جمعیت علمائے ہند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جمعیت علمائے ہند
Jamiat-Ulema-e-Hind
قیام19 نومبر 1919 (101 سال قبل) (1919-11-19)
بانیان
قانونی حیثیتمذہبی تنظیم
نصب العینابتدائی طور پر بھارت میں برطانوی حکمرانی کے خلاف عدم تشدد کی جدوجہد جاری رکھنا تھا، اس وقت بھارتی مسلم عوام کی ترقی ہے
صدر دفاتربہادر شاہ ظفر مارگ، نئی دہلی
مقام
  • آئی ٹی او
خطہ
بھارت
ارکان
12 ملین سے زیادہ، اور لاکھوں پیروکار۔
باضابطہ زبان
اردو اور انگریزی
سیکرٹری جنرل
  • معصوم ثاقب قاسمی (الف)
  • حکیم الدین قاسمی (میم)
صدر
ویب سائٹOfficial website of M group
Official website of A group
مارچ، 2008ء میں جمعیت علمائے ہند دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی، ایک ارشد گروپ اور دوسرا محمود گروپ، دونوں کو "الف" اور "میم" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

جمعیت علمائے ہند[1] ایک بھارتی دیوبندی مکتب فکر سے وابستہ علمائے کرام کی ایک متحرک و فعال تنظیم ہے۔ نومبر 1919ء میں اس کی بنیاد عبد الباری فرنگی محلی، کفایت اللہ دہلوی، محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اور ثناء اللہ امرتسری سمیت علمائے کرام کی ایک جماعت نے رکھی تھی۔

جمعیت انڈین نیشنل کانگریس کے اشتراک سے تحریک خلافت میں ایک سرگرم شریک عمل تھا۔ اس نے تقسیم ہند کی مخالفت کی، متحدہ قومیت کا موقف اختیار کرتے ہوئے: کہ مسلمان اور غیر مسلم ایک ہی قوم کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اس تنظیم کا ایک چھوٹا سا ٹوٹا ہوا دھڑا جمعیت علمائے اسلام کے نام سے تھا، جس نے تحریک پاکستان کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔

جمیعت کے آئین کا مسودہ کفایت اللہ دہلوی نے تیار کیا تھا۔ 2021ء تک یہ بھارت کی متعدد ریاستوں میں پھیل چکی ہے اور اس نے ادارہ مباحث فقہیہ، جمعیت علما لیگل سیل، جمعیت نیشنل اوپن اسکول، جمعیت علمائے ہند حلال ٹرسٹ اور جمعیت یوتھ کلب جیسے ادارے اور ونگ قائم کیے ہیں۔ ارشد مدنی اپنے بھائی اسعد مدنی کے بعد فروری 2006ء میں صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے، تاہم یہ تنظیم مارچ 2008ء میں ارشد گروپ اور محمود گروپ میں تقسیم ہوگئی۔ عثمان منصورپوری میم گروپ کے صدر بن گئے اور مئی 2021ء میں اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کے بعد محمود مدنی عبوری صدر، پھر مستقل صدر منتخب ہوئے۔ ارشد مدنی الف گروپ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

آغاز اور ترقی[ترمیم]

23 نومبر 1919ء کو تحریک خلافت کمیٹی نے دہلی میں اپنی پہلی کانفرنس منعقد کی، جس میں پورے بھارت کے مسلم علما نے شرکت کی۔[2][3] اس کے بعد ان میں سے پچیس مسلم علما کی ایک جماعت نے دہلی کے کرشنا تھیٹر ہال میں ایک الگ کانفرنس منعقد کی اور جمعیت علمائے ہند کی تشکیل کی۔[2] ان علما میں عبدالباری فرنگی محلی، احمد سعید دہلوی، کفایت اللہ دہلوی، منیر الزماں خان، محمد اکرم خان، محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اور ثناء اللہ امرتسری شامل تھے۔[4] دیگر علما میں عبد الحلیم گیاوی، آزاد سبحانی، بخش امرتسری، ابراہیم دربھنگوی، محمد عبد اللہ، محمد امام سندھی، محمد اسد اللہ سندھی، محمد فاخر، محمد انیس، محمد صادق، خدا بخش مظفرپوری، خواجہ غلام نظام الدین، ​​قدیر بخش، سلامت اللہ، سید اسماعیل، سید کمال الدین، ​​سید محمد داؤد اور تاج محمد شامل تھے۔[5]

جمعیَت؛ جسے "جمعیَّت" بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تناظر میں ایک اصطلاح ہے جو اسمبلی، لیگ یا دوسری تنظیم کا حوالہ دیتی ہے۔[6] یہ لفظ اجتماعیت کے لیے عربی لفظ "جمع" سے نکلا ہے اور اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔[7][8]

جمعیت علمائے ہند کا پہلا عام اجلاس امرتسر میں ثناء اللہ امرتسری کی درخواست پر 28 دسمبر 1919ء کو منعقد ہوا، جس میں کفایت اللہ دہلوی نے اپنے آئین کا مسودہ پیش کیا۔[3][2] ابو المحاسن محمد سجاد اور مظہر الدین کا بھی نام بانیوں میں آتا ہے۔[9] ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ جمعیت کی بنیاد محمود حسن دیوبندی اور ان کے دیگر ساتھیوں بشمول حسین احمد مدنی نے رکھی تھی، تاہم یہ درست نہیں ہے کیوں کہ جس وقت تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی یہ حضرات اس وقت مالٹا کی جیل میں قید تھے۔[10]

