جبران خلیل جبران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جبران خلیل جبران
(عربی میں: جبران خليل جبران بن ميخائل بن سعد خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Khalil Gibran - Autorretrato con musa, c. 1911.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 جنوری 1883[1][2][3][4][5][6][7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لبنان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 10 اپریل 1931 (48 سال)[1][2][3][4][5][6][7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل،سرطان جگر،تشمع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
طبی کیفیت سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بیماری (P1050) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،مصور،فلسفی،مصنف[8]،ناول نگار،فن کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[9]،انگریزی[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

خلیل جبران (اصل نام: جبران خلیل جبران بن میکائیل بن سعد[10]) جو لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف تھے۔ خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا۔ وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکا ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب 1923ء میں شائع ہوئی اور یہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی۔ یہ فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب نہایت مشہور گردانی گئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی۔[11] یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔[12]

نوجوانی[ترمیم]

لبنان میں[ترمیم]

جبران مسیحی اکثریتی شہر بشاری میں پیدا ہوئے۔ جبران کے والد ایک مسیحی پادری تھے۔[13] جبکہ جبران کی ماں کملہ کی عمر 30 سال تھی جب جبران کی پیدائش ہوئی، والد جن کو خلیل کے نام سے جانا جاتا ہے کملہ کے تیسرے شوہر تھے۔[14] غربت کی وجہ سے جبران نے ابتدائی اسکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن پادریوں کے پاس انھوں نے انجیل پڑھی، انھوں نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔
جبران کے والد پہلے مقامی طور پر نوکری بھی کرتے تھے، لیکن بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے قرض دار ہوئے اور پھر سلطنت عثمانیہ کی ریاست کی جانب سے مقامی طور پر انتظامی امور کی نوکری کی۔[15] اس زمانے میں جس انتظامی عہدے پر وہ فائز ہوئے وہ ایک دستے کے سپہ سالار کی تھی، جسے جنگجو سردار بھی کہا جاتا تھا۔[16]
1891ء یا اسی دور میں جبران کے والد پر عوامی شکایات کا انبار لگ گیا اور ریاست کو انھیں معطل کرنا پڑا اور ساتھ ہی ان کی اپنے عملے سمیت احتسابی عمل سے گزرنا پڑا۔[17] جبران کے والد قید کر لیے گئے۔[11] اور ان کی خاندانی جائداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ اسی وجہ سے کملہ اور جبران نے امریکا ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کملہ کے بھائی رہائش پزیر تھے۔گو جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگر کملہ نے جانے کا فیصلہ ترک نہ کیا اور 25 جون، 1895ء کو خلیل، اپنی بہنوں ماریانا اور سلطانہ، اپنے بھائی پیٹر اور جبران سمیت نیویارک ہجرت کی۔[15]

امریکا میں[ترمیم]

خلیل جبران کی تصویر، فرائیڈ ہالیڈے نے 1898ء میں لی

جبران کا خاندان بوسٹن کے جنوبی حصے میں رہائش پزیر ہوا، اس حصے میں اس وقت شامی اور لبنانی نژاد امریکیوں کی کثیر تعداد رہائش پزیر تھی۔[18] امریکا میں جبران کو اسکول میں داخل کروایا گیا اور اسکول کے رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور پھر یہی نام ان کا سرکاری کاغذات میں منتقل ہوتا رہا۔[19]


جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کر کے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا۔[17] جبران نے 30 ستمبر 1895ء کو اسکول کی تعلیم شروع کی۔ اسکول کی انتظامیہ نے انھیں ہجرت کرکے آنے والے طالب علموں کی مخصوص جماعت میں داخل کیا تاکہ وہ انگریزی زبان سیکھ سکیں۔ اسکول کے ساتھ ساتھ جبران نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک فنون لطیفہ کے اسکول میں بھی داخلہ لے لیا۔ فنون لطیفہ کے اسکول میں ان کے استاد نے انھیں بوسٹن کے مشہور فنکار، مصور اور ناشر فریڈ ہالینڈ ڈے سے متعارف کروایا، [11] جنھوں نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور جبران کے فن میں حوصلہ افزائی کی۔ 1898ء میں پہلی بار جبران کی بنائی ہوئے مصوری کے نمونے ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیے گئے۔
جبران کی ماں اور ان کے بڑے بھائی پیٹر چاہتے تھے کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت جس سے جبران متاثر تھے کو ترک کر دے۔، [17] جبران کی مغربی ثقافت سے متاثر ہونے کی وجہ سے پندرہ سال کی عمر میں جبران کو واپس لبنان بجھوا دیا گیا جہاں انھوں نے مسیحی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور بیروت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے منتقل ہوئے۔ بیروت میں اپنے ایک ہم جماعت کے ہمراہ ایک ادبی رسالے کا اجرا کیا اور اپنے تعلیمی ادارے میں “کالج کے شاعر“ کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے اور 1902ء میں بوسٹن واپس چلے گئے۔[20] ان کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پاگئی۔ اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بال کی اور ماریانہ ایک درزی کے پاس نوکری کرتی رہیں۔[11]

