جمال اللہ حیات المیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید جمال اللہ حیات المیر شیخ عبد القادر جیلانی کے پوتے ہیں۔ آپ قیامت تک زندہ رہے گئے۔ آپ کی چلہ گاہیں افغانستان، کشمیر اور پاک و ہند میں مخلتف جگہوں پر موجود ہیں۔

ولادت[ترمیم]

سید جمال اللہ المعروف حیات المیر زندہ پیر کی ولادت 522ھ بمطابق 1128ء میں ہوئی۔

خزینتہ الاصفیاء میں ذکر[ترمیم]

ممتاز عالم دین اور نامور مورخ مفتی غلام سرور قاری اپنی شہرہ آفاق تصنیف خزینتہ الاصفیاء میں شاہ ابو المعالی قادری لاہوری کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ آپ سید جمال اللہ حیات المیر زنده پیر شکل وصورت میں غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی کے مشابہ تھے۔ آپ انتہائی خوبصوت اور وجیہہ تھے۔ شیخ عبد القادر جیلانی کو آپ سے بے حد محبت تھی۔ انہوں نے آپ کے لئے اللہ تعالی سے حیات جاودانی کیلئے دعا فرمائی تھی۔ جو اللہ کریم نے قبول فرمائی۔ چنانچہ اس لحاظ سے آپ کوزندہ پیر کہا جاتا ہے۔ آپ قیامت تک زندہ رہیں گے۔

صفات الاولیاء میں ذکر[ترمیم]

صاحب مخازن صفات الاولیاء میں تحریر فرماتے ہیں کہ حیات المیر زندہ پیر سے کسی نے عمر کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ مجھے غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کبھی کبھی گود میں لے کر وفور محبت سے چمٹا لیتے تھے اور فرماتے کہ ان کی ملاقات حضرت امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام سے ہوگی اور یہ بھی فرماتے کہ جب ان دونوں سے ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہنا۔

تحقیقات چشی میں ذکر[ترمیم]

تحقیقات چشتی کے مصنف مولانا نور احمد چشتی کتاب الاذکار کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضور شیخ عبدالقادر جیلانی نے اپنے وصال کے وقت سید جمال الله المعروف حیات المیر زندہ پیر کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ تمہاری عمر دراز ہوگی۔ تم حضرت عیسی علیہ اسلام کو بچشم خود دیکھوگئے۔ جب یہ موقع آئے تو میرا ان سے سلام کہنا۔

امام بری کا بیعت ہونا[ترمیم]

کرامات شاہ لطیف بری کے مصنف غلام حسین بخاری اپنے رسالہ میں سید جمال اللہ حیات المیر زندہ پیر کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ جب شاہ عبد اللطیف قادری المعروف امام بری کی ملاقات آپ سے ہوئی تو انہوں نے اپنا سر اپنے مرشد سید جمال اللہ حیات المیر زندہ پیر کے سامنے رکھ دیا۔ جس کو آپ نے قبول کیا۔ اس کے بعد شاہ جمال اللہ حیات المیر زندہ پیر چلہ کشی اور عبادت و ریاضت کے لیے حسن ابدال ضلع اٹک تشریف لے گئے۔ آپ نے ایک بڑے پہاڑ پر بیٹھ کر چلہ کشی کی۔ آپ نے گرد و نواح میں چند ضربوں سے تیز پانی کے چشمے بہا دیے۔ آپ نے پتھر پر ہاتھ مارا تو اس میں پیوست ہو گیا۔ یہ کرامت بہت مشہور ہیں۔ آپ ہر وقت اور ہر رنگ میں موجود ہیں اور عارفان باللہ کے نزدیک موجود ہیں۔ آپ خواجگان زندہ میں شمار ہوتے ہیں۔ دنیا میں خورد و کلاں کی نظروں سے غائب ہیں مگر عارفان باللہ کے نزدیک موجود ہیں کیونکہ مخلوقات کی نظر میں جو چیز بھی غائب پوشیدہ ہو وہ مرحوم ہے مگر عارفان باللہ کے نزدیک زندہ ہے۔

عہد جہانگیری[ترمیم]

منشی شہادت علی اپنی کتاب سی دکھس اینڈ دی افغانیز میں رقم طراز ہیں کہ مغلیہ شہنشاہ جہانگیر کشمیراور کابل کی آب و ہوا کو بہت پسند کرتا تھا۔ حسن ابدال میں قیام پذیر ہوا تو اس نے دیکھا کہ ایک فقیر بھی یہاں رہتے ہیں جن کا نام حیات المیر تھا۔ جہانگیر ان کا بہت زیادہ احترام کرتا تھا۔ اس جگہ کے سایہ دار حسن کے علاوہ اس فقیر کی موجودگی میں جہانگیر کو کئی کئی دن قیام کرنے کی ترغیب دی گئی۔ مندرجہ بالا روایات سے پتہ چلتا ہے کہ شاہ لطیف امام بری کے مرشد حیات المیر تھے اور ان کا تعلق حسن ابدال ضلع اٹک سے بھی تھا۔ حیات المیر زندہ پیر حسن ابدال کے بلند و بالا چٹیل پہاڑ کی چوٹی پر عبادت و ریاضت کی۔ جہاں آپ کا حجرہ اعتکاف آج بھی موجود ہے۔ آپ کوی پیر بابا ولی قندهاری کے نام نامی سے پکارا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں زائرین آپ کے حجرے کی زیارت بھی کرتے ہیں اور اس بلند و بالا مقام پر حاضری بھی دیتے ہیں۔

بیٹھکیں[ترمیم]

سید جمال الله المعروف حیات المیر سخی زندہ پیر بابا ولی قندھاری کی بیٹھکیں افغانستان ، کشمیر اور پاک و ہند میں سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ آپ جہاں کہیں بھی تھوڑے تھوڑے عرصے کے لیے تشریف فرما ہوئے عاشقان اولیاء نے آپ کے بیٹھنے کی جگہ، چلہ گاہ اور عبادت گاہ کو اپنے لئے مرکز عقیدت بنا لیا۔ آپ کا مزار کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔ آپ کا مرکزی مقام و چلہ گاہ حسن ابدال ضلع اٹک کی چٹیل پہاڑی کے پرفضا مقام پر چلہ گاه بابا ولی قندهاری سید جمال اللہ حیات المیر کے نام سے مشہور اور مرجع خاص وعام ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 379 تا 381