جب جمعیت علمائے ہند کی بنیاد رکھی گئی تو کفایت اللہ دہلوی کو عبوری صدر اور احمد سعید دہلوی کو عبوری ناظم عمومی بنایا گیا۔[11] جمعیت نے اپنی پہلے اجلاسِ عام؛ جو امرتسر میں منعقد ہوئی تھی، میں اپنی پہلی مجلس منتظمہ تشکیل دی تھی۔[2][12] جمعیت کا دوسرا اجلاسِ عام نومبر 1920ء کے دوران میں دہلی میں منعقد ہوا، جہاں محمود حسن دیوبندی کو صدر اور کفایت اللہ دہلوی کو نائب صدر مقرر کیا گیا۔ محمود حسن دیوبندی کا انتقال کچھ دن بعد (30 نومبر کو) ہوا اور کفایت اللہ نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، جب کہ بیک وقت عبوری صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے؛ یہاں تک کہ وہ 6 ستمبر 1921ء کو مستقل طور پر صدر مقرر ہوئے۔[11] جس اجتماع میں جمعیت کی تاسیس ہوئی اس میں مالٹا میں قید ہونے کی وجہ سے محمود حسن دیوبندی کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ جمعیت سے وابستہ دار العلوم دیوبند کی کوئی شخصیت شامل نہیں تھی۔[13] اب یہ علمائے دیوبند سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔[14]

نظم و نسق[ترمیم]

جمعیت کے ابتدائی اصول اور آئین کفایت اللہ دہلوی نے لکھے تھے۔ امرتسر میں پہلے اجلاسِ عام میں یہ طے پایا تھا کہ ان کو شائع کیا جائے اور علما کی ایک جماعت سے رائے جمع کی جائے اور پھر اس پر اگلے اجلاس میں دوبارہ بحث کیا جائے۔[15] دہلی میں منعقد ہونے والے اور محمود حسن دیوبندی کی صدارت میں ہونے والے دوسرے اجلاس میں اصولوں اور آئین کی توثیق کی گئی۔[15] وہاں یہ طے پایا کہ اس تنظیم کو "جمعیت علمائے ہند" کہا جائے گا، اس کا صدر دفتر دہلی میں ہوگا اور اس کی مہر پر "الجماعۃ المرکزیۃ لعلماء الھند" ("علمائے ہند کی مرکزی کونسل") لکھا ہوگا۔[15] اس کا مقصد کسی بھی بیرونی یا اجنبی خطرے سے اسلام کا دفاع کرنا؛ سیاست میں عام لوگوں کی اسلامی اصولوں کے ذریعہ رہنمائی کرنا اور ایک اسلامی عدالت: دار القضا قائم کرنا تھا۔[15]

جمعیت علماء ہند کی پہلی مجلس منتظمہ امرتسر میں قائم ہوئی۔ جس کے ارکان میں عبد الماجد بدایونی، ابو المحاسن محمد سجاد، احمد سعید دہلوی، حکیم اجمل خان، حسرت موہانی، خدا بخش، مظہر الدین، ​​محمد عبید اللہ سندھی، محمد فاخر الہ آبادی، منیر الزماں خان، محمد اکرم خان، محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، محمد صادق کراچوی، رکن الدین دانا، سلامت اللہ فرنگی محلی، ثناء اللہ امرتسری، سید محمد داؤد غزنوی اور تراب علی سندھی شامل تھے۔[2]

پہلی ورکنگ کمیٹی (مجلس عاملہ) 9 اور 10 فروری 1922ء کو دہلی میں تشکیل دی گئی۔[2] جو نو افراد پر مشتمل تھی: عبد الحلیم صدیقی، عبد المجید قادری بدایونی، عبد القادر قصوری، احمد اللہ پانی پتی، حکیم اجمل خان، حسرت موہانی، کفایت اللہ دہلوی، مظہر الدین اور شبیر احمد عثمانی۔[12] مارچ 1922ء میں یہ تعداد بڑھا کر بارہ کردی گئی اور عبدالقدیر بدایونی، آزاد سبحانی اور ابراہیم سیالکوٹی کو ورکنگ کمیٹی ممبران میں شامل کیا گیا۔[12] مرتضی حسن چاند پوری اور نثار احمد کانپوری 15 جنوری 1925ء کو جمعیت کے نائب صدور منتخب کیے گئے۔[12]

جمعیت کا ایک تنظیمی نیٹ ورک ہے جو پورے بھارت میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں ایک اردو روزنامہ "الجمعیت" بھی ہے۔[16] بھارت کی برطانوی حکومت نے 1938ء میں اس اخبار پر پابندی لگا دی تھی؛ لیکن 23 دسمبر 1947ء کو محمد میاں دیوبندی کو اس کا ایڈیٹر مقرر کر کے دوبارہ شروع کیا گیا۔[17] جمعیت اپنے قوم پرست فلسفہ کے لیے ایک مذہبی بنیاد کی تجویز پیش کرتی ہے، جو یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں نے بھارت میں آزادی کے بعد سے ایک جمہوری ریاست کے قیام کے لیے ایک باہمی "معاہدہ" کیا ہے۔ آئین ہند اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے۔ چنان چہ جیسے مسلم معاشرہ کے منتخب نمائندوں نے اس معاہدہ کی حمایت کی اور حلف لی تھی، اسی طرح بھارتی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین ہند کی حمایت کریں۔ یہ معاہدہ مدینہ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین گذشتہ اسی طرح کے معاہدہ کے موافق ہے۔[16]

تحریک آزادی[ترمیم]

8 ستمبر 1920ء کو جمعیت نے ایک مذہبی فتوٰی جاری کیا، جسے فتوی ترکِ موالات کہا جاتا ہے، جس نے برطانوی سامان کا بائیکاٹ کیا۔ یہ فتوی ابو المحاسن محمد سجاد نے دیا تھا، جس پر 500 علما کے دستخط تھے۔[18] برطانوی راج کے دوران میں جمعیت نے بھارت میں برطانوی راج کی مخالفت کی اور ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں حصہ لیا۔[19] 1919ء میں اپنے قیام کے بعد سے جمعیت کا مقصد "انگریزوں سے آزاد - ہندوستان" تھا۔[2] اس نے سول نافرمانی کی تحریک کے دوران میں "ادارہ حربیہ" کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دیا۔[20][21]

