جمال خاشقجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جمال خشوگی
جمال خاشقجی
JamalKahshoggi.png 

معلومات شخصیت
پیدائش 13 اکتوبر 1958  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 2 اکتوبر 2018 (60 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات تعذیب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ریاستہائے متحدہ امریکا (31 مئی 2017–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب[2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
بالوں کا رنگ خاکستری بال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بالوں کا رنگ (P1884) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہ مالکی
عملی زندگی
مادر علمی انڈیانا اسٹیٹ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی،  سیاسی مصنف،  ڈائریکٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت واشنگٹن پوسٹ،  الوطن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

جمال خاشقچی یا جمال خشوگی سعودی عرب کے ایک معروف صحافی، تجزیہ نگار اور ایڈیٹر تھے۔

جمال ستمبر 2017ء میں سعودی عرب سے فرار ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت نے ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی لگا دی ہے اور بعد میں انہوں نے اخبار میں حکومت کے خلاف تنقیدی مقالات لکھے۔ وہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کے کٹر نقاد تھے۔ انہوں نے یمن میں سعودی عرب کی مداخلت کی شدید مخالفت کی تھی۔

جمال 2 اکتوبر 2018ء سے غائب ہیں اور آخری مرتبہ انہیں استبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔[6] ترک پولیس کا الزام ہے کہ قونصل خانے میں انہیں قتل کر کے جسمانی اعضا کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے گئے ہیں۔[7][8] سعودی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ قونصل خانے سے زندہ باہر نکلے تھے[9] لیکن ترک پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی سی سی ٹی وی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔[10] 19 اکتوبر 2018ء کو سعودی حکومت نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ جمال خاشقجی کی موت ہو چکی ہے۔ سعودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ موت استنبول میں سعودی قونصل خانے میں لڑائی کے بعد ہوئی۔[11]

ابتدائی زندگی و تعلیم

جمال 13 اکتوبر 1958ء کو مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا محمد خاشقجی جو ترک الاصل تھے، نے ایک سعودی خاتون سے شادی کی تھی اور سعودی عرب کے بانی عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود کے ذاتی طبیب تھے۔[12] جمال مرحوم سعودی عربی اسلحے کے تاجر عدنان خاشقجی کے بھتیجے تھے۔[13] جمال کے کزن دودی الفاید تھے، جو مملکت متحدہ کی شہزادی ڈیانا کے ساتھی تھی اور دونوں پیرس میں ایک کار حادثے میں مرے تھے۔[14] انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم سعودی عرب سے اور 1982ء میں امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی تھی۔[15][16]

صحافت

تعلیم کے بعد وہ سعودی عرب لوٹ گئے اور ایک صحافی کے طور پر سنہ 1980ء کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنی صحافت شروع کی۔ اس دوران انہوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن پر قریب سے نظر رکھی اور 1980ء اور 90ء کی دہائیوں میں کئی بار ان سے انٹرویو کیا۔انہوں نے خطۂ عرب میں رونما ہونے والے دوسرے کئی اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی کی جن میں کویت کے معاملے پر ہونے والی خلیجی جنگ بھی شامل تھی۔ 1990ء کی دہائی میں وہ پوری طرح سعودی عرب منتقل ہو گئے اور 1999ء میں وہ انگریزی زبان کے اخبار 'عرب نیوز' کے نائب مدیر بن گئے۔ 2003ء میں وہ 'الوطن' اخبار کے مدیر بنے لیکن عہد سنبھالنے کے دو ماہ کے اندر ہی انھیں ایک کہانی شائع کرنے کی وجہ سے وہاں سے نکال دیا گیا۔ اس میں سعودی عرب کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔برطرفی کے بعد پہلے لندن اور پھر واشنگٹن منتقل ہو گئے جہاں وہ سعودی عرب کے سابق انٹیلیجنس چیف شہزادہ ترکی کے میڈیا مشیر بن گئے۔ 2007ء میں پھر الوطن میں واپس آئے لیکن تین سال بعد مزید تنازعات کے بعد انہوں نے اخبار کو چھوڑ دیا۔2011ء میں پیدا ہونے والی عرب سپرنگ تحریک میں انہوں نے اسلام پسندوں کی حمایت کی جنہوں نے کئی ممالک میں اقتدار حاصل کیا۔2012ء میں انہیں سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوز چینل کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس چینل کو قطری نیوز چینل الجزیرہ کا حریف کہا جاتا ہے۔لیکن بحرین میں قائم کیا جانے والا نیوز چینل 2015ء میں اپنے آغاز کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی بحرین میں حزب اختلاف کے ایک معروف رہنما کو مدعو کرنے کے سبب بند کر دیا گیا۔سعودی امور پر ماہرانہ رائے رکھنے کی حیثیت سے جمال خاشقجی بین الاقوامی سطح پر مختلف نیوز چینلز کو مستقل طور پر اپنی خدمات فراہم کرتے رہے۔ 2017ء کے موسم گرما میں وہ سعودی عرب چھوڑ کر امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کے اپنے پہلے کالم میں لکھا کہ کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ انھوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی ہے کیونکہ انہیں گرفتار کیے جانے کا خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں افراد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں بظاہر مخالفین پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ملک میں اقتصادی اور سماجی اصلاح کے حوصلہ مندانہ پروگرام کی سربراہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے عربی اخبار 'الحیات' میں ان کا کالم بند کروا دیا اور انہیں اپنے 18 لاکھ ٹوئٹر فالوورز کے لیے ٹویٹ کرنے سے اس وقت روک دیا گیا جب انہوں نے 2016ء کے اواخر میں اپنے ملک کو منتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو 'والہانہ طور پر گلے لگانے' کے جذبے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

