جلال الدین بنکرس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


اس کا نام جلال الدین منگبرنی تھا اور یہی نام اس کے سکوں پر بھی ضرب ملتا ہے۔ علاؤ الدین محمد شاہ 1200 تا 1220 عیسوی کے بعد اُس کے بیٹے جلال الدین منگبرنی  نے اگلے گیارہ برس یعنی  629 ہجری ( 1231  عیسوی)  تک بھرپور مزاحمت کی ۔ عطا ملک جوینی کے مطابق جب سلطان علاالدین مازندران اور بحیرہ خزر کی جانب روانہ ہوا تو اس کا بیٹا جلال الدین منگبرنی خراسان اور بالخصوص غزنی کی جانب پلٹا۔  مقامی منگول لشکروں کے کمانڈروں کو اس کی روانگی کا علم ہو گیا تو انہوں نے اس کا پیچھا شروع کیا ۔ جلال الدین جب زوزون کے مقام پر پہنچا تو شہر کے لوگوں نے اس کو پناہ دینے سے انکار کر دیا کہ  اس سے منگولوں کا غیظ و غضب  اُن کی جانب نہ ہوگا۔ جلال الدین نے بہت دقت سے غزنی پہنچ کر  وہاں کے حاکم امین ملک کے پاس پناہ لی۔ سردیاں وہاں گذارنے کے بعد جلال الدین نے پروان کا رُخ کیا ، (جو مترجم کے مطابق غوربند اور چاریکار کے نزدیک واقع ہے لیکن ریورٹی نے اس کو غزنی اور بامیان کے درمیان ایک مقام لکھا ہے جو شاید درست نہ ہے کیونکہ جلال الدین کو جس وقت  چنگیز کی فوج نے آن گھیرا تو وہ  پہاڑی درے (غالباً درہ ٹوچی)  عبور کرکے وادی پشاور سے  انتہائی جنوب میں (موجودہ کالاباغ  کے مقام پر ) دریا سندھ عبور کرنے والا تھا)  اور  ان علاقوں میں موجود منگولوں کے چھوٹے لشکروں کو تتر بتر کر دیا۔ صرف پروان کے مقام پر جس لشکر سے مُڈھ بھیڑ ہوئی اس کے ایکہزار منگول سپاہیوں کو ہلاک کر دیا اور باقی دریا کی دوسری جانب فرار ہو گئے اور درمیان میں موجود پُل بھی ناکارہ بنا گئے(اگرچہ اس علاقہ میں کوئی قابل ذکر دریا نہ ہے لیکن بارشوں کے موسم  کا آغاز تھا اور ممکن ہے پانی کے ریلوں کی وجہ سے چھوٹے پہاڑی نالے بھی بغیر پُل عبور کرنا ممکن نہ ہو)۔ جب چنگیز خان کو جلال الدین کی موجودگی اور منگول لشکروں کی شرمناک شکست اور  پسپائی کی خبر ملی تو  اس نے اپنے پوتے شیگی قتو قتو  کو تیس ہزار چیندہ منگولوں سواروں  کا  ایک تیز رفتار لشکر دے کر پروان کی جانب روانہ کیا جو چھٹے روز اچانک   علی الصبح  پروان کے نزدیک نمودار ہوا۔   سلطان جلال الدین اگرچہ منگولوں کی اتنی جلد آمد پر حیران تو ہوا لیکن فوراً فوج کو صف بندی کروا کے جنگ کا آغاز کیا۔ پہلے روز کی لڑائی فیصلہ کُن نہ رہی اور شام کو سالاروں کی   مجلس مشاورت میں سلطان کو متعدد بار مشورہ دیا گیا  کہ میدان خالی چھوڑ کر فرار ہوجائیں لیکن اُ س نے انکار کر دیا۔ اگلی صبح لڑائی میں  شیگی قتو قتو مارا گیا اور منگول فوج کو فرار ہونا پڑا۔ اگرچہ انہوں نے پسپا ہوتے ہوتے ایکمرتبہ پھر پلٹ کر حملہ کیا اور اپنا پیچھا کرتے ہوئے 500 ترک فوجیوں کو شہید کر دیا   لیکن  عطا ملک جوینی کے الفاظ میں  "سلطان ایک دھاڑتے ہوئے شیر کی مانند اُ ن پر جھپٹا اور منگول لشکر کو خاک میں ملادیا"۔   وہی دو منگول جرنیل  جنھوں نے پہلے بھی  پروان کے مقام پر دریا کا پُل تڑواکر اپنی  جان بچائی تھی اس مرتبہ بھی زندہ بچ کر چنگیز کے پاس پہنچے  اور شیگی قتو قتو  کے لشکر کی تباہی کا احوال بیان کیا۔  چنگیز اس  وقت  طالقان کے شہر کو مسخر کر رہا تھا۔ اس شکست کے احوال اور اپنے پوتے  شیگی قتو قتو کی ہلاکت کی خبر نے اس کو  شدید غصہ اور انتقام  کی خواہش سے نیم  پاگل کر دیا۔ اس نے فوراً اپنے کُل لشکر کیساتھ پروان کا رُخ کیا تاکہ سلطان کو پکڑ سکے۔ اس کا یہ تیز رفتار لشکر   ہر دن میں ایک کی بجائے دو منزلیں طے کرتا ہوا  سلطان کے لشکر سے اس وقت آن ٹکرایا جب سلطان مشرق میں سفر کرتا ہوا بہت دور جاچکا تھا اور  دریائے سندھ عبور کرنے والا تھا۔  (اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ پروان یا فروان کا مقام  وہی ہے جو مترجم نے لکھا ہے یعنی چاریکار  اور غوربند کے نزدیک اور  سلطان جلال الدین  یہاں سے مشرق کی جانب  روایتی راستے کو چھوڑ کر   جنوب کی جانب جا کر  درہ ٹوچی کو عبور کرکے موجودہ کالاباغ  کے مقام کے نزدیک کہیں  دریا ئے سندھ عبور کرنے والا تھا)۔  چنگیز کے بیٹے  اوگدائی اور چغتائی بھی عین  اسی وقت اپنے لشکروں کیساتھ  وہاں پہنچ گئے اور  ایک کمان کی صورت میں سلطان کی فوج کو گھیر لیا  جس میں  کمان کی رسی  کی جگہ پر دریائے سندھ تھا۔ یہ  برسات کا موسم تھا اور دریا میں پانی انتہائی اونچے درجہ کے سیلاب  پر تھا۔  سلطان نے علی الصبح  سے دوپہر تک شدید  مزاحمت کی لیکن جب صرف 700 سوار باقی رہ گئے تو سلطان کے ماموں زاد نے سلطان کو گھوڑے پر سوار کروایا اور  سلطان نے  اپنے خاندان، حرم اور  بچوں کو جو اسی نرغے میں تھے،   الوداع کہہ کر  گھوڑے سمیت 80 یا 100 فٹ کی بلندی سے   دریا میں چھلانگ لگا دی اورگھوڑے سمیت  تیرتا ہوا  دریا  کا قریباً ایک کلومیٹر یا اس  سے بھی زیادہ وسیع پاٹ عبور کر کے دوسرے کنارے پر جا نکلا۔ منگولوں نے چنگیز خان کے سامنے سُرخ رو ہونے کے لیے  بہت تیر چلائے  اور نیزے پھینکے لیکن سلطان کو ایک بھی نہ لگ سکا۔     کچھ منگولوں نے دریا میں اتر کر سلطان کا پیچھا کرنے کی اجازت چاہی لیکن چنگیز خان نےمنع کر دیا کہ یہ دریا ترکستان، ماوراالنہر اور خوارزم کے دریاؤں سے بہت بڑا ہے اور فوج اس کو عبور کرنے کی کوشش میں تباہ ہوجائے گی۔   جب سلطان تیر کر دریا عبور کرہا تھا تو  تمام منگول سردار مع چنگیز خان کنارے پر کھڑے اس کو دیکھ رہے تھےا ور حیرت اور اچنبھے سے چنگیز  نے  اپنا ہاتھ اپنے  مونہہ   پر رکھا ہوا تھا۔  جب سلطان دریا سے باہر نکل گیا تو  چنگیز خان نے پلٹ کر اپنے بیٹوں کو کہا کہ "ایک باپ کے پاس ایسے بیٹے ہونے چاہیے" [1]۔