جمعیت کے ممتاز عالم دین حفظ الرحمن سیوہاروی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اور ابوالکلام آزاد اور جواہر لال نہرو کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے ہوئے۔

جمعیت کے علما کو بار بار گرفتار کیا گیا اور اس کے جنرل سیکرٹری احمد سعید دہلوی نے اپنی زندگی کے پندرہ سال جیل میں گزارے۔[22] جمعیت نے مسلم کمیونٹی سے وعدے حاصل کیے کہ وہ برطانوی کپڑے کے استعمال سے گریز کریں گے اور نمک مارچ میں حصہ لینے کے لیے تقریباً پندرہ ہزار رضاکاروں کا اندراج کیا۔[21] جمعیت کے شریک بانی کفایت اللہ دہلوی کو سول نافرمانی کی تحریک میں حصہ لینے پر 1930ء میں گجرات جیل میں چھ ماہ قید میں رکھا گیا تھا۔ 31 مارچ 1932ء کو وہ ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے جلوس کی قیادت کرنے پر گرفتار ہوئے اور اٹھارہ ماہ تک ملتان جیل میں قید رہے۔[23] جمعیت کے جنرل سکریٹری محمد میاں دیوبندی کو پانچ مرتبہ گرفتار کیا گیا اور مسلم حکمرانوں بشمول برطانوی راج کے خلاف مسلم علما کی جدوجہد پر بحث کرنے کے لیے ان کی کتاب "علمائے ہند کا شاندار ماضی" ضبط کی گئی۔[24] جمعیت کے ایک اور عالم حفظ الرحمن سیوہاروی برطانوی استعمار کے خلاف مہم چلانے پر کئی بار گرفتار ہوئے۔[25] انھوں نے آٹھ سال قید میں گزارے۔[26]

تقسیم ہند[ترمیم]

دار العلوم دیوبند کے صدر المدرسین (1927ء - 1957ء) اور اس وقت کے معروف دیوبندی عالم حسین احمد مدنی نے کہا کہ مسلمان بلا شبہ ایک متحدہ ہندوستان کا حصہ ہیں اور ہندو مسلم اتحاد ملک کی آزادی کے لیے ضروری تھا۔ انھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ مل کر کام کیا یہاں تک کہ تقسیم ہند ہو گئی۔[27][28] 1945ء میں جمعیت علمائے ہند کے اندر ایک جماعت کھڑی ہوئی، جس نے تحریک پاکستان اور آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت کی۔ اس جماعت کی قیادت جمعیت کے ایک بانی رکن شبیر احمد عثمانی نے کی۔[29] جمعیت علمائے ہند آل انڈیا آزاد مسلم کانفرنس کا رکن تھا، جس میں کئی اسلامی تنظیمیں شامل تھیں، جو متحدہ ہندوستان کے لیے کھڑی تھیں۔[30]

اشتیاق احمد بیان کرتے ہیں کہ ان کی حمایت کے بدلہ میں جمعیت علمائے ہند نے بھارتی قیادت سے یہ عہد لیا کہ ریاست مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہیں کرے گی۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس عہد سے اتفاق کیا، تاہم ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو پہلے ان قوانین میں اصلاح کرنی چاہیے۔[31] ان مراعات کے باوجود؛ تقسیم ہند کے دوران میں ملک میں فسادات پھوٹ پڑے اور کشت و خون کا بازار گرم ہوگیا، جس کے نتیجہ میں فسادات بپا ہوئے اور بے شمار مسلمان شہید کر دیے گئے۔ جمعیت علمائے ہند نے مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا"۔[32] سید محبوب رضوی کہتے ہیں کہ جمعیت کے ناظم عمومی حفظ الرحمن سیوہاروی نے "ایسے نازک حالات میں غیر معمولی جرأت و ہمت اور پامردی سے اس وقت کے سنگین ترین حالات کا مقابلہ کیا، لیڈروں کو جھنجوڑا اور حکام پر زور دے کر امن و امان کو بحال کرانے کا زبردست کارنامہ انجام دیا، خوف زدہ مسلمانوں کے دلوں سے خوف و ہراس دور کیا۔"[32]

جمعیت علمائے ہند الف اور جمعیت علمائے ہند میم[ترمیم]

مارچ 2008ء میں جمعیت کے سابق صدر اسعد مدنی کی وفات کے بعد؛ جمعیت علمائے ہند دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔[33][34] تقسیم ارشد مدنی اور ان کے بھتیجے محمود مدنی کے درمیان میں نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ہوئی، [33] جب ارشد مدنی پر جمعیت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک ہم عصر رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ارشد نے "اپنی ذاتی حکمرانی قائم کرنے کے لیے منتخب یونٹس کو تحلیل کر دیا ہے اور اس کے جمہوری ڈھانچہ کو ختم کر دیا ہے۔"[34] چناں چہ 5 مارچ 2006ء کو ارشد مدنی کو متحدہ جمعیت کے صدر کے عہدے سے برخاست کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ایک نئی ایگزیکٹو کمیٹی (مجلس عاملہ) کی تشکیل؛ عمل میں آئی، جس کے حقیقی جمعیت ہونے کا دعوی کیا گیا۔[34] جمعیت کے بقیہ حصہ؛ محمود مدنی کی زیرِ قیادت آئی اور 5 اپریل 2008ء کو اس حصہ نے عثمان منصورپوری کو اپنا پہلا صدر مقرر کیا۔[34] ارشد گروپ کے پہلے ناظم عمومی عبد العلیم فاروقی تھے، جنھوں نے 1995ء سے 2001ء تک متحدہ جمعیت علمائے ہند کے دسویں ناظم عمومی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔[2][35]

صد سالہ تقریبات[ترمیم]

