جسم دافع
| مناعی یا مدافعتی نظام اور اس کی شاخوں یا اقسام کا ایک شجری خاکہ جس میں غلیل یا Y شکل کی ضد کو قرص نما چھوٹے اجسام (تریاق زا (angtigens)) سے تفاعل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ |
جسم دافع یا ضدِ جسم (اینٹی باڈی)، کثیر خلوی جانوروں کے دفاعی نظام کا پیدا کردہ لحمیہ ہے جو جسم میں کسی اینٹی جن کے رد عمل کے طور پر بنایا جاتا ہے۔ اینٹی جن لحمیہ یا پولی سیکرائیڈ پر مشتمل وہ بیکٹیریا، بیکٹیریائی زہر، وائرس، دیگر خلیے یا مالیکیول ہیں جو جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ اینٹی جن جسم میں داخل ہونے کے بعد مختلف مادوں کے ساتھ ملاپ کرتے اور یوں جسمانی عملوں کو معطل کر دیتے ہیں۔ جسم میں موجود لاکھوں بی لمفو سائٹ نامی سفید خلیوں میں سے ہر ایک مختلف طرح کا اینٹی باڈی بنا سکتا ہے۔ ان میں سے ہر خلیے میں اینٹی جن کے ساتھ چپک جانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ یہ خلیہ نہ صرف اس اینٹی جن کے توڑ میں اینٹی باڈی بناتا ہے بلکہ اس کے بعد اپنے ہی جیسے بہت سے خلیے کلوننگ کے عمل میں پیدا کرتا ہے۔ اس طرح جسم میں اس مخصوص اینٹی جن کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ اب اگر کبھی اسی طرح کا اینٹی جن جسم میں داخل ہوتا ہے تو اسے بہ آسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔
یہ اصول حفاظتی ٹیکے (Vaccination) میں کار فرما ہوتا ہے۔ ویکسین کے عمل میں کمزور اینٹی جن جسم میں داخل کیے جاتے ہیں۔ جسم ان کے خلاف اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتا ہے جو اینٹی جن کو تیزی سے ہلاک کر ڈالتے ہیں۔ جسم یہ اینٹی باڈیز بنانا جاری رکھتا ہے یہاں تک انسان بیماری سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے بہت سی بیماریوں مثلا پولیو اور خسرہ وغیرہ پر قابو پایا جا چکا ہے۔
کچھ اینٹی جن زہریلے ہوتے ہیں اور عفونتی زہر (Toxin) کہلاتے ہیں۔ وہ اینٹی باڈیز جو ان زہروں کا اثر زائل کر دیتے ہیں، دافع زہر (Antitoxin) کہلاتے ہیں۔ زہریلے سانپوں میں شدید قسم کا زہر پایا جاتا ہے۔ جب یہ کسی جاندار کو کاٹتے ہیں تو اپنے دانتوں کے ذریعے زہر اپنے شکار کے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ تب جسم اس زہر کا اثر زائل کرنے کے لیے دافع زہر تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بعض صورتوں میں جسم میں داخل ہونے والا زہر اتنا شدید ہوتا ہے کہ جسم مطلوبہ تیزی سے اس زہر کے خلاف دافعِ زہر پیدا نہیں کر سکتا۔ لہذا ایسی صورت میں مصنوعی دافع زہر کا انجکشن لگانا ضروری ہوتا ہے ورنہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
