جذیمہ ابرش
| جذیمہ ابرش | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| ملك | |||||||
| |||||||
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | 2ویں صدی | ||||||
| عملی زندگی | |||||||
| پیشہ | شاعر [1] | ||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
جذیمہ ابرش بن مالک بن فہم (تقریباً 180ء – 267ء) [2] ،[3] .[4]یہ عراق کے عربوں کے بادشاہ، اتحادِ تنوخ کے دوسرے حکمران اور قبل از اسلام عرب بادشاہوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے اپنے والد مالک بن فہم کے بعد 207ء سے 267ء تک عراق کے صحرائی علاقوں کی حکومت سنبھالی۔ جذیمہ نے طویل عمر پائی اور ساٹھ سال تک حکومت کی۔[5][2] اس بارے میں محمد بن سائب الکلبی کہتے ہیں: "جذیمہ بن مالک حِیرہ اور اس کے اطراف کے سواد (زرخیز علاقوں) پر ساٹھ سال تک حکمران رہا۔ اسے برص (وضَح) کی بیماری تھی اور وہ نہایت مضبوط اقتدار والا تھا، اس سے قریبی لوگ بھی ڈرتے تھے اور دور والے بھی اس کا رعب مانتے تھے۔"[6]وكان جذيمة أنيقا جميلا، شاعراً،[7] جذیمہ نہایت خوش لباس، خوبصورت اور شاعر مزاج تھا اور اس کی سلطنت وسیع تھی۔ مفضل ضبی کہتے ہیں: "جذیمہ ابرش ازد میں سے ایک شخص تھا اور حِیرہ اور اس کے اطراف کا بادشاہ تھا۔ وہ انبار میں قیام کرتا تھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور حسین چہرے والا تھا۔" اس کے اشعار اور کلام پر مشتمل ایک دیوان بھی منسوب ہے جو "اشعار الأسد" نامی کتاب میں مذکور تھا، لیکن وہ اب مفقود ہے۔[8].[9][10]
جذیمہ ابرش کی حکومت حِیرہ، انبار، رقہ، عین تمر، قطقطانیہ، بقّہ، ہیت اور بیابانی علاقوں کے کناروں سے لے کر عمیر اور یبرین تک پھیلی ہوئی تھی، بلکہ اس سے آگے کے علاقے بھی اس کے زیرِ اقتدار تھے۔ [11] وہ منظم لشکروں کے ساتھ فتوحات کیا کرتا تھا۔ اس نے امارتِ حضر پر حملہ کیا اور شام کے سرحدی علاقوں اور جزیرہ کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے ان علاقوں پر چڑھائی کی، وہاں کے بادشاہ کو قتل کیا، اس کے علاقے لوٹے اور واپس آ گیا۔ اس کے بعد زنوبیا نے تدمر میں لشکر جمع کیا اور جنگ کی تیاری کی، پھر اس نے جذیمہ کو پیغام بھیجا اور خود کو اس کے لیے بطور زوجہ پیش کیا۔ جذیمہ اس کے اقتدار کا خواہش مند ہوا اور تھوڑے سے ساتھیوں کے ساتھ اس کے پاس پہنچا، تو اس نے اپنے باپ کے بدلے کے طور پر اسے قتل کر دیا۔[12] اس کے بارے میں متمم بن نویرہ کہتے ہیں: "اور ہم ایک زمانے تک جذیمہ کے دو ہم نشینوں کی طرح تھے، یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ اب کبھی جدا نہ ہوں گے۔" یہ اشعار سیدہ عائشہ نے بھی پڑھے تھے۔ ،[13] .[14]
جذیمہ ابرش ایک حقیقی تاریخی شخصیت ہے، نہ کہ محض افسانوی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کا نام ایک نبطی کتبے میں آیا ہے جو "ام الجمال" نامی مقام سے ملا ہے اور جس کی تاریخ 270ء ہے۔ اس کتبے میں لکھا ہے: "یہ فہر بن سالی کی قبر ہے، جو تنوخ کے بادشاہ جذیمہ کا سپہ سالار تھا۔" جذیمہ کا نام عربی اشعار میں بھی بکثرت ملتا ہے، تاہم عربی مصادر میں اس کے حالات کچھ اساطیری روایات کے ساتھ خلط ملط ہو گئے ہیں اور اس کے بارے میں کئی امثال اور اشعار ایسے بھی ہیں جو غالباً بعد کے ادوار میں وضع کیے گئے۔[15].[16][17][18]
نسب
[ترمیم]جذیمہ ابرش کے نسب کے بارے میں عرب مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں تین اقوال مشہور ہیں:
