میمتھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جسام سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
میمتھ
عرصہ حیات کی حد: Early Pliocene to Early Holocene, 5–0.0045 ما
Columbian mammoth.JPG
Columbian mammoth پیج عجائب گھر لاس اینجلس میں۔
صنف بندی e
Genus: Mammuthus
Brookes, 1828
Type species
بال دار میمتھ
(Blumenbach, 1799 [originally Elephas])
انواع
متبادل نام
  • Archidiskodon بھولنگ، 1888
  • Parelephas آسبورن، 1924
  • Mammonteus

میمتھ (انگریزی: Mammoth) ایک قبل از تاریخ ناپید ہوجانے والے ہاتھی کو کہا جاتا ہے جو کہ جنس Mammuthus سے تعلق رکھنے والے جانداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان ہاتھیوں کے سامنے کے دانت یعنی انواب (tusks) خاصے طویل اور خمدار ہوا کرتے تھے۔ انکا عرصہ 48 لاکھ سال قبل تا 4،500 سال قبل تک کا بتایا جاتا ہے۔ mammoth کا اردو نام گو کہ فیل کبیر بھی آتا ہے لیکن لفظ ----- میمتھ ----- زیادہ بہتر ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ لفظ mammoth اپنی اصل الکلمہ میں تو مٹی کے معنوں میں ہے مگر آج کل جسیم ، نہایت بڑے اور باالفاظ دیگر میمتھ کے معنوں میں ہی رائج ہوچکا ہے۔ mammoth اصل میں روسی زبان کا لفظ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ روسی زبان کے اس علاقے سے آیا ہے کہ جو شمالی جانب ہیں اور وہاں فین و یوگری گروہ (Finno-Ugric) کی زبان میں maa کے معنی زمین کے بتاۓ جاتے ہیں ، اور اسی وجہ سے mammoth کا درست اور بنیادی نام پڑا کیوں کہ اس جاندار کی باقیات زمین کھود کر دریافت ہوئیں تھیں۔ میمتھ کا لفظ اختیار کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ انگریزی کے ہم پلہ ایک یک لفظی کلمہ ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ میمتھ اردو میں (بطور خاص سائنسی مضامین میں) انفرادی طور پر لفظ واحد کی شکل میں آنے کا امکان نا ہونے کے برابر ہے اور بالفرض کہیں آ بھی گیا تو بطور مرکب کوئی ابہام پیدا نا کر سکے گا۔

میمتھ کی ہلاکت[ترمیم]

