جعفر ابن ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جعفر ابن ابی طالب
Jafar Bin Abu Taleb Name.gif 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 589  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 629 (39–40 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
موتہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ اسماء بنت عمیس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد بن جعفر،عون بن جعفر،عبداللہ بن جعفر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمہ بنت اسد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ واعظ،عسکری قائد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ موتہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

جعفر ابن ابی طالب جعفر طیار کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔ آغاز اسلام کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے حبشہ کو ہجرت کی تو آپ مہاجرین کے قائد تھے۔ شاہ حبشہ نجاشی کے دربار میں آپ کی تقریر ادب کا شہ پارہ اور اسلام کا خلاصہ تصور کی جاتی ہے۔ جنگ موتہ میں اسلامی لشکر کے سپہ سالار تھے۔ اسی جنگ میں شہادت پائی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طیار ’’تیز اڑنے والا، جنت کی طرف‘‘ کا لقب مرحمت فرمایا۔

حالات[ترمیم]

آپ کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب نے پالا تھا۔ آپ اور آپ کی زوجہ اسماء بنت عمیس اولین مسلمانوں میں سے ہیں اور حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں میں شامل ہیں۔ حبشہ میں نجاشی کے سامنے آپ نے سورہ مریم کی تلاوت کی جس پر نجاشی نے مسلمانیں کو مشرکینِ مکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جعفر طیار جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔ آپ کا روضہ اردن کے شہر عمان سے 140 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ھجرت حبشہ[ترمیم]

قریش مکہ کے تنگ کرنے پر مسلمانوں کے ایک گروہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ جعفر طیار اس گروہ کے سربراہ تھے۔ اس سفر میں ان کی زوجہ اسماء بنت عمیس بھی ان کے ھمراہ تھیں۔ یہاں انہوں نے تقریباً دس سال گزارے۔ سن 7 ہجری میں جنگ خیبر کے بعد ان کی عرب واپسی ہوئی۔ جب مسلمانوں نے حبشہ کو ہجرت کی اس کے کچھ ہی عرصہ بعد مشرکین مکہ نے اپنے نمائندے حبشہ بھیجے تاکہ وہ ان مسلمانوں کو گرفتار کر کے واپس لے آئیں۔ مشرکین کے نمائندوں میں عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ شامل تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ انہوں نے نجاشی سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں نے اپنا سابقہ دین چھوڑ دیا ہے اور وہ مجرم ہیں اس لیے انہیں کفار مکہ کے حوالے کر دیا جائے۔حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر کچھ سوالات کیے جن کے جواب جعفر طیار نے دیے۔

نجاشی نے جب جعفر طیار سے ان کے نئے دین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا

ہم جہالت کی زندگی گذارتے تھے تو یہ دین آیا جس میں حکم ہے کہ ہم سچ بولیں، اپنے وعدوں کو پورا کریں، اپنے قرابتداروں سے اچھا سلوک کریں، تمام ممنوعہ (برے) کام ترک کر دیں، قتل و غارت سے اجتناب کریں، سرکشی چھوڑ دیں، جھوٹی گواہی نہ دیں، یتیموں کا حق غصب نہ کریں اور پاکدامن عورتوں پر تہمت نہ لگائیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کہ شریک نہ کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، رمضان میں روزے رکھیں۔ ہم نے ان کی اطاعت کی اور اس بات کو مانا جو وہ اللہ کی طرف سے لائے۔ ہم ویسا کرتے ہیں جیسا وہ کہتے ہیں اور اس چیز سے دور رہتے ہیں جس سے وہ منع فرماتے ہیں۔

اس کے علاوہ نجاشی نے فرمائش کی کہ قرآن سے کچھ سنائیں تو نجاشی کے سامنے آپ نے سورہ مریم کی تلاوت کی جس میں عیسیٰ اور مریم کا ذکر آتا ہے۔ اس کا نجاشی پر بہت اثر ہوا اور اس نے مسلمانوں کو کفار مکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا، کفار کے دیے ہوئے تحائف واپس کر دیے اور مسلمانوں کو حبشہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔

جعفر طیار کی واپسی[ترمیم]

جعفر طیار  سن 7 ہجری میں واپس آئے جب مسلمان خیبر کی جنگ جیت کر آ رہے تھے۔ روایت کے مطابق  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ معلوم نہیں کون سی چیز زیادہ دل خوش کن ہے۔ جعفر کا آنا یا جنگ خیبر جیتنا۔

جنگ موتہ اور شہادت[ترمیم]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ پیغامبر شام کی طرف بھیجے تھے جن کو ان لوگوں نے سفارتی روایات کے بر خلاف گرفتار کر کے موتہ کے قریب قتل کر دیا۔  محمد نے نے ایک فوج کو حکم دیا۔ تین ہزار کی فوج تیار ہوئی جس کے امیر  زید بن حارثہ تھے۔ حضور کا حکم ہی تھا کہ  زید بن حارثہ  کے بعد  جعفر طیار  مسلمانوں کے امیر ہوں گے۔ یہ جنگ رومنوں اور عرب قبیلوں کی کی فوج کے ساتھ ہوئی۔ ایک وقت پر  زید بن حارثہ  زخمی ہو کر گر پڑے تو  جعفر طیار  نے علم سمبھال لیا۔ دشمنوں نے ان کو گھیرے میں لے لیا اور مل کر ان پر حملہ کر دیا۔  جعفر طیار  بڑی بہادری سے لڑے مگر ان کو زخم لگے۔ اس دوران ان کے دونوں بازو کٹ گئے اور وہ گر کر شہید ہو گئے۔ 

یہ خبر جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا

جبرائیل نے مجھے مطلع کیا ہے کہ اللہ نے جعفر کو دو پر عطا کیے ہیں جس سے وہ جنت میں پرواز کرتے ہیں

اسی حدیث کی وجہ سے انہیں طیار( تیز اڑنے والا) کا خطاب ملا۔ آپ کا روضہ اردن کے شہر عمان سے 140 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اولاد[ترمیم]

جعفر طیار  کی تین اولادوں کے نام ملتے ہیں۔ 

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]