جمعیت نے نومبر 2019ء میں اپنی صد سالہ تقریب منائی۔[36] جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ازاخیل میں 7 اپریل 2017ء سے دو روزہ صد سالہ تقریبات کا انعقاد کیا۔[36] جس میں امامِ حرمِ مکی صالح بن ابراہیم آل طالب اور سعودی وزیرِ تعلیم صالح بن عبد العزیز آل شیخ نے شرکت کی۔[37]

انسداد دہشت گردی کا فتوی[ترمیم]

نومبر 2008ء میں 6000 علما نے حیدرآباد، دکن میں جمعیت علمائے ہند کی 29 ویں مجلس منتظمہ میٹنگ میں انسداد دہشت گردی کے فتوی کی توثیق کی۔[38] مئی 2008ء میں یہ فتوٰی دار العلوم دیوبند نے جاری کیا اور اس کے صدر مفتی حبیب الرحمن خیرآبادی نے اس پر دستخط کیا۔[38] اجلاسِ عام میں محمود مدنی نے کہا کہ "یہ اس ایمان کا مظہر ہے کہ علمائے دین اس فتوٰی کی اہمیت اور وقتی ضرورت پر توجہ دے رہے ہیں۔ جب یہ مندوبین اپنے گھروں کو واپس جائیں گے تو وہ دستخط شدہ حیدرآباد اعلامیہ لیں گے، جو دار العلوم کے دہشت گردی کے خلاف موقف کی تائید کرتا ہے۔"[38] اس میٹنگ میں روی شنکر اور سوامی اگنیویش نے شرکت کی تھی۔[38] اس فتوی میں کہا گیا تھا کہ "اسلام ہر قسم کے بلاجواز تشدد، امن کی خلاف ورزی، خوں ریزی، قتل اور لوٹ مار کو مسترد کرتا ہے اور کسی بھی شکل میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ اسلام کا بنیادی اصول ہے کہ آپ اچھے نیک مقاصد کے حصول میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کسی کے ساتھ گناہ یا ظلم کے لیے تعاون نہیں کرتے۔ قرآن پاک میں دی گئی واضح ہدایات میں واضح ہے کہ اسلام جیسے مذہب کے خلاف دہشت گردی کا الزام جو عالمی امن کا حکم دیتا ہے، جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ درحقیقت اسلام ہر قسم کی دہشت گردی کا صفایا کرنے اور عالمی امن کے پیغام کو پھیلانے کے لیے پیدا ہوا ہے۔"[39]

ہندو تعلقات[ترمیم]

2009ء میں جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ ہندو کو کافر نہیں کہا جانا چاہیے؛ کیوں کہ اگرچہ اس اصطلاح کا مطلب صرف "غیر مسلم" ہے، اس کا استعمال؛ برادریوں کے درمیان؛ غلط فہمی کا باعث بن سکتا ہے۔[40] جمعیت نے نومبر 2009ء میں ایک قرارداد منظور کی، جس میں وندے ماترم کو ایک اسلام مخالف گیت قرار دیا گیا اور مسلم راشٹریہ منچ کے قومی کنوینر محمد افضل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے مسلمان بھائیوں کو اس فتوی کی پیروی نہیں کرنی چاہیے؛ کیوں کہ وندے ماترم ملک کا قومی گیت ہے اور ہر ہندوستانی شہری کو اس کا احترام کرنا اور اس کو پڑھنا چاہیے۔ "[41]

جمعیت علمائے ہند کے محمود مدنی گروپ کے علما کا ایک وفد صدر عثمان منصورپوری کی قیادت میں 9 مئی 2017ء کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے۔[42]

1934ء میں بابری مسجد کے چند حصوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ہندو دیوتاؤں کی تصاویر جن پر رام لکھا ہوا تھا، مسجد کے اندر رکھی گئیں۔ جمعیت کے صدر کفایت اللہ دہلوی نے ایودھیا کا دورہ کیا اور بعد میں جمعیت کی ورکنگ کمیٹی کو ایک رپورٹ پیش کی۔[43] ورکنگ کمیٹی نے بابری مسجد کیس کی پیروی کی اور فروری 1952ء کے ایک اجلاس میں؛ جس کی صدارت حسین احمد مدنی نے کی تھی اور جس میں ابو الکلام آزاد اور حفظ الرحمن سیوہاروی شریک تھے، یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملہ کو قانونی طریقوں سے آگے بڑھایا جائے۔[44] اس کے بعد فروری 1986ء میں فیض آباد کے ڈسٹرکٹ سیشن جج کرشنا موہن پانڈے نے بابری مسجد کے دروازوں پر تالے ہٹانے کا حکم دیا؛ تاکہ ہندؤوں کو عبادت کی اجازت دی جا سکے۔[45][46] جمعیت کے علما؛ اسعد مدنی اور اسرار الحق قاسمی نے بھارتی حکومت سے جج کے خلاف کارروائی کی اپیل کی اور ساتھ ہی اس حکم کے خلاف ایک عرضی بھی ڈالی۔[45] 3 مارچ 1986ء کو راجیو گاندھی کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ اس کیس میں ذاتی دلچسپی لیں اور معاملہ کو حل کرنے میں مدد کریں۔[47] بابری مسجد کیس کی پیروی کے لیے جمعیت نے 22 فروری 1986ء کو ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اس میں جلیل احمد سیوہاروی، محمد متین، وکیل ظفریاب جیلانی اور محمد رائق شامل تھے۔[47] 2019ء میں جب بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بابری مسجد کو رام مندر کی تعمیر کے لیے چھوڑ دیا جائے اور 5 ایکڑ اراضی مسلمانوں کو اس کی جگہ نئی مسجد کی تعمیر کے لیے دی جائے، جمعیت نے اسے "آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ ترین مقام" قرار دیا۔[48][49] ارشد مدنی نے کہا کہ اگرچہ مسلم تنظیمیں بابری مسجد کیس ہار گئی، جمعیت علمائے ہند دیگر عبادت گاہوں کی حفاظت اور تحفظ کے لیے لڑائی جاری رکھے گی۔[50]