بال دار میمتھ اس نسل کی آخری قسم تھا۔ بال دار میمتھ کی زیادہ تر آبادی شمالی امریکہ اور یوریشیا میں برفانی دور کے آخری زمانے میں ہلاکت کا شکار ہوگئی۔ ماضی قریب تک یہ خیال تھا کہ بال دار میمتھ یورپ اور جنوبی سائبیریا سے تقریباًً 10،000 سال قبلِ مسیح غائب ہوگئے تھے تاہم نئی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ بال دار میمتھ 8،000 سال قبلِ مسیح تک ان علاقوں میں موجود رہے۔ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد بال دار میمتھ شمالی سائبیریا سے بھی معدوم ہوگئے۔ [1] بال دار میمتھ کے ساتھ ساتھ کولمبیائی میمتھ بھی برفانی دور کے آخر میں شمالی امریکہ میں ناپید ہوگئے۔ ان کی آبادی کا کچھ حصہ سینٹ پال جزیرہ (الاسکا) پر بچا لیکن وہ بھی 6،000 سال قبلِ مسیح تک ختم ہوگئی۔[2] اور چھوٹے میمتھ بھی جزیرہ رینگل سے 2،000 سال قبلِ مسیح معدوم ہوگئے۔ تاہم میمتھ کی نسل کی ہلاکت یا معدوم ہونے کے حتمی اسباب پر فیصلہ کُن متفقہ رائے اب تک نہیں سامنے نہیں آسکی۔ تقریباًً 12،000 (بارہ ہزار) سال قبل جب گرم اور نم موسم نے اس کرہء ارض پر ڈیرے جمانے شروع کئے، دریاؤں کی بڑھتی ہوئی سطح نے ساحلی علاقوں کو تباہ کردیا۔ جنگلات اور چراگاہیں موسمی تغیرات کی تاب نہ لاسکے۔ جنگل کی بستیوں کے باسی غائب ہوگئے۔ جنگلی بیل اور میمتھ بھی اسی دوران غائب ہوئے۔ میمتھ کی ہلاکت موسمی تغیرات کی بدولت ہوئی یا اُس وقت کے لوگوں کے ہاتھوں شکار ہوکر، یہ بات اب تک متنازعہ ہے۔ ایک اور نظریہ سے یہ تجویز بھی ملتی ہے کہ شاید میمتھ کسی مہلک بیماری کا شکار ہوگئے۔ تاہم موسمی تغیرات اور انسان کے ہاتھوں میمتھ کے شکار کو، میمتھ کے غائب ہونے کی مناسب ترین وضاحت تسلیم کیا جاتا ہے۔
زندہ ہاتھیوں پر کی گئی ایک نئی تحقیق کے نتائج (دیکھیں لیوی 2006) سے یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ انسانی شکار بننا میمتھ کے معدوم ہونے کی بنیادی وجہ نہیں، تاہم میمتھ کی نسل انسانی شکار بننے سے متاثر ضرور ہوئی لیکن مکمل طور سے صرف انسانی شکار کو بنیاد بناکر اس قوی الجثہ جانور کے غائب ہونے کا الزام انسانوں کے سر پر تھوپنا مناسب نہیں کیونکہ تحقیق کے مطابق زمانہء قدیم کے انسانوں نے میمتھ کا گوشت تقریباًً 8۔1 ملین سال (ایک لاکھ اسی ہزار سال) قبل استعمال کیا تھا۔ (لیوی 2006:295)
تاہم امریکی ادارہ برائے حیاتیاتی سائنس اس بات کا بھی مشاہدہ کیا ہے کہ مرجانے والے ہاتھیوں کی ہڈیاں اگر زمین پر چھوڑ دی جائیں تو لامحالہ دوسرے ہاتھی اُنہیں پیروں تلے کچل دیتے ہیں جو کہ درندگی کی ایک ایسی علامت ہے جس کو پہلے کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے غلط تعبیر کیا تھا۔
روس کے جزیرہء رینگل پر بچ جانے والے پست قامت میمتھ بھی محض اس وجہ سے بچ سکے کہ وہ جزیرہ انتہائی دور دراز و غیر آباد تھا ۔ درحقیقت یہ جزیرہ سن 1820تک جدید تہذیب سے چھپا رہا، 1820ء میں امریکی مچھیروں نے اسے دریافت کیا تھا۔ اسی طرح کا پستہ قامت میمتھ جزیرہ نماء چینل کیلیفورنیا کے مضافات میں بھی پائے گئے تھے لیکن ابتدائی دور کے۔ ان جانوروں کو لگتا ہے کہ مقامی امریکی باشندوں نے قتل کیا تھا اور ان کی بستیوں کی تباہی دویاؤں کی بڑھتی ہوئی سطح کی سبب ہوئی۔

میمتھت[ترمیم]

بالدارمیمتھ کا مجسمہ، اپسووچ عجائب گھر، سوفولک
جنوبی ڈکوٹا میں دریافت کئے جانے والے میمتھ کے پنجوں کے نشان