- پہلا قول:
جذیمہ (جیم کے فتحہ اور ذال کے کسرہ کے ساتھ) بن مالک بن فہم بن غنم بن دوس بن عدثان بن عبد اللہ بن نصر بن زہران بن کعب بن حارث بن کعب بن عبد اللہ بن مالک بن نصر بن ازد۔ یہ رائے محمد بن سائب الکلبی، شرقی بن قطامی، مفضل ضبی، ہشام الکلبی، ازرقی ، محمد بن حبیب بغدادی ، ابن عبد ربہ ، المبرد اور دیگر قدیم علما کی ہے۔ [19][20][21][22][23][24][25][26][27]
- دوسرا قول:
جذیمہ عربِ عاربۂ اولیٰ میں سے تھے، یعنی بنی وبار بن امیم بن لاوذ بن سام سے۔ یہ قول ابن الکلبی سے منقول ہے، جسے طبری اور دیگر مؤرخین نے بھی نقل کیا ہے۔[28][29]
- تیسرا قول:
جذیمہ بن مالک بن فہم بن تیم اللہ بن اسد بن وبرہ بن تغلب بن حلوان بن عامر بن حاف بن قضاعہ ۔ یہ نسب ابو بقاء حلی نے "المناقب زیدیہ" میں اور ابن ماکولا نے "المال" میں ذکر کیا ہے۔ .[30][31]
ملک(بادشاہ)
[ترمیم]جذیمہ کو "ابرش" اور "الوضّاح" کہا جاتا تھا، کیونکہ اسے برص (جلدی بیماری) تھی۔ عرب اس کا نام اس عیب کے ساتھ لینے کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے تعظیم کے طور پر اسے "ابرش" کہا جانے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جاہلیت کے زمانے میں عربوں کے عظیم ترین بادشاہوں میں سے تھا اور رائے، عزم اور شجاعت میں ممتاز تھا۔ [32] .[33] الجاحظ کے مطابق جذیمہ قدیم عربوں میں حکمت، خطابت اور قیادت کے حوالے سے مشہور شخصیات میں شمار ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے منجنیق کا استعمال کیا، جوتے بنانے کی ابتدا کی، رات کے وقت سفر (ادلج) کیا اور اس کے لیے موم (شمع) تیار کی جاتی تھی۔ وہ شاعر بھی تھا۔ حمزہ اصفہانی کے مطابق اس نے ساٹھ سال حکومت کی۔[34]، .[35]
جذیمہ بن مالک حِیرہ، بحرین، یمامہ اور ان کے اطراف کے سواد (زرخیز علاقوں) پر حکمران تھا۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حکومت معد بن عدنان اور یمن کے بعض حصوں تک بھی پھیلی ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے طسم اور جدیس قبائل پر حملہ کیا۔ سلمہ بن مسلم صحاری اپنی کتاب "الانساب" میں لکھتے ہیں:[36] "ازد میں سے جو لوگ عراق میں آباد ہوئے ان میں جذیمہ ابرش تھا، جو الوضاح بن مالک بن فہم تھا اور اس کے ساتھ حِیرہ میں غسان اور آل محرق کے لوگ بھی تھے۔ انھوں نے اپنے معاملات کی حکمرانی جذیمہ ابرش کے سپرد کی۔ وہ انھیں لے کر سواد میں اترا اور حِیرہ، عراق اور دریائے فرات کے کناروں پر ساٹھ سال تک حکومت کرتا رہا۔ اس نے زبردست اقتدار قائم کیا اور اس کا رعب بڑھ گیا۔
اس نے دارا بن دارا (فارس کے بادشاہ) کو قتل کیا اور اس کے حالات مشہور ہیں۔ وہ ‘رب العصا’ کہلاتا تھا اور ‘العصا’ اس کے ایک مشہور گھوڑے کا نام تھا۔ اسی نے زینوبیا کو قتل کیا اور اس کی سلطنت پر غلبہ حاصل کیا۔ اس نے الزباء کو اس کے باپ کی سلطنت کے ایک کنارے تک محدود کر دیا، حالانکہ اس کی سلطنت وسیع تھی۔ زینوبیا کا باپ شام کا بادشاہ تھا، جسے بھی جذیمہ نے قتل کیا تھا۔"[37]

وہ سب سے زیادہ اپنی زَبّاء کے ساتھ مشہور داستان کی وجہ سے معروف ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ عمالقہ میں سے ایک شخص، جس کا نام عمرو بن الضرب بن حسان عمليقی تھا، شام اور فرات کے بالائی علاقوں کا بادشاہ تھا۔ اس کے اور جَذِیمہ کے درمیان جنگیں ہوئیں، جن میں جَذِیمہ نے اسے شکست دے کر قتل کر دیا۔ عمرو کی ایک بیٹی تھی جسے زینوبیا کہا جاتا تھا، اس نے اپنے باپ کے بعد حکومت سنبھالی۔ زَبّاء نے فرات کے کنارے دو آمنے سامنے شہر بسائے اور جَذِیمہ کو اپنے ساتھ شادی کی پیشکش کر کے دھوکے میں مبتلا کیا۔ جب وہ اس کے پاس تھوڑے سے لشکر کے ساتھ پہنچا تو اس نے اسے قتل کر کے اپنے باپ کا بدلہ لے لیا۔ بعد میں جَذِیمہ کے بھانجے عمرو بن عدی نے زَبّاء کو قتل کر کے اس کا انتقام لیا۔