فن اور شاعری[ترمیم]

جبران خلیل نے اپنے فن پاروں کی پہلی نمائش 1904ء میں بوسٹس کے “ڈے سٹوڈیو“ میں کی[11]۔ اسی نمائش میں جبران کی ملاقات میری الزبتھ ہاسکل سے ہوئی جو اس وقت تعلیمی ادارے کی سربراہ تھیں اور جبران سے دس سال بڑی تھیں۔ ان دونوں میں دوستی ہوئی اور یہ ساتھ جبران کی وفات تک رہا۔ گو ان کی دوستی معاشرے میں بدنام جانی گئی [حوالہ درکار]۔ ہاسکل نہ صرف جبران کی زندگی بلکہ ان کے فن پر بھی اثرانداز ہوئیں [حوالہ درکار]۔ 1908ء سے جبران پیرس میں آگسٹی روڈن کے ہمراہ دو سال کے لیے تعلیم حاصل کرتے رہے اور وہیں ان کی ملاقات اپنے ایک ہم جماعت یوسف ہوہاک سے ہوئی اور ان کی یہ دوستی بھی زندگی بھر جاری رہی۔ پیرس سے واپسی پر جبران نے بوسٹن میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔  [حوالہ درکار]

ابونواس: جبران کا تخلیق کردہ ایک فن پارہ۔ یہ 1916ء میں تخلیق ہوا

جولیٹ تھامپسن، جو جبران کی قریبی ساتھی تھیں، نے کئی مواقع پر جبران کے بارے میں دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں، جیسے کہ ایک یہ کہ جبران کی ملاقات ابو باہا سے 1911ء میں ہوئی، ابو باہا، باہا فرقے کے سربراہ تھے۔[15]-1912.[21] باربرہ ینگنے اپنی کتاب“This Man from Lebanon: A Study of Khalil Gibran”میں یہ درج کیا کہ جبران ابوہا سے ملاقات سے پہلے رات کو سو نہ سکا اور ساری رات دو زانو بیٹھا رہا۔ تھامپسن کہتی ہیں کہ جبران اپنی کتاب “Jesus, The Son of Man” لکھنے کے دوران میں تمام عرصہ ابوہا کے بارے میں سوچتا رہا اور سالوں بعد جب ابوہا کی وفات ہو چکی تھی ابوہا کے بارے میں ایک فلم تخلیق کی گئی۔ جبران اس فلم کے بننے کے دوران میں ایک دن کھڑے ہوکر روتے ہوئے ابوہا کے اقوال سنائے، جس سے ساری محفل کی آنکھیں پرنم ہو گئیں۔[21]
گو جبران کی تمام اوائل دور کی تحاریر عربی میں ہیں، مگر ان کا زیادہ تر کام 1918ء کے بعد انگریزی میں شائع ہوا۔ جبران کی پہلی کتاب جو شائع ہوئی، وہ ناشر کمپنی الفریڈ اے ناپف نے 1918ء میں شائع کی جس کا عنوان تھا، The Madman۔ یہ ایک چھوٹی سی کتاب تھی جو بیغامبری زبان میں نثر اور نظم کے بیچ جیسے لکھی گئی تھی۔ جبران نے نیویارک کے پین لیگ میں بھی حصہ لیا جہاں وہ “مہاجر شاعر “ کے نام سے جانے جاتے تھے، ان کے علاوہ لبنانی نژاد لکھاری جیسے امین ریحانی، الیہ ابو مادی اور میکائیل نیمے وغیرہ بھی اس لیگ کا حصہ تھے اور ان سب کو “المہاجر“ کا نام دیا گیا تھا۔
جبران کی زیادہ تر تحاریر مسیحیت کے بارے میں ہیں، خاص کر مسیحیت میں بھی ان کا رخ روحانی محبت کے اردگرد گھومتا ہے۔ ان کی شاعری کی خاصیت ایک خاص طرز پر زبان کا استعمال ہے اور اس کے علاوہ شاعری میں جابجا روحانی اصطلاحات کا استعمال عام ہے۔ جبران کی سب سے مشہور کتاب The Prophet یا پیغامبر ہے جس میں کل 26 شاعرانہ مضامین ہیں۔ یہ کتاب 1960ء میں خاص طور پر امریکی ادبی حلقوں میں مشہور ہوئی اور اس کا استعمال نئے دور کی تحریکوں میں کیا گیا۔ یہ کتاب 1923ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ اپنی پہلی اشاعت کے بعد اب تک یہ کتاب شائع ہو رہی ہے اور اس کے دنیا کی چالیس سے زیادہ زبانوں میں تراجم کیے گئے ہیں۔[22] بیسویں صدی میں امریکا میں یہ کتاب سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں کی فہرست میں شامل ہے۔
ان کے کلام میں سب سے مشہور مصرع جو انگریزی دنیا میں اب بھی بہت مشہور ہے، کتاب "Sand and Foam" سے لیا گیا ہے، اس مصرع میں جبران کہتا ہے، “آدھے سے زیادہ جو میں کہتا ہوں وہ بے معنی ہے، لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں تاکہ باقی کا آدھا تم تک پہنچ سکے“ جبران کی یہ شاعری جان لینن نے اپنے ایک گانے جولیا (بیٹل نغمہ) میں شامل کیا۔ یہ نغمہ 1968ء میں تشکیل دیا گیا۔