اکانومک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ارشد مدنی نے کہا کہ "ہم اس ملک کے شہری ہیں اور ہمیں اپنی جگہوں پر حقوق حاصل ہیں۔ ہم مرتے دم تک ان کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ ایک کیس کی قسمت تمام کیسز کی قسمت نہیں ہوتی۔ ہمیں اب بھی اپنے ملک کی عدلیہ پر یقین ہے۔ "[50] جمعیت کا موقف یہ تھا کہ بابری مسجد کے لیے کوئی متبادل سائٹ قابل قبول نہیں ہے اور مسلم تنظیموں کو کوئی پیشکش شدہ زمین یا رقم قبول نہیں کرنی چاہیے۔[51]

قومی شہری رجسٹر (این آر سی)[ترمیم]

جمعیت کے محمود گروپ نے مئی 2017ء کے دوران میں سپریم کورٹ آف انڈیا میں عثمان منصورپوری کی قیادت میں آسام معاہدہ کا دفاع کیا۔[52] انھوں نے این آر سی کی حمایت میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔[53] تاہم ارشد گروپ کے صدر ارشد مدنی نے کہا کہ "این پی آر-این آر سی پروجیکٹ مرکزی حکومت کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ ہے؛ تاکہ ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کیا جا سکے۔"[54] ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ "مسلمانوں اور کچھ دوسری برادریوں بشمول دلت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔"[54] چنانچہ دسمبر 2019ء میں محمود گروپ نے شہریت ترمیمی قانون، 2019ء کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا کہ "قانون نے تارکینِ وطن کو بغیر کسی ” قابلِ فہم فرق “ کے درجہ بند کیا اور مذہبی طور پر ستائی گئی کئی اقلیتوں کو نظر انداز کیا۔"[55] اس گروپ (میم گروپ) نے کشمیر کو بھی ہندوستان کا اٹوٹ انگ قرار دیا۔[53]

2020ء دہلی فسادات پر ارشد مدنی نے اکتوبر 2020ء میں کہا تھا کہ "ضلعی انتظامیہ کو جواب دہ بنائے بغیر ملک میں فسادات پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔"۔"[56] اکتوبر 2020ء کی ایک "اُمید" رپورٹ کے مطابق؛ جمعیت ان کی قیادت میں دہلی فسادات کے ملزمان کے مقدمات لڑ رہی تھی اور دہلی ہائی کورٹ نے سولہ ضمانت کی درخواستیں قبول کر لیں۔[56]

جہیز[ترمیم]

عائشہ نامی نوجوان خاتون کی خودکشی اور اس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد[57] جمعیت کے پونے حلقے نے مارچ 2021ء میں جہیز کے خلاف مہم شروع کی۔[58] جمعیت کے علما نے کہا کہ وہ جمعہ کی نماز کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں گے تاکہ لوگوں کو اس مسئلے سے آگاہ کیا جا سکے۔[58] تاہم جمعیت کے آسام حلقہ نے بعد میں 5 جولائی 2021ء کو کہا کہ "اگر حکومت اسے زبردستی نافذ کرتی ہے تو جمعیت [بھارتی حکومت کی آبادی کی پالیسی] کی حمایت نہیں کرے گی"۔[59] سیکرٹری فضل الکریم قاسمی نے کہا کہ "اقلیتوں پر برتھ کنٹرول پالیسیاں مسلط نہیں کی جا سکتیں اور آبادی کی پالیسی اکثریت پر لاگو ہونی چاہیے۔ اکثریت کے لیے برتھ کنٹرول پر قانون ہونا چاہیے۔"[59]

کووِڈ-19 ویکسینیشن[ترمیم]

جون 2021ء میں جمعیت علمائے ہند کی گجرات یونٹ نے کووِڈ-19 ویکسین کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے کیمپ لگائے۔ اس مہم میں ساٹھ علما کے ایک گروپ نے بھاونگر اور پالن پور سے حصہ لیا۔[60] جمعیت سے وابستہ ایک مقامی عالم عمران ڈھیری والا نے کہا کہ "کمیونٹی کو ویکسین کے حوالے سے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا گہرا احساس ہے ؛ لیکن یہ لوگوں کے ایمان کی وجہ سے ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کی موت کے وقت کا فیصلہ کرتا ہے اور وہ حفاظت بھی کرتا ہے یہاں تک کہ اگر کوئی ویکسین نہ لے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ، "ہم لوگوں سے اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ اسلام کی تعلیمات انسان کو اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے ادویات کے ذریعہ جانا ضروری بناتی ہیں اور اسی طرح ویکسین ضروری تھی اور ہم اس پیغام کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ "[60] جمعیت کے ارشد دھڑے کے صدر ارشد مدنی نے کہا۔ کہ "جو بھی انسانی جان بچاتا ہے وہ جائز ہے۔ ہمیں ویکسین لینی چاہیے اور اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کے ہر فرد کو کووِڈ-19 سے بچانا چاہیے۔"[61]

ادارے[ترمیم]

ادارہ مَباحثِ فقہیہ[ترمیم]

جمعیت علمائے ہند نے 1970ء میں ادارہ مباحثہ فقہیہ قائم کیا اور محمد میاں دیوبندی کو اس کا پہلا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔[17][62] ادارہ نے مارچ 2019ء میں اپنے پندرہویں فقہی سیمینار کا اہتمام کیا۔[63] سیمینار میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ گوگل ایڈسینس، پے ٹی ایم نقد رقم اور موبائل اور انٹرنیٹ سے متعلق دیگر چیزوں کی اسلامی قانون کے تحت اجازت ہے یا نہیں۔ اس میں سعید احمد پالنپوری اور شبیر احمد قاسمی سمیت کئی فقہا نے شرکت کی۔[63]