عربی روایات میں اس جنگ کو صرف جَذِیمہ اور زَنوبیا (زَبّاء) کے درمیان دکھایا گیا ہے اور رومیوں کا کردار بیان نہیں کیا جاتا، جبکہ تاریخی روایات کے مطابق تنوخ نے تدمر کے خلاف رومیوں کی مدد کی۔ انھوں نے تدمر کے ساتھ اپنے اتحاد کو ختم کر کے جَذِیمہ کو تمام عربوں کا بادشاہ تسلیم کیا۔ تدمر کے ایک قدیم کتبے میں حیرہ کا ذکر ملتا ہے اور محققین کے مطابق تنوخ نے رومیوں کے ساتھ مل کر تدمر کو شکست دی اور فرات کے کنارے واقع شہر، جیسے حیرہ اور عانہ، اس سے چھین لیے۔ [38] .[39]
دمشق کے قریب دریافت ہونے والے "نقش ام الجمال" (جس کی تاریخ تقریباً 250 تا 270 عیسوی ہے) میں بھی جَذِیمہ کا ذکر ملتا ہے۔ مستشرقین کی قراءت کے مطابق اس میں لکھا ہے: "یہ فہر بن سلی کی قبر ہے، جو جَذِیمہ، بادشاہِ تنوخ، کا کمانڈر تھا۔" بعد میں عراقی نژاد امریکی محقق سعد الدین ابوالحب نے 2009 میں اس کتبے کی نئی قراءت پیش کی، جس میں اس نے سابقہ ترجمے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ متن کا مفہوم یہ ہے: "یہ فہر بن سلی کی قبر ہے، جو جَذِیمہ کا سپہ سالار اور تنوخ کا بانی تھا۔" یہ نئی تحقیق اس بات کی تائید کرتی ہے کہ جَذِیمہ واقعی تنوخ کا پہلا بادشاہ تھا، جیسا کہ بعض قدیم مؤرخین نے بھی ذکر کیا ہے۔[40]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : بوَّابة الشُعراء — PoetsGate poet ID: https://poetsgate.com/poet.php?pt=1836 — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اپریل 2022
- 1 2 مجاني الأدب في حدائق العرب - لويس شيخو - ج3 - الصفحة 304. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑
- ↑ "Prominent Murder Victims of the Pre- and Early Islamic Periods Including the Names of Murdered Poets - Muḥammad ibn Ḥabīb - Page 31."۔ 2023-07-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-21
- ↑ Manuel d'histoire - A.M.H.J. Stokvis - Page 65. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الأذكياء - ابن الجوزي - الصفحة ١٥٩. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الأغاني - أبو الفرج - ج15 - الصفحة 213. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ أمثال العرب - الضبي - ج1 - الصفحة 144. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ "المؤتلف والمختلف في اسماء الشعراء - الآمدي - ج1 - الصفحة 40."۔ 2023-07-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-21
- ↑ "البدء والتاريخ - المقدسي - ج3 - الصفحة 196."۔ 2025-12-19 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-21