سیاسی سوچ[ترمیم]

جبران نے شام میں عربی کو بطور قومی زبان نافذ کرنے اور بنیادی تعلیم میں اسے لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ 1912ء میں جبران نے جب ابو باہا سے ملاقات کی تو ان کے ساتھ امریکا بھر کا سفر برائے امن بھی کیا۔ گو جبران نے امن کا پرچار کیا مگر اس کے ساتھ ہی انھوں نے شامی علاقوں کی سلطنت عثمانیہ سے علیحدگی کا بھی مطالبہ کیا۔[15] جبران نے اس بارے ایک مشہور نظم بھی لکھی جوPity The Nation کے عنوان سے گلستان پیغامبر میں شائع ہوئی۔[23]
جنگ عظیم اول میں جب عثمانیہ سلطنت کا شام سے خاتمہ ہوا تو جبران نے ایک تصویری فن پارہ “آزاد شام“ کے نام سے تخلیق کیا جو وکٹری میگزین کا سرورق بنا۔ اس کے علاوہ اپنے ایک کھیل میں جبران نے قومی آزادی اور ترقی بارے امید کا اظہار بھی کیا۔ اس کھیل بارے خلیل ہوائی کہتے ہیں کہ “یہ جبران کے شام بارے قومیت پرستی کے خیالات کو اجاگر کرتا ہے اور اس میں ہمیں عرب اور لبنانی قومیتوں کا فرق واضع محسوس ہوتا ہے۔ اس کھیل میں یہ بھی عیاں ہے کہ کس طرح عمر کے آخری حصے تک جبران کے ذہن میں قومیت پرستی اور عالمی اتحاد کے خیالات ایک ساتھ پروان چڑھتے رہے ہیں“۔[24]

وفات[ترمیم]

جبران خلیل کی واشنگٹن میں یادگار
لبنان میں جبران میوزیم اور آخری آرامگاہ

جبران خلیل 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پا گئے۔ ان کی موت جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے ہوئی۔ اپنی موت سے پہلے جبران نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے۔ ان کی یہ آخری خواہش 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا اور جبران میوزیم قائم کیا۔ جبران کی قبر کے کتبے پر جو الفاظ کشیدہ کیے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں، “ایک جملہ جو میں اپنی قبر کے کتبے پر دیکھنا چاہوں گا: میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے“۔  [حوالہ درکار]
جبران نے اپنے سٹوڈیو کی تمام اشیاء اور فن پارے میری ہاسکل کے نام وصیت میں سپرد کر دیے۔ اس سٹوڈیو میں ہاسکل کو 23 سال تک اپنے اور جبران کے بیچ ہوئی خط کتابت بھی ملی، جس کے بارے پہلے ہاسکل نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں جلا دیا جائے، لیکن ان کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انھیں محفوظ کر دیا گیا۔ ان خطوط کو میری ہاسکل نے اس کو لکھے گئے جبران کے خطوط سمیت شمالی کیرولائنا کی جامعہ کی لائبریری کو اپنی 1964ء میں وفات سے پہلے سپرد کر دیے۔ بعد ازاں ان خطوط کا کچھ مواد 1972ء میں کتاب Beloved Prophet میں شائع ہوا۔