انہوں نے لکھا:

میں نے اپنا گھر، اپنی فیملی، اپنا کام سب چھوڑا اور میں اپنی آواز بلند کر رہا ہوں۔ اس کے برخلاف کام کرنا ان لوگوں کے ساتھ غداری ہوگی جو جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ :میں بول سکتا ہوں جبکہ بہت سے لوگ بول بھی نہیں سکتے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ہم سعودی اس سے بہتر کے حقدار ہیں۔

اپنی تحریروں میں انہوں نے سعودی حکومت پر کریک ڈاؤن میں اصل انتہا پسندوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور ولی عہد شہزادہ کا روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے موازنہ کیا۔

گمشدگی

جمال خاشقجی 2اکتوبر 2018ء بروز منگل اس وقت لاپتہ ہوئے جب وہ طلاق کے سرکاری دستاویز لینے کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے تاکہ وہ ایک ترکی خاتون سے شادی کر سکیں جن سے ان کی منگنی ہوئی تھی۔ان کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے کہا کہ میں نے سعودی قونصل خانے کے باہر گھنٹوں ان کی واپسی کا انتظار کیا لیکن وہ نہیں لوٹے۔ اس نے بتایا کہ اس عمارت میں داخل ہونے سے پہلے ان کے موبائل فون کو رکھوا لیا گیا اور انہوں نے اس سے قبل اپنی منگیتر کو بتایا تھا کہ اگر وہ نہ لوٹیں تو وہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ایک مشیر سے رابطہ کریں۔ ان کا آخری کالم 11 ستمبر 2018ء کو شائع ہوا تھا اور 5 اکتوبر 2018ء بروز جمعہ کو جمال خاشقجی کا کالم چھاپنے والے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ان کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کے لیے ان کے کالم کی جگہ ’دی مسنگ وائس‘ یعنی ’گمشدہ آواز‘ کی شہ سرخی کے ساتھ خالی چھوڑ دی تھی۔ ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں انہیں قونصل خانے کے احاطے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے اور انھوں نے وہاں داخلے کی اجازت طلب کی ہے جبکہ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ ترکی حکومت نے ان کے جسم کے ٹکڑے سعودی عرب کے قونصل خانے کے باہر سے ملنے کی تصدیق کی تھی۔ جمال خاشقجی نے اپنے آخری کالم میں یمن میں سعودی عرب کی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

قتل کی تصدیق

19 اکتوبر 2018ء کو سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے 17 دن کے بعد جمال کے حادثاتی طور پر قتل ہونے کی تصدیق کر دی۔سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر کے جانب سے ایک بیان میں کہا کہ قونصل خانے میں جمال خاشقجی اور ان کے لوگوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا جن سے وہ ملے تھے جس کا اختتام ان کی موت پر ہوا۔ اس بیان کے مطابق تحقیقات تاحال جاری ہیں اور 18 سعودی باشدوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ رپوٹس میں دو سینیئر اہکاروں کو برطرف کرنے کے بارے میں بھی بتایا گیا۔سعودی رائل کورٹ کے اہم رکن اور ولی عہد محمد بن سلمان کے مشیر سعود القحطانی کو برطرف کیا گیا ہے۔سعودیہ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل انٹیلی جنس کے نائب صدر احمد العسیری کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔میجر جنرل احمد العسیری نے یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے ترجمان کے طور پر فرائض سر انجام دیے تھے۔ جمال خاشقجی کے قتل کو مغربی میڈیا میں بہت زیادہ کوریج ملی جبکہ بلغاریہ کی جرنلسٹ Viktoria Marinova کے ریپ اور بہیمانہ قتل کو بالکل نظرانداز کر دیا گیا۔[17] امریکا کی نظر میں ایک جمال خاشقجی دس لاکھ یمنی لوگوں کی زندگی سے بڑھ کر ہے۔[18]

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعتراف کیا کہ جمال خاشقجی بے تکی سیاسی قتل کی کوشش کے دوران مارے گئے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یوں تھے:

ہم نے خاشقجی کو ترکی میں ہمارے قونصل خانے میں آنے کا جھانسا دیا جو ایک سیدھے سادے اور عام طور سے کی جانے والی صفائے کی کارروائی تھی، مگر باتیں اذیتیں دیے جانے کے دوران اتفاق سے بہت بڑھ گئیں۔