جمعیت یوتھ کلب[ترمیم]

جمعیت یوتھ کلب جولائی 2018ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو کمیونٹی کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختلف دفاعی تکنیکوں کی تربیت فراہم کرنا ہے۔[64] اسے ایک "پائلٹ پروجیکٹ" کہا گیا اور بتایا گیا کہ جمعیت ہر سال تقریباً 1.25 ملین نوجوانوں کو تربیت دینے کی توقع رکھتی ہے اور 2028ء تک ہندوستان کے سو سے زائد اضلاع میں تقریباً 12.5 ملین نوجوانوں کے جمعیت یوتھ کلب میں شامل ہونے کی توقع ہے۔[64][65] محمود مدنی نے کہا کہ کلب نوجوانوں کو دی بھارت اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز کی طرح تربیت دے گا، جس میں جسمانی تربیت اور ان کی ذہنی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے مختلف طریقوں پر زور دیا جائے گا۔[65]

حلال ٹرسٹ[ترمیم]

جمعیت کی ایک حلال-اعلان کرنے والی ایجنسی ہے جسے جمعیت علمائے ہند حلال ٹرسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔[66] یہ 2009ء میں قائم کیا گیا تھا اور اسے شعبہ اسلامی ترقیات ملائیشیا نے 2011ء میں "گوشت، گوشت کی مصنوعات اور سلاٹر ہاؤس کو حلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد اور مستند ادارہ" کے طور پر تسلیم کیا تھا۔[66] اپریل 2020ء کے مطابق اس کے سیکرٹری نیاز احمد فاروقی تھے۔[67]

جمعیت نیشنل اوپن اسکول[ترمیم]

جمعیت نیشنل اوپن اسکول فروری 2021ء میں قائم کیا گیا۔ یہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او ایس) کی طرح ہے، [68] اور طلبہ کو تربیت یافتہ عملہ اور انفراسٹرکچر فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ کمپیوٹر، ریاضی، سائنس، زبان اور این آئی او ایس کے تحت پیش کردہ دیگر مضامین پڑھ سکتے ہیں۔ یہ اسکول طلبہ کو اعلیٰ معیار اور عصری تعلیمی تعلیم فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ کیوں کہ ہر سال ہزاروں طلبہ مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں؛ لیکن اکثر معاصر جمہوری تعلیمی صلاحیتوں اور مہارتوں کا فقدان رکھتے ہیں۔[69][68]

جمعیت پیشہ ورانہ کورسز جیسے بی ٹیک، ایم ٹیک، بی سی اے اور دیگر میڈیکل اور انجینئری کورسز کر رہے طلبہ کو وظائف فراہم کرتی ہے۔[70] 2012ء کے بعد سے طالب علمی فنڈ کے ذریعے مالی طور پر کمزور طلبہ کو وظائف دیے جاتے ہیں۔[70]

لیگل سیل انسٹی ٹیوٹ[ترمیم]

جمعیت علمائے ہند کے پاس لیگل سیل انسٹی ٹیوٹ بھی ہے، جس کے ذریعے وہ دہشت گردی کے الزام میں مسلمانوں کو قانونی لڑائی لڑنے میں مدد دیتا ہے۔[71][72] اسے ارشد مدنی نے 2007ء میں قائم کیا تھا اور مئی 2019ء تک پورے ہندوستان میں 192 بری ہونے والوں کی مدد کی ہے۔[72] ارشد مدنی نے بتایا کہ انھوں نے انسٹی ٹیوٹ اس وقت شروع کیا، جب انھوں نے دیکھا کہ بے گناہ افراد کو ہندوستان میں مختلف الزامات کے تحت باقاعدگی سے اٹھایا جاتا ہے اور قید کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ اپنی بچت خرچ کرتے ہیں اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑنے کے لیے اپنے اثاثے اور گھر فروخت کرتے ہیں۔[72] دی نیو انڈین ایکسپریس کی مئی 2019ء کی رپورٹ کے مطابق؛ "لیگل سیل نے جو پہلے تین مقدمات اٹھائے، وہ 7/11 ممبئی ٹرین بم دھماکے، 2006ء مالیگاؤں دھماکے اور اورنگ آباد آرمز ہول کیس ستمبر 2007ء تھے۔"[72] جن لوگوں پر الزام لگایا گیا ان (ملزَموں) کی نمائندگی شاہد اعظمی نے کی، [73] جنھوں نے بعد میں 2008 ممبئی حملوں کے ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین کا دفاع کیا۔[74][75] تاہم اعظمی کو 11 فروری 2010ء کو شہید کر دیا گیا؛[76] اور انسٹی ٹیوٹ نے ٹرائل کورٹ اور پھر ہائی کورٹ میں ان دونوں کی مدد کی۔ ہائی کورٹ نے ان کی بریت کو برقرار رکھا اور دونوں کو سازشی الزامات سے آزاد کر دیا گیا۔[74] انسٹی ٹیوٹ نے نو مسلم نوجوانوں کا دفاع کیا جن پر 2006ء کے مالیگاؤں دھماکوں کا الزام تھا؛[77] اور ان سب کو 2016ء میں بری کر دیا گیا۔[78]

دیگر مقدمات جہاں انسٹی ٹیوٹ نے ملزمان کے دفاع میں قانونی مدد فراہم کی ہے ان میں مولوند دھماکا کیس، گیٹ وے آف انڈیا دھماکے کیس اور 13/7 ممبئی ٹرپل دھماکے شامل ہیں۔[74] انسٹی ٹیوٹ کی مدد صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے؛ کیوں کہ انھوں نے 2012ء میں ایک ہندو شخص کی مدد کی تھی، جسے سزائے موت سنائی گئی تھی اور بعد میں اسے بری کر دیا گیا تھا۔[74] مارچ 2019ء میں انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے گیارہ مسلمان جن پر ٹی اے ڈی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا؛ کو خصوصی ٹی اے ڈی اے عدالت نے 25 سال جیل میں گزارنے کے بعد بری کر دیا۔[79] جون 2021ء میں دو افراد کو یو اے پی اے الزامات سے پاک کر دیا گیا، جب انھوں نے نو سال جیل میں گزارے اور انھیں طویل قانونی جنگ میں ان کی مدد کرنے پر لیگل سیل کے گلزار اعظمی کا شکریہ ادا کرتے دیکھا گیا۔[80]