میمتھ کی ایک غلط تشریح یہ کی جاتی ہے کہ یہ جدید دور کے ہاتھیوں سے بھی زیادہ قدآور اور قوی الجثہ تھے، یہ غلط فہمی یا غلط تشریح محض لفظ “میمتھ“ کے صفاتی معنوں کو سمجھنے سے ہوئی، میمتھ یعنی کہ “بہت بڑے جسم والا“۔ یقیناً اب تک پائے جانے والے میمتھ میں سب سے قدآور کیلیفورنیا کے شاہی میمتھ ہیں، جن کی لمبائی تقریباًً پانچ میٹر (16 فٹ) تک تھی اور ان کا وزن عموماً 6 سے 8 ٹن تک ہوتا ہوگا جوکہ کسی نر میمتھ کے بہت زیادہ قوی الجثہ اور قدآور ہونے کی صورت میں یہ وزن زیادہ سے زیادہ 12 ٹن تک ہوسکتاہے۔ 2005ء میں لینکولن،الینوس کے شمال میں ایک 3۔3(11 فٹ) لمبا میمتھ کے ہاتھی دانت (انواب) دریافت ہوئے تھے۔ [3] میمتھ کی زیادہ تر اقسام کی زیادہ سے زیادہ میمتھت آج کے دور کے ایشیائی ہاتھی سے زیادہ نہیں تھی۔ کیلیفورنیا کے جزیرہء چینل اور بحیرہ روم کے جزہرہ ساردینیا پر بھی پستہ قامت میمتھ کے پنجوں کے نشانات دریافت کئے گئے ہیں۔ میمتھ کے قریبی رشتہ دار یعنی جدید ہاتھیوں پر کی گئی اب تک کی تحقیقات کے مطابق، میمتھ کے حمل کا دورانیہ ممکنہ طور پر 22 ماہ کا تھا اور یہ ایک وقت میں ایک ہی بچے کو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کا سماجی ڈھانچہ ممکنہ طور پر ایسا ہی تھا جیساکہ افریقی یا ایشیائی ہاتھیوں کا ہوتاہے۔ مادائیں گلے کی شکل میں بڑی عمر کی مادہ کی نگرانی میں رہتی تھیں اور نر الگ گروہ میں رہا کرتے تھے۔

اچھی حالت میں محفوظ نمونے[ترمیم]

مئی، 2007ء میں روس کے ایک نواحی علاقے میں ایک نابالغ مادہ بال دار میمتھ کی لاش زمین کی منجمد تہوں سے نکالی گئی، جہاں وہ تقریباًً سینتیس ہزار (37،000) سال پہلے دفن ہوگئی تھی۔ روس کے ادارہ برائے حیوانی حیاتیات کے نائب منتظم الیکس تیکونوف نے تنسیل کے امکان کو مسترد کردیا کیونکہ اس کے لئے لاش کے خلیات کو منجمد حالت میں توڑ پھوڑ کا سامنا کرنا پڑتا۔ تاہم غالب امکان ہے کہ اس کا ڈی این اے محفوظ کرلیا جائیگا تاکہ مستقبل میمتھ کے نسلی ارتقاء اور عضویات کے مطالعے میں کام آسکے۔[4][5]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ انتھونی جے سٹیوارٹ, لیوپولڈ ڈی۔ سولرزشتکی، لویوبو اے۔ اورلووا، یاروسلو۔وی۔ قزمن اور ایڈرین۔ایم۔لسٹر: یورپ اور ایشیاء میں جدید بال دار میمتھ:چوعنصری سائنسی جائزہ، جلد نمبر 21, Issues 14-15, August 2002, Pages 1559-1569 روئے خط
  2. ^ "بال دار میمتھ (Mammuthus primigenius)". ادارہ برائے قدرتی علوم. http://www.ansp.org/museum/jefferson/otherFossils/mammuthus.php#top۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-07-20.
  3. ^ 'حال ہی میں دریافت کئے گئے میمتھ کے دانت کی نمائش الینوس کے قومی عجائب گھر میں الینوس محکمہ برائے قدرتی وسائل کی پریس ریلیز 14اگست، 2006
  4. ^ رنکن، پال (2007-07-10). "میمتھ کے بچے کی دریافت بے نقاب". news.bbc.co.uk (بی بی سی). http://news.bbc.co.uk/1/hi/sci/tech/6284214.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-07-13.
  5. ^ سولویوف، ڈمٹری. "میمتھ کے بچے کی دریافت-تحقیق کی دنیا میں نئے عہد کا آغاز". reuters.com. http://www.reuters.com/article/scienceNews/idUSL1178205120070711.