شہزادے نے بتایا کہ عام حالات میں ان صحافیوں کو جو سعودی فرماں رواؤں کے منفی پہلوؤں کو باہر لاتے ہیں، کافی مہارت سے اور کسی بین الاقوامی شور و غل کے بغیر صاف کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے متوفی کے غمزدہ خاندان کو یہ پیام دیا:

ہم خاشقجی خاندان سے جمال کے بوٹی بوٹی کیے جانے کے موضوع کو غلط طریقے سے سنبھالنے کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ یہ تو بہت جلد کارروائی شروع ہو کر موت اور جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے چاہیے تھا، نہ کہ لمبے کھینچے جانے والی خوں ریزی جو یہ بن گئی تھی۔ ہم اس بار سلیقے سے کام نہیں کر سکے۔

سعودی ولی عہد نے صحافیوں کو یہ تیقن دلایا کہ سعودی قائدین قتل کے نئے رہنمایانہ خطوط نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ مستقبل کے سیاسی قتلوں کو معیاری بنایا جا سکے اور بے تکے حملوں کے واقعات کو روکا جا سکے۔[19]

جسم کے ٹکڑوں کی دستیابی

اسکائی نیوز کی خبر کے مطابق جمال خاشقجی کے مہلوک جسم کو ٹکڑوں ٹکڑوں کی حالت میں سعودی عرب کے قونصل عمومی کے گھر سے پایا گیا ہے۔ جب کہ ترکی کے ایک سیاست دان نے خبر دی کہ صحافی کے جسم کے کچھ حصے ایک کنویں میں ملے جو قونصل عمومی کے گھر پر واقع ہے۔ [20]

حوالہ جات

  1. Jamal Khashoggi: Turkey says journalist was murdered in Saudi consulate — اخذ شدہ بتاریخ: 14 نومبر 2018 — ناشر: بی بی سی نیوز — شائع شدہ از: 7 اکتوبر 2018
  2. https://www.nbcnews.com/news/world/saudi-arabia-acknowledges-jamal-khashoggi-died-consulate-says-18-detained-n922336
  3. http://www.nytimes.com/2011/01/30/business/global/30davos.html?pagewanted=all
  4. http://www.nytimes.com/2013/09/29/world/middleeast/israel-and-others-in-mideast-view-overtures-of-us-and-iran-with-suspicion.html
  5. http://www.nytimes.com/2010/11/22/world/middleeast/22saudi.html
  6. "Turkey to search Saudi Consulate for missing journalist"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ 9 اکتوبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2018۔ 
  7. Cecil Nicholas (10 اکتوبر 2018)۔ "Jamal Khashoggi: Saudi journalist 'cut up with bone saw in Pulp Fiction murder at consulate in Istanbul'"۔ لندن ایوننگ اسٹینڈرڈ۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 اکتوبر 2018۔ 
  8. "Sen. Corker: Everything points to Saudis being responsible for missing journalist"۔ ایم ایس این بی سی۔ 12 اکتوبر 2018۔ 
  9. ""Where Is Jamal?": Fiancee Of Missing Saudi Journalist Demands To Know"۔ این ڈی ٹی وی۔ The Washington Post۔ 9 اکتوبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2018۔ 
  10. اورفن کوسکن۔ "Exclusive: Turkish police believe Saudi journalist Khashoggi was killed in consulate - sources"۔ روئٹرز (امریکی انگریزی زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اکتوبر 2018۔ 
  11. بین ہبررڈ۔ "Jamal Khashoggi Is Dead, Saudi Arabia Says"۔ نیو یارک ٹائمز۔ صفحات انگریزی۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 اکتوبر 2018۔ 
  12. "Who Is Jamal Khashoggi? A Saudi Insider Who Became an Exiled Critic"۔ بلومبرگ۔ 10 اکتوبر 2018۔ 
  13. Gina Smith۔ "Donald Trump Once Bought A $200M Yacht from Jamal Khashoggi’s Famed Arms Dealer Uncle [exclusive]"۔ U.S. (امریکی انگریزی زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 اکتوبر 2018۔ 
  14. "Disparition du journaliste saoudien Jamal Khashoggi, le mystère demeure"۔ leparisien.fr (فرانسیسی زبان میں)۔ 10 اکتوبر 2018۔ 
  15. "Khashoggi, Jamal"۔ JRank Organization۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 مئی 2012۔ 
  16. "Jamal Khashoggi"۔ SO.ME۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 مئی 2012۔ 
  17. Bulgarian journalist Viktoria Marinova raped and murdered
  18. In The World Of American Politics, One Khashoggi Is Worth One Million Yemeni Lives
  19. "Saudis Admit Journalist Khashoggi Died During Botched Assassination Attempt"۔ 
  20. "Body Parts Of Murdered Journalist Found In Saudi Official's Home: Report"۔