یادگاریں[ترمیم]

جبران خلیل کا مجسمہ
  • لبنان میں 1971ء میں جبران خلیل کی یادگار کے طور پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔
  • لبنان میں جبران میوزیم کا قیام۔
  • لبنان کے شہر بیروت میں باغ جبران کا قیام۔
  • کینیڈا میں سینٹ لارنٹ کے مقام پر 27 ستمبر 2008ء کو جبران کی 125ویں سالگرہ کے موقع پر ایک سڑک کو خلیل جبران سٹریٹ کا یادگاری نام دیا گیا۔
  • لبنان میں ایک پرفضا مقام لبنان سیڈار میں جبران خلیل کی یادگار کی تعمیر۔
  • امریکا کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں جبران خلیل کے نام پر باغ۔
  • بوسٹن میں جبران خلیل کی یادگار کی تنصیب۔
  • بروک لین، نیویارک میں جبران خلیل انٹرنیشنل اسکول کے نام سے تعلیمی ادارے کا قیام۔
  • رومانیہ میں خلیل جبران پارک کا قیام۔
  • برازیل کی عرب میموریل بلڈنگ میں جبران خلیل کے مجسمے کی تنصیب۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ^ 2.0 2.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11904838q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ 3.0 3.1 Benezit ID: http://oxfordindex.oup.com/view/10.1093/benz/9780199773787.article.B00073538 — بنام: Khalil Gibran — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ISBN 978-0-19-977378-7
  4. ^ 4.0 4.1 دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Khalil-Gibran — بنام: Khalil Gibran — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  5. ^ 5.0 5.1 RKDartists ID: https://rkd.nl/explore/artists/426859 — بنام: Kahlil Gibran — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ 6.0 6.1 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6zk5kxd — بنام: Kahlil Gibran — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ 7.0 7.1 قبر ڈھونڈیں شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=4499 — بنام: Kahlil Gibran — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  9. ^ 9.0 9.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11904838q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  10. Gibran 1998: 12
  11. ^ 11.0 11.1 11.2 11.3 11.4 جوان اووسیانا (جنوری 7, 2008ء)۔ "پیغامبری صفت"۔ نیویارکر۔
  12. http://www.newyorker.com/arts/critics/books/2008/01/07/080107crbo_books_acocella کتاب پیغمبری
  13. جگادسیان "زندگی کی پکار"، دی ہندو، جنوری 5, 2003, accessed جولائی 11, 2007
  14. "خلیل جبران (1883–1931)"، آپ بیتی
  15. ^ 15.0 15.1 15.2 15.3 Cole، جووان۔ "اس کی زندگی کے دور"۔ جووان جووان: خلیل بارے نئے تراجم۔ جووان آر کوئی۔ اخذ کردہ بتاریخ 2009-01-02۔ 
  16. والبرج، جان۔ "جبران اور اس کے تخیل کی کائنات"۔ جووان: خلیل کے بارے نئے تراجم۔ جواون آر کوئی۔ اخذ کردہ بتاریخ 2009-01-02۔ 
  17. ^ 17.0 17.1 17.2 شیراک، سناء (2006-03-03) (pdf). خلیل جبران اور دوسرے عربی پیغامبر. فلوریڈا ریاستی جامعہ. http://etd.lib.fsu.edu/theses/available/etd-04102006-114344/unrestricted/Mcharek2006.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 2009-01-02. 
  18. خلیل جبران (1883–1931) کورنیل یونیورسٹی لائبریری
  19. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Gibran 1998: 29 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  20. "Passenger Record"۔ Records of Ellis Island۔ مجسمہ آزادی پبلشر۔ اخذ کردہ بتاریخ 2009-01-02۔ 
  21. ^ 21.0 21.1 تھامپسن، جولیٹ (Summer 1978)۔ "جولیٹ کی جبران بارے یادیں، بحولہ گیلی"۔ ورلڈ آرڈر، ابوہا میگزین 12 (04)۔ صفحات 29–31۔ 
  22. Source: The Arab American Dialogue, Vol
  23. جبران خلیل کی نظم
  24. ہوائی، خلیل جبران: پس منظر، کردار اور کام۔ 1972ء صفحہ: 219

بیرونی روابط[ترمیم]