مندرجات کا رخ کریں

جمعیت علمائے پاکستان، نورانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

جمعیت علمائے پاکستان نورانی (JUP-N) پاکستان کی ایک مذہبی و سیاسی جماعت ہے جو جمیعت علمائے پاکستان کے دو بڑے دھڑوں میں سے ایک ہے۔ یہ جماعت بنیادی طور پر برصغیر کی بریلوی/سنی مکتب فکر کی سیاسی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس دھڑے کی قیادت اور فکری بنیاد کا بڑا حصہ مولانا شاہ احمد نورانی سے منسلک ہے، جو نہ صرف عالمی شہرت یافتہ عالم دین تھے بلکہ اتحادِ بین المسلمین کے بھی بڑے داعی تھے۔[1]

پس منظر

[ترمیم]

'جمیعت علمائے پاکستان کی بنیاد 1948ء میں اس مقصد کے ساتھ رکھی گئی تھی کہ برصغیر کے سنی بریلوی مکتب فکر کی سیاسی و دینی نمائندگی ایک منظم پلیٹ فارم کے تحت کی جا سکے۔ اپنی ابتدائی دہائیوں میں یہ جماعت مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی تحریکوں میں فعال کردار ادا کرتی رہی اور ملک کی دینی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ جماعت کے اندر انتظامی اور قیادتی اختلافات پیدا ہونے لگے۔ ان اختلافات میں نظریاتی ترجیحات، سیاسی حکمت عملی اور تنظیمی ڈھانچے سے متعلق مسائل شامل تھے، جنھوں نے آہستہ آہستہ تنظیم کو واضح طور پر دو بڑے دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ بالآخر 2000ء کی دہائی میں جماعت باقاعدہ طور پر دو حصوں میں بٹ گئی: ایک دھڑا "جمعیت علمائے پاکستان نورانی" کہلایا اور دوسرا "جمعیت علمائے پاکستان نیازی" کے نام سے شناخت پانے لگا۔ نورانی دھڑا مولانا شاہ احمد نورانی کی نسبت سے موسوم ہوا، جو 1970ء کی دہائی میں قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے، اہل سنت کی قیادت میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور عالمی سطح پر مجلسِ تحفظِ ختم نبوت جیسے پلیٹ فارمز کے سرگرم رہنما تھے۔ تقسیم کے باوجود دونوں دھڑے اپنے اپنے انداز میں جمیعت علمائے پاکستان کی فکری روایت اور سیاسی ورثے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے، تاہم نورانی گروہ تاریخی اعتبار سے جماعت کے اصل تشخص، مذہبی خطِ مشی اور عوامی شناخت سے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح جماعت کی داخلی تقسیم نے پاکستانی مذہبی سیاست میں ایک نئے مرحلے کو جنم دیا۔[2]

قیام اور تنظیم

[ترمیم]

نورانی دھڑے نے اپنے قیام کے بعد سیاسی میدان میں فعالیت دکھائی، خصوصاً:

  • ناموسِ رسالت ﷺ کے قوانین کے تحفظ کی جدوجہد
  • 1974ء کی قومی اسمبلی میں ختمِ نبوت کی تاریخی قرارداد میں کردار
  • کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر عالمی سطح پر آواز بلند کرنا
  • پاکستان میں مذہبی و سیاسی اتحاد کی کوششیں

مولانا نورانی کی وفات کے بعد جماعت نے ان کے نظریاتی اصولوں پر عمل جاری رکھا اور کئی مرتبہ متحدہ مجلسِ عمل (MMA) جیسے مذہبی اتحادوں میں بھی شامل رہی۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ "Profile: Jamiat Ulema-e-Pakistan"۔ The News International۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-11-23
  2. ↑ "Religious parties in Pakistan: A historical overview"۔ Express Tribune۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-11-23
  3. ↑ "Religious alliances in Pakistan"۔ Dawn News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-11-23