جبیر بن نفیر
ابو عبد الرحمٰن جبیر بن نفیر بن مالک بن عامر الحضرمی کبار تابعین میں سے ہیں۔ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا، تاہم اس وقت یمن میں مقیم ہونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل نہ کر سکے۔ ان کے والد نفیر صحابی رسول تھے۔ جبیر نے اپنے والد سے بھی احادیث روایت کی ہیں۔
وہ مدینہ منورہ آئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔ ان سے اجازت لے کر وہ شام چلے گئے اور حمص میں سکونت اختیار کی۔ ان کا شمار شام کے سرکردہ تابعین میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی کثرتِ عبادت اور وسعتِ علم کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان کی وفات 80ھ میں عبد الملک بن مروان کے دورِ خلافت میں شام میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔[1] ایک اور قول کے مطابق ان کی وفات 75ھ میں ہوئی۔ سالم بن عامر نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا: «میں نے شروع ہی سے اسلام قبول کیا اور اب بھی لوگوں میں اچھائی اور برائی دیکھتا ہوں۔»[2]
روایت حدیث
[ترمیم]- شیوخ (اساتذہ): انھوں نے حضرت ابوبکر، عمر، حسن بن علی، مقداد بن اسود، ابوذر، ابو الدرداء، عبادہ بن صامت، عائشہ بنت ابی بکر، ابوہریرہ، مالک بن یخامر السکسکی، ابو مسلم الخولانی، ام الدرداء رضی اللہ عنہم اجمعین اور دیگر سے احادیث روایت کی ہیں۔
- تلامذہ (شاگرد): ان سے روایت کرنے والوں میں ان کے بیٹے عبد الرحمٰن بن جبیر بن نفیر، مکحول، خالد بن معدان، ابو الزہریہ حدیر بن کریب، ربیعہ بن یزید، شرحبیل بن مسلم اور سالم بن عامر وغیرہ شامل ہیں۔[3]
جرح و تعدیل
[ترمیم]حافظ ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں فرمایا: "وہ اور کثیر بن مرہ حمص اور دمشق کے ثقہ اماموں میں سے تھے اور بہت سے محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔" محمد بن سعد البغدادی نے الطبقات الکبریٰ میں ان کے بارے میں کہا ہے: "وہ حدیث کی روایت میں ثقہ تھے۔"
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ البداية والنهاية، ابن كثير الدمشقي، الجزء التاسع، ثم دخلت سنة ثمانين: جبير بن نفير
- ↑ "ابن عبد البر: الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ترجمة جبير بن نفير الحضرمي، موقع نداء الإيمان"۔ 2018-12-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-11-02
- ↑ سير أعلام النبلاء، وممن أدرك زمان النبوة، جبير بن نفير، الجزء الرابع، صـ 76: 78، مؤسسة الرسالة، سنة النشر: 1422هـ / 2001م آرکائیو شدہ 2017-12-15 بذریعہ وے بیک مشین