لیگل سیل انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ گلزار اعظمی کا کہنا ہے کہ "دہشت گردوں کو پھانسی دی جائے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے؛ لیکن ہمیں اس وقت تکلیف ہوتی ہے جب بے گناہ لوگوں پر دہشت گردی کے مقدمات میں جھوٹے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔"[81] ایک حالیہ کیس میں انسٹی ٹیوٹ کے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں دو لوگوں کی مدد کرنے کی اطلاع دی گئی ہے، جنھیں جولائی 2021ء میں انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے گرفتار کیا تھا۔ اس کیس کے بارے میں ارشد مدنی کے حوالے سے کہا گیا کہ "مسلم نوجوانوں کی زندگی تباہ کرنے کے لیے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا عمل جاری ہے۔ بے گناہ مسلمانوں کی باعزت رہائی تک قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔"[82]

پبلیکیشنز ڈویژن[ترمیم]

بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 23 اپریل 2007ء کو جمعیت علمائے ہند کے سابق صدر اسعد مدنی کی پارلیمانی تقریروں کے مجموعہ کا اجرا کرتے ہوئے۔

جمعیت علمائے ہند کی ایک پبلیکیشنز ڈویژن بھی ہے، جس کے ذریعے اس نے ’’اسلام میں امامت اور امارت کا تصور‘‘، ’’ہندوستان اور مسئلۂ امارت‘‘ اور ’’اسلام دی بنیولینٹ فور آل کنسٹرکٹیو پروگرامز آف جمعیت علمائے ہند (اسلام جمعیت علمائے ہند کے تمام تعمیری پروگراموں کے لیے احسان مند )‘‘ جیسی کتابیں شائع کی ہیں۔[83][84]

انتظامیہ[ترمیم]

کفایت اللہ دہلوی جمعیت علمائے ہند کے پہلے صدر تھے اور حسین احمد مدنی 1940ء میں دوسرے صدر بنائے گئے تھے۔[85] اسعد مدنی نے فروری 2006ء تک پانچویں صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 8 فروری 2006ء کو ان کے بھائی ارشد مدنی نے ان کی جگہ لی۔[86] جمعیت مارچ 2008ء میں ارشد گروپ اور محمود گروپ کی پہچان سے دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔[34][33] محمود مدنی اپنے سابق صدر عثمان منصورپوری کی وفات کے بعد 27 مئی 2021ء کو محمود گروپ کے عبوری صدر؛ پھر 18 ستمبر 2021ء کو مستقل صدر بنائے گئے[87] اور ارشد مدنی؛ ارشد گروپ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔[88][89]

جمعیت علمائے ہند کا ایک جنرل سیکرٹری ہوتا ہے؛ پہلے احمد سعید دہلوی تھے اور متحدہ جمعیت کے آخری جنرل سیکرٹری محمود مدنی تھے، جو بعد میں اس کے محمود گروپ کے پہلے جنرل سیکرٹری بنائے گئے۔[34][11][90] محمود گروپ کے موجودہ جنرل سیکرٹری حکیم الدین قاسمی ہیں۔[90] دسمبر 2020ء میں معصوم ثاقب قاسمی کو ارشد گروپ کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔[91]

1920ء کے دوران میں جمعیت علمائے ہند کے شریک بانی محمد صادق کراچوی نے کراچی میں جماعت کی ایک ریاستی یونٹ قائم کی اور زندگی بھر اس کے صدر رہے۔[92] جمعیت کی اب پورے ہندوستان میں ریاستی اکائیاں ہیں۔ ان میں جمعیت علمائے آسام، جمعیت علمائے بہار، جمعیت علمائے جھارکھنڈ، جمعیت علمائے کرناٹک، جمعیت علمائے مدھیہ پردیش، جمعیت علمائے مہاراشٹر، جمعیت علمائے راجستھان، جمعیت علمائے اترپردیش، جمعیت علمائے اتراکھنڈ، جمعیت علمائے تلنگانہ، جمعیت علمائے مغربی بنگال اور جمعیت علمائے اوڈیشا بھی شامل ہیں۔[93][94][95] مشہور عالم اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے بانی بدر الدین اجمل جمعیت علمائے آسام کے ریاستی صدر ہیں۔[52]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

مآخذ[ترمیم]

