جبری کھلانا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جبری کھلانا (انگریزی: Force-feeding) ایک ایسا طریقہ کار ہے جس سے کسی انسان کو یا کسی جانور کو اس کی آزاد مرضی کے خلاف غذا کھانے پر مجبور کیا جائے۔ انسانوں میں یہ کام عام طور بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے فعالیت پسندوں اور اسی طرح سے کھانے سے انکار قیدیوں کے ساتھ کئی بار ارباب مجاز کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ رہتا ہے کہ یہ لوگ کہیں بھوک کی وجہ سے فوت نہ ہو جائیں اور حکومت وقت یا ذمے دار افراد کو اس سے پریشانی نہ ہو۔ فعالیت پسند افراد کئی بار اخبارات کی سرخیوں میں چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر وہ کسی عوامی کاز یا کسی مقبول عام مقصد کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کروانے کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھتے ہیں، تو اس کی وجہ سے جمہوری اور آمرانہ حکومتیں ویسے بھی محتاط رہتی ہیں۔ اگر ان لوگوں کی حالت نازک ہوتی ہے تو یہ عوام کو مزید حکومت یا ارباب مجاز کی طرف احتجاجًا اٹھنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ قیدیوں کی بھوک ہڑتال کی صورت میں اولًا قید کے رہنمایانہ اصول ہیں، جن کی رو سے قیدیوں کو کھلانا پلانا اور ان کی جان اور صحت کی ذمے داری قید خانے کے ذمے داروں کی ہے۔ ایک مجرم قیدی کی حالت کے نازک ہونے یا اس کے انتقال کرنے کی صورت میں بھی یہ ذمے داری ان ہی پر ہوتی ہے۔ کئی بار ایسے معاملے صحافت میں موضوع بحث بن سکتے ہیں اور حکومتیں تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کر سکتی ہیں اور خاطی افسروں کے خلاف کار روائی کر سکتی ہے۔ پھر دوسری بات قید خانوں کے ضمن میں یہ بھی ہے کہ کئی بار قید میں بند شخص صرف شبہ کی بنا پر محبوس ہوتا ہے۔ اس کا کسی جرم کا انجام دینا پایہ ثبوت تک نہیں پہنچا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی قیدی، عوامی احتجاجی، ہڑتالی سرکاری یا نجی ملازمین، فعالیت پسند شخص بھی کسی وجہ سے قید میں بند ہوتے ہیں اور اپنے مقاصد کے تجت بھوک ہڑتال پر بیٹھ سکتے ہیں۔ انہیں بھی ذمے دار لوگ بہ وقت ضرورت کسی ناگہانی سے بچنے کے لیے زبر دستی کھانا کھلاتے ہیں۔

جانوروں کے معاملے میں یہ عمومًا اس وقت دیکھا گیا ہے جب وہ انسانی گرفت ہوں۔ مثلًا سانپ اگر انسانوں کی جانب سے پکڑا جائے تو اسے اکثر اپنی پسندیدہ غذا نہیں ملتی۔ اسے سپیرے دودھ پلاتے ہیں، جو وہ بہ حالت مجبوری اور خود کو زندہ رکھنے کے لیے پی لیتا ہے۔

ریاستہائے امریکا میں جبری کھلانا[ترمیم]

ڈونالڈ ٹرمپ حکومت کے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات اور ان میں سے کچھ کو جکڑے رکھنے کے لیے ڈیٹینشن مرکز پر رکھنے کے خلاف یہ اطلاع 2019ء میں آئی کچھ لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے تھے، جنہیں جبرًا کھلایا گیا تھا۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]