- ↑ بلوغ الأرب في معرفة أحوال العرب - الألوسي - ج2 - الصفحة 329. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الأذكياء - ابن الجوزي - الصفحة ١٦٠. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الديباج - أبي عبيدة - ج1 - الصفحة 19. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ أنساب الأشراف - البلاذري - ج10 - الصفحة 102. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ The Politics and Culture of an Umayyad Tribe - Mohammad Rihan - Page 31. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ رحلة الحروف العربية - عفاف طبالة - الصفحة 31. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الصور الجمالیة للحروف الأبجدیة أساس - د. نعمات إبراھیم - الصفحة 38. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الكتابة العربية: نشأتها وتطورها - حمدى بخيت عمران - الصفحة 41. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الأغاني - أبو الفرج - ج15 - الصفحة 208. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ أمثال العرب - الضبي - ج1 - الصفحة 9. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ نسب معد واليمن الكبير - ابن الكلبي - ج2 - الصفحة 488. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ أخبار مكة وما جاء فيها من الآثار - الأزرقي - ج1 - الصفحة 95. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ المحبر - البغدادي - ج1 - الصفحة 299. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ العقد الفريد - ابن عبد ربه - ج3 - الصفحة 336. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ نسب عدنان وقحطان - المبرد - ج1 - الصفحة 22. آرکائیو شدہ 2023-04-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ لمؤتلف والمختلف - الدارقطني - ج3 - الصفحة 1628. آرکائیو شدہ 2023-07-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ بلاذری (1996)، جمل من كتاب أنساب الأشراف (بزبان عربی)، بیروت: Dār al-Fikr، ج 10، ص 102، OCLC:122969004، QID: Q114665392
- ↑ تاريخ الطبري - الطبري - ج ١ - الصفحة ٤٣٩. آرکائیو شدہ 2023-05-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الكامل في التاريخ - ابن الأثير - ج ١ - الصفحة ٣٤٢. آرکائیو شدہ 2020-08-05 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ ʻAlī ibn Hibat Allāh Ibn Mākūlā (1962)۔ al-Ikmāl fī rafʻ al-irtiyāb ʻan al-muʼtalaf wa-al-mukhtalaf min al- asmāʼ wa-al-kuná wa-al-insāb (بزبان عربی)۔ Dāʼirat al-Maʻārif al-ʻUthmānīyah
- ↑ أبو البقاء الحلي (1 جنوری 2023)۔ المناقب المزيدية في أخبار الملوك الأسدية (بزبان عربی)۔ Rufoof۔ ISBN:9786441071977
- ↑ تاريخ الطبري 1/308-317، وجمهرة أنساب العرب 379، ومجمع الأمثال 1/413
- ↑ الطبري 1/ 612
- ↑ البيان والتبيين 1/ 191
- ↑ حمزة "64 وما بعدها"، المؤتلف والمختلف ص39.
- ↑ حمزة "64".
- ↑ سلمة بن مسلم الصحاري (2006)۔ الأنساب للصحاري۔ محمد إحسان النص (4 ایڈیشن)۔ ج 1۔ ص 710
- ↑ Littmann, Nabataen Inscriptions from the Southern Hauran, p. 37 Cantineaue, Nabateen et Arabe, p. 27
- ↑ Saad D. Abulhab. DeArabizing Arabia: Tracing Western Scholarship on the History of the Arabs and Arabic Language and Script. Page 100. 2011. New York: Blautopf Publishing. 240 pg. 24 cm. آرکائیو شدہ 2014-09-22 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ سعد الدين أبوالحب، ترجمة الفصل الثالث: نقش النمارة العربي النبطي 328 م، من كتاب DeArabizing Arabia: Tracing Western Scholarship on the History of the Arabs and Arabic Language and Script. 2011. New York: Blautopf Publishing آرکائیو شدہ 2017-01-21 بذریعہ وے بیک مشین