منگولوں نے بچے کھچے خوارزمیوں کو قتل کرنے کے بعد سلطان کے حرم کی عورتوں کو وہیں پر آپس میں تقسیم کر لیا اور سلطان کی تمام نرینہ اولاد جس میں شیر خوار بچے بھی شامل تھے ہلاک کر دیے گئے۔سلطان نے اپنا تمام خزانہ لڑائی شروع ہونے پر دریا بُرد کروادیا تھا  جو منگولوں نے نکالنے کی کوشش کی لیکن چنداں کامیابی نہ ہوئی۔

سلطان جلال الدین نے دہلی کے ترک النسل سلطان التتمش کے پاس پناہ طلب کرنے کے لیے  تیز رفتار ہرکارے اور ایلچی بھیجے  لیکن منگولوں کے غضب سے بچنے کے لیے اُس نے واضح طور پر پناہ دینے سے  انکار کر دیا۔ سلطان سندھ، ٹھٹھہ،  بھکر ، ملتان اور پنجاب کے علاقوں میں گھومتا پھرا اور ناصر الدین قباچہ کو بھی دو مرتبہ شکست دی  لیکن بالآخر  بلوچستان و سیستان کے راستے ایران اور وہاں سے  شمالی عراق کا رُخ کیا (ان علاقوں  یعنی پنجاب، سندھ و سیستان )سے سلطان جلال الدین کے جاری شدہ سکے اس بات کا ثبوت ہیں۔سلطان جلال الدین   گیارہ برس مزاحمت کرنے کے بعد 629 ہجری ( 1231 عیسوی)  میں کردستان کے علاقہ میں مقامی کرد دہقانوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا۔   بچے کھچے   اور منتشر خوارزمی فوجی  منگول افواہ ج کے تعاقب اور گرفت سے کئی برس تک بچتے رہے اور  بالآخران کو ایوبی سلطان  الملک الصالح نجم الدین  نے اپنی فوج میں بھرتی کر لیا اور ان کی مدد سے   بیت القدس  جو چھٹی صلیبی جنگ کے نتیجہ میں مقدس رومن شہنشاہ فریڈرک دوم کے قبضہ میں چلا گیا تھا ، پر حملہ کرکے  642 ہجری 1244 عیسوی میں  اچانک مسیحیوں سے چھین لیا   (جنگ عظیم اول کے خاتمہ   1918 عیسوی تک بیت المقدس  مسلمانوں کے قبضہ میں رہا )  اور صلیب الصلبوت یا  اُن کی وہ مقدس صلیب جس پر اُن کے  عقیدے کے مطابق جناب مسیح علیہ السلام کو سولی دی گئی تھی، اُس کو بھی چھین کر جلا ڈالا۔ چونکہ یہ خوارزمی جنگجو  ایوبی   سلطان کے زیادہ مطیع اور فرماں بردار نہ تھے تو سلطان  الصالح نجم الدین نے کسی بہانہ سے ان کے لیڈروں پر حملہ کرکے ان کو ہلاک کر دیا اور باقی ماندہ کو فلسطین، شام، مصر میں منتشر کر دیا۔اس  واقع یعنی فتح بیت المقدس کے 16   برس بعد منگولوں نے  ہولاگو کے دور حکومت میں  1260  عیسوی میں مصر پر حملہ کیا تو   مصر کے جس سلطان  (سیف الدین قطز )نے ان کو  فلسطین میں عین جالوت کے میدان جنگ میں شکست فاش دی وہ خودسقوط خوارزم کے موقع پر  15 برس کی عمر میں خوارزم سے غلام بنا کر لایا گیا تھا اور مصر میں فروخت ہوا تھا یعنی خوارزمی ترک تھا۔

  1. جوینی، عطا ملک. "تاریخ جہاں گُشا".