا ہے۔سینٹ میری یونیورسٹی کے پروفیسر جان بریور نے کہا کہ انسانی جسم اس طرح تخلیق ہوا ہے کہ دوڑنے سے اس پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے جبکہ اس دوڑ کے نتیجے میں اس کے پٹھے اور جوڑ دونوں ہی کھلتے ہیں اور انہیں اس سے نئی طاقت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ گھٹنے کو نقصان پہنچنے کی بجائے اس کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔[2]

جرمن اسپورٹس ہائی اسکول کے پروفيسر انگو فروبس کا کہنا ہے کہ صبح سويرے ناشتے سے پہلے جاگنگ کرنا يا دوڑ لگانا لازمی طور پر جسمانی اور ذہنی کارکردگی کو بہتر نہيں بناتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات ہی کی طرح سے ہمارا جسم صبح کے وقت بھی چکنائی کو توڑ رہا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر خالی معدے کے ساتھ ورزش کی جائے تو چکنائی کو جذب کرنے کا عمل صرف اسی وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک کہ جسم ميں شکر کے ذخائر استعمال نہيں ہو جاتے۔ جب يہ مرحلہ آن پہنچتا ہے توجسمانی کارکردگی کم ہونے لگتی ہے يہاں تک کہ آپ جاگنگ ختم کردينے پر مجبور ہو جاتے ہيں۔[3] اس کے علاوہ جن باتوں کا خیال رکھا جاتا چاہیے، وہ اس طرح ہیں: کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جاگنگ سے قبل اسٹریٹچنگ کرنا اچھا ہوتا ہے لیکن اسٹریٹچنگ بہت دھیان اور احتیاط سے کرنا پڑتی ہے کیونکہ اس سے آپ کے پاؤں کا پچھلا حصہ شدید متاثر ہوسکتا ہے۔آپ نے اگر نئی نئی جاگنگ کرنا شروع کی ہے تو اس بات کا خیال رکھیں کہ فوراً تیز نہیں دوڑیں بلکہ آہستہ دوڑنا شروع کریں تاکہ ٹانگوں میں درد کی شکایت نہ ہو۔ آپ کی ٹانگوں میں اگر درد ہے اور بھاگنے میں دقت محسوس ہورہی ہے تو دوڑنے سے گریز کریں ، کوشش کریں جب ٹانگوں کا درد ٹھیک ہوجائے تو پھر جاگنگ کرنا شروع کریں۔ کبھی بھی بڑے قدموں سے جاگنگ نہیں کریں بلکہ دوڑنے کے لیے چھوٹے قدموں کا استعمال کریں۔ اگنگ کرنے سے جسم سے نمکیات کا اخراج ہوتا ہے لہذا جاگنگ شروع کرتے ہی پانی کی مقدار بڑھا دیں اور زیادہ سے زیادہ پانی پی کر جسم کو ہائیڈریٹ رکھیں۔[4]

تاہم جدید طور پر ماہرین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر جاگنگ کرنے والوں کے لیے 6 فٹ کا سماجی فاصلہ بے کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ چھ فٹ کے فاصلے پر اپنے آگے جانے والے شخص کے عین پیچھے چلتے ہیں تو اس کی سانس کے ذریعے ہوا میں خارج ہونے والا وائرس زمین پر پہنچنے سے قبل آپ کے جسم سے ٹکرا چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں آپ کو چھ فٹ تو کیا 10 فٹ کا فاصلہ بھی ناکافی ہے، آپ کو زیادہ فاصلہ رکھ کر جاگنگ یا چہل قدمی کرنی چاہیے۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]