جمال الدین ہانسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جمال الدین ہانسوی
جمال الدین ہانسوی مزار.jpg
مذہب اسلام، خاص طور پر چشتیہطریقت
ذاتی تفصیل
پیدائش 583 ہجری (1187ء)

غزنی
وفات 659 ہجری (1260ء)

ہریانہ میں ہنسی کے مقام پر، بھارت
عمومی معلومات
مقام ہریانہ
خطاب خلیفہ
دور ابتدائی 13ویں صدی
پیشرو بابا فرید الدین گنج شکر
جانشین مختلف, شیخ بہاء الدین الدین سمیت اور شیخ قطب الدین منور

جمال الدین ہانسوی کا سلسلہ نسب براہ راست امام ابوحنیفہ سے ملتا ہے، جو اسلامی قانون (فقہ) پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی شخصیت ہیں۔ آپ غزنی (خراسان) میں پیدا ہوئے، جو موجودہ افغانستان میں ہے۔ 583 ھ میں جب آپ 5 سال کے تھے، آپ کے خاندان نے بھارت کے شہر ہریانہ کے مقام ہانسی کی طرف ہجرت کی۔ آپ 50 سال کی عمر میں بابا فرید الدین گنج شکر کے شاگرد بنے۔ جہاں سے آپ نے طریقت کی تعلیم پائی۔ شیخ جمال الدین ہانسوی سے بابا فرید اس قدر محبت کرتے تھے کہ ان جذبات کو الفاظ میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔ شیخ جمال کی خاطربابا فرید نے بارہ سال تک ہانسی میں قیام کیا تھا۔ اپنے محبوب مرید کے بارے میں آپ فرمایا کرتے تھے۔ ’’جمال، جمال ماست‘‘ (جمال، ہمارا جمال ہے) بابا فرید جب اپنے کسی مرید کو خلافت نامہ عطا کرتے تو اس شخص کو تاکید فرمادیتے کہ ہانسی جاکر شیخ جمال الدین سے مہر لگوالینا۔ اگر شیخ جمال ہانسوی خلافت پر مہر لگادیتے تو وہ مستند سمجھا جاتا… اور اگر شیخ جمال مہر نہ لگاتے تو بابا فرید بھی اس خلافت نامے کو قبول نہ فرماتے اور صاف صاف کہہ دیتے۔ ’’جمال کے چاک کیے ہوئے کو ہم سی نہیں سکتے‘‘ بابا فرید کے یہ الفاظ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جب شیخ جمال نے آپ کے ایک مرید کا خلافت نامہ اس کی بے ادبی اور غرور کے سبب چاک کر دیا تھا اور پھر اس شخص نے بابا فرید کی خدمت میں حاضر ہوکر شیخ جمال کی شکایت کی تھی۔ جواباً بابا فرید نے تمام اہل مجلس کے سامنے فرمایا تھا ’’جسے ہمارا جمال چاک کر دے، ہم اسے نہیں سی سکتے‘‘[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Inspired sayings of Hazrat Qutb Jamaluddin Ahmad Hansvi, Translated by: Sardar Ali Ahmad Khan