جماعت محمدیہ (انڈونیشیا)
لوگو | |
Zone of influence | |
| قسم | تنظیم |
|---|---|
| مقصد | اسلامی مذہبی |
| صدر دفاتر | Jl. Cik Dik Tiro،یوگیاکارتا،خصوصی علاقہ یوگیاکارتا، انڈونیشیا |
| رکنیت | 50 million |
قائد | ڈاکٹر حیدر ناشر |
| ویب گاہ | Official website |
جماعت محمدیہ یا محمدیہ (انگریزی: Muhammadiyah) (عربی: محمديہ) (محمد کے پیروکار) انڈونیشیا کی ایک بڑی اسلامی غیر سرکاری تنظیم ہے۔[1]
تعارف
[ترمیم]جماعت محمدیہ 1912ء میں قیامِ عمل میں آئی اور اس کا قیام اصلاحِ دینی، تعلیمی ارتقا اور سماجی بہبود کو بنیادی مقصد بنا کر کیا گیا۔ تنظیم کا اَبھار احمد دحلان (K.H. Ahmad Dahlan) کی تقلید اور جدید اصلاحی فکر کے زیرِ اثر ہوا۔ محمدیہ کا منشور قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات پر مبنی ہے اور یہ اجتہاد، بدعات کے ازالے اور سادہ طرزِ زندگی پر زور دیتی ہے۔
تاریخی پس منظر
[ترمیم]محمدیہ نے نوآبادیاتی دور اور مذہبی جمود کے جواب میں ایک منظورِ نظر تحریک کے طور پر جنم لیا۔ احمد دحلان نے تعلیمی اور سماجی ادارے قائم کرکے انڈونیشیا میں مذہبی شعور اور جدید تعلیم کو یکجا کیا۔ تنظیم نے صدیِ بیسویں میں تیزی سے وسعت پائی اور ملکی سطح پر قابلِ توجہ تعلیمی و فلاحی نیٹ ورک قائم کیا۔
تعلیمی خدمات
[ترمیم]محمدیہ انڈونیشیا میں جدید اور دینی تعلیم کے امتزاج کا ایک منفرد اور کامیاب ماڈل چلاتی ہے۔ تنظیم نے ملک بھر میں اپنا وسیع تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا ہے جس میں سیکڑوں اسکول، مدرسے، تربیتی ادارے اور تحقیقی مراکز شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ متعدد کالجز اور ممتاز جامعات—جیسے جامعہ محمدیہ یوگیا کرتا (Universitas Muhammadiyah Yogyakarta) اور جامعہ محمدیہ ملنگ (Universitas Muhammadiyah Malang) بھی محمدیہ کے انتظام میں چلتے ہیں۔ ان اداروں میں جدید نصاب کے امتزاج کے ساتھ مضبوط دینی بنیاد فراہم کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا تعلیمی ماحول تشکیل پاتا ہے جو تحقیق، نظم و ضبط، معیاری تعلیم اور سماجی خدمت جیسے بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ انڈونیشیا میں محمدیہ کے تعلیمی اداروں کو نہ صرف ان کی اعلیٰ کارکردگی، تربیتی معیار اور انتظامی مضبوطی کے سبب شہرت حاصل ہے بلکہ یہ ادارے ملکی ترقی، انسانی وسائل کی تیاری اور سماجی اصلاح کے عمل میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے محمدیہ کا تعلیمی ماڈل انڈونیشیا بھر میں احترام اور اعتماد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔[1]
صحت اور سماجی خدمات
[ترمیم]محمدیہ صحتِ عامہ اور فلاحِ عامہ کے شعبوں میں بھی نہایت فعال اور مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ تنظیم پورے انڈونیشیا میں متعدد اسپتالوں، کلینکس اور جدید طبی مراکز کا وسیع نیٹ ورک چلاتی ہے، جن میں بنیادی صحت سے لے کر خصوصی علاج تک کی طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محمدیہ کے موبائل ہیلتھ یونٹس دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں پہنچ کر ان لوگوں کو سہولیات فراہم کرتے ہیں جو عام طور پر طبی سہولتوں تک رسائی نہیں رکھ پاتے۔ ادارہ سماجی بہبود کے میدان میں بھی نمایاں ہے، جس کے تحت یتیم خانوں، بزرگوں کے نگہداشت مراکز اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے مختلف فلاحی پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ قدرتی آفات کے دوران محمدیہ کی امدادی شاخ MDMC (محمدیہ آفات کی نظامت کا مرکز Muhammadiyah Disaster Management Center) فوری طور پر متحرک ہوتی ہے اور متاثرہ علاقوں میں راحت، بچاؤ اور بحالی کے منظم آپریشنز سر انجام دیتی ہے۔ اپنی مربوط، منظم اور انسانی خدمت پر مبنی سرگرمیوں کے باعث محمدیہ انڈونیشیا میں صحت اور فلاحِ عامہ کے میدانوں میں ایک قابلِ اعتماد اور بااثر ادارے کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔
نظریاتی اصول اور اصلاحی موقف
[ترمیم]محمدیہ کا نظریہ اسلامی اعتدال، اجتہاد اور نصوص کی اصولی تشریح پر مبنی ہے۔ یہ تحریک بدعات و غیر مستند رسوم کی مخالفت کرتی ہے اور ایسے تصوفی رجحانات کی حمایت کرتی ہے جو اخلاق و تزکیۂ نفس پر زور دیتے ہوں۔ محمدیہ کی فقہی سوچ میں عقل و نص کے درمیان توازن اور عصرِ حاضر کی ضروریات کو مدِ نظر رکھنا شامل ہے۔
سماجی و قومی اثرات
[ترمیم]محمدیہ نے انڈونیشیا کی جدید تاریخ میں ہمہ جہت اور گہرا اثر چھوڑا ہے۔ تنظیم نے قومی تعلیمی اہداف کے حصول میں حکومت اور معاشرے کے ساتھ مل کر نمایاں کردار ادا کیا، خصوصاً معیاری تعلیم کی فراہمی اور انسانی وسائل کی ترقی میں اس کا حصہ بہت اہم ہے۔ خواتین کی تعلیم اور ان کی سماجی شرکت کے فروغ میں بھی محمدیہ پیش پیش رہی ہے، جس کی ایک نمایاں مثال اس کی ذیلی تنظیم ’’عائشیہ‘‘ (Aisyiyah) ہے جو نہ صرف خواتین کے تعلیمی ادارے چلاتی ہے بلکہ سماجی بیداری، صحت، بہبود اور خواتین کے حقوق کے لیے مسلسل سرگرم رہتی ہے۔ اسی طرح ملکی آزادی کی تحریک اور بعد از آزادی سماجی اصلاحی سرگرمیوں میں بھی محمدیہ کے کارکنوں نے عملی کردار ادا کیا اور معاشرے میں اعتدال، اخلاقی اصلاح اور ترقی پسند اسلامی فکر کو فروغ دیا۔ اگرچہ محمدیہ براہِ راست کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے اور نہ سیاسی اقتدار کی خواہاں رہی ہے، اس کے باوجود اس کے علما، دانشور اور کارکن مختلف ادوار میں انڈونیشیا کی سماجی و سیاسی زندگی پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں اور اصلاحات، شفافیت، عدل اور اجتماعی فلاح کے نظریات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے رہے ہیں۔
بین الاقوامی روابط
[ترمیم]محمدیہ کے تعلیمی، تحقیقی اور فلاحی ادارے بین الاقوامی سطح پر بھی کام کر رہے ہیں۔ تنظیم جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر مسلم اداروں کے ساتھ رابطوں، بین المذاہب مکالمے اور عالمی تعلیمی منصوبوں میں شریک رہتی ہے۔
تنظیمی ڈھانچہ
[ترمیم]محمدیہ ایک مرکزی قیادت اور علاقائی شاخوں کے ساتھ منظم نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کے ماتحت خواتین، نوجوان، تعلیمی اور امدادی ونگز فعال ہیں جن میں ہر ونگ کی اپنی ذمہ داریاں اور پروگرام ہوتے ہیں۔[2]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب A. Jalil Hamid, Tackle the rising cost of living longer. New Straits Times, 30 October 2016. رسائی: 1 نومبر 2016.
- ↑ Alwi Shihab (2011)۔ Muhammadiyah: A Reformist Movement۔ University of Indonesia Press۔ ص 55–60