جلال الدین التونسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جلال الدین التونسی
عربی: جلالا لتونسي
خلیفہ
داعش کا لیڈر
پیشرو نیا عہدہ
ذاتی تفصیلات
پیدائش محمد بن سالم العیونی
1982
Flag of Tunisia.svg تونس
قومیت Flag of France.svg فرانس
مذہب اہل سنت
فوجی خدمات
سالہائے خدمات 2004 تا حال
لڑائیاں/جنگیں

دہشت کے خلاف جنگ
عراق

شام

Military intervention against ISIL

فوجی زندگی

جلال الدین التونسی کا نام ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد داعش کے نئے سربراہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جلال الدین التونسی کا اصلی نام محمد بن سالم العیونی ہے۔ وہ 1982ء میں تیونس کے ساحلی صوبے سوسہ کے علاقے مساکن میں پیدا ہوا۔ 90ء کی دہائی سے وہ فرانس ہجرت کر گیا۔ تیونس میں انقلاب کے بعد 2011ء میں وہ وطن واپس آگیا لیکن اس سے پہلے وہ فرانسیسی شہریت حاصل کر چکا تھا۔ اس کے بعد وہ لڑائی میں شرکت کے لیے شام چلا گیا۔ 2014ء میں اس نے داعش تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ جلد ہی ابو بکر البغدادی کے قریب سمجھے جانے والے تنظیم کے اہم ترین کمانڈروں میں شامل ہوگیا۔اسے پہلی بار 2014 میں شام اور عراق کے درمیان میں سرحدی رکاوٹوں کو ختم کرنے والے داعش کے ارکان کی وڈیو میں دیکھا گیا۔ لیبیا میں داعش کے گڑھ سرت میں لیبیائی اسپیشل فورس اور امریکی فضائی حملوں کے بعد ابوبکر البغدادی نے گزشتہ برس التونسی کو لیبیا میں داعش کا امیر مقرر کر دیا۔جس کی وجہ التونسی کی صلاحیت اور شمالی افریقا میں بعض شدت پسند تنظیموں کے ساتھ اٴْس کے اچھے تعلقات تھے۔[1]۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]