  1. خان، فیصل (2015). Islamic Banking in پاکستان: Shariah-Compliant Finance and the Quest to make پاکستان more Islamic [پاکستان میں اسلامی بینکاری: شریعت کے مطابق مالیات اور پاکستان کو مزید اسلامی بنانے کی جدوجہد]. روٹلیج. صفحہ 253. ISBN 978-1-317-36652-2. 5 جنوری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جنوری 2019. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ جامعی 1995, p. 492.
  3. ^ ا ب میاں دیوبندی، محمد. علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے. 1. دیوبند: فیصل پبلیکیشنز. صفحہ 140. 
  4. واصف دہلوی 1970, p. 45.
  5. واصف دہلوی 1970, p. 44.
  6. وہر، ہنس (1979). ویکی نویس: کووَن، جے۔ ملٹن. Dictionary of Modern Written Arabic (ایڈیشن 4). صفحہ 160. 
  7. "Meaning of jam'iyyat" [جمعیت کے معنی]. ریختہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 جولائی 2021. 
  8. "Meaning of Jamiat" [جمعیت کے معنی]. اردو لغت۔انفو/. اخذ شدہ بتاریخ 22 جولائی 2021. 
  9. واصف دہلوی 1970, p. 69.
  10. واصف دہلوی 1970, p. 7, 13.
  11. ^ ا ب پ واصف دہلوی 1970, p. 74.
  12. ^ ا ب پ ت واصف دہلوی 1970, p. 57, 65.
  13. واصف دہلوی 1970, p. 47-49.
  14. "Jamiat Ulama-i-Hind slams پاکستان، says neighboring nation bent on destroying Kashmir" [جمعیت علمائے ہند نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی قوم کشمیر کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے]. فائنانشل ایکسپریس. 13 ستمبر 2019. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2021. 
  15. ^ ا ب پ ت واصف دہلوی 1970, p. 56.
  16. ^ ا ب اسمتھ، ولفریڈ کینٹ ویل (1957). اسلام اِ موڈرن ہسٹری (PDF). پرنسٹن: مطبع جامعہ پرنسٹن. صفحات 284–285. اخذ شدہ بتاریخ 25 جولائی 2021. 
  17. ^ ا ب امینی 2017, p. 48, 106.
  18. واصف دہلوی 1970, p. 58.
  19. جامعی 1995, p. 258.
  20. منصورپوری 2014, p. 189.
  21. ^ ا ب الاسلام 2018, p. 158.
  22. ادروی 2016, p. 21.
  23. منصورپوری 2014, p. 186.
  24. امینی 2017, p. 569.
  25. ادروی 2016, p. 81.
  26. حجازی، ابو طارق (22 فروری 2013). "Maulana Hifzur Rahman and his Qasas-ul-Qur'an" [مولانا حفظ الرحمن اور ان کی قصص القرآن]. عرب نیوز. اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2021. 
  27. نعیم، عبد اللہ احمد النعیم؛ نعیم، عبد اللہ احمد (2009). Islam and the Secular State [اسلام اینڈ دی سیکولر اسٹیٹ] (بزبان انگریزی). ہارورڈ یونیورسٹی پریس. صفحہ 156. ISBN 978-0-674-03376-4. جمیعت علمائے ہند 1919ء میں قائم ہوئی، 1940ء کی دہائی میں تقسیم کی شدید مخالفت کی اور جامع قوم پرستی کا عزم کیا۔ 
  28. میک ڈرموٹ، ریچل فیل؛ گورڈن، لینرڈ اے۔ گورڈن؛ ٹی۔ ایمبری، اینسلی؛ پرچیٹ، فرانسس ڈبلیو۔؛ ڈالٹن، ڈینس (2013). Sources of Indian Tradition Modern India, Pakistan, and Bangladesh [بھارتی روایت کے ذرائع جدید بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش] (ایڈیشن تیسرا). نیویارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس. صفحہ 457. ISBN 978-0-231-51092-9. 
  29. محمود، واجد؛ شاہ، سید علی؛ مالک، محمد شعیب (2016). "Ulema and the Freedom Struggle for پاکستان" [علما اور پاکستان کے لیے جد و جہدِ آزادی] (PDF). Global Political Review (GPR). اسلام آباد: ہومیونٹی پبلیکیشنز. 1 (1): 49. 
  30. قاسمی، علی عثمان؛ روب، میگن ایٹن، ویکی نویس (2017). Muslims against the Muslim League: Critiques of the Idea of Pakistan (بزبان انگریزی). کیمبرج یونیورسٹی پریس. صفحہ 2. ISBN 978-1-108-62123-6. doi:10.1017/9781316711224. 
  31. اشتیاق احمد، The Pathology of Partition آرکائیو شدہ 14 جولا‎ئی 2021 بذریعہ وے بیک مشین دی فرائڈے ٹائمز (اخبار)، شائع کردہ: 6 نومبر 2015، بازیافت 22 اگست 2019
  32. ^ ا ب رضوی 1994, p. 149.
  33. ^ ا ب پ "'جمیعت علماء ہند' کے 100 برس مکمل". ای ٹی وی اردو. 6 دسمبر 2019. 12 جولائی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2021. 
  34. ^ ا ب پ ت ٹ ث "Jamiat-Ulama-E-Hind splits" [تقسیم جمعیت علمائے ہند]. ہندوستان ٹائمز. 5 اپریل 2008. 14 جولائی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2021. 
  35. قاسمی، محمد اللہ (اکتوبر 2020ء). دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن 2). دیوبند: شیخ الہندؒ اکیڈمی. صفحہ 671. 
  36. ^ ا ب شاہ (19 نومبر 2019). "Jamiat Ulema-e-Hind turns 100 today" [جمعیت علمائے ہند آج 100 سال مکمل کر رہی ہے]. دی نیوز انٹرنیشنل. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  37. "جمعیت علمائے اسلام (ف) کی صد سالہ تقریبات، امام کعبہ کی آمد" [The Imam of the Kaaba arrives at the JuI (F) centenary celebrations]. اردو وی او اے. 6 اپریل 2017ء. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  38. ^ ا ب پ ت "Ulama endorse fatwa against terror" [علما؛ دہشت گردی کے خلاف فتوٰی کی تائید کرتے ہیں]. ٹائمز آف انڈیا. 8 نومبر 2008. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  39. گپتا، ششر (2012). Indian Mujahideen [انڈین مجاہدین]. ہیچیٹ یوکے. ISBN 978-93-5009-375-7. 
  40. "Hindus can't be dubbed 'kafir'، says Jamiat" [جمعیت کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کو کافر نہیں کہا جا سکتا]. دی ٹائمز آف انڈیا (اخبار). 24 فروری 2009. 24 جنوری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2019. 
  41. "Muslim organisation slams Vande Mataram fatwa" [مسلم تنظیم نے وندے ماترم فتوی کی مذمت کی]. دی انڈین ایکسپریس. 9 نومبر، 2009. 16 اپریل 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2014. 
  42. "Jamiat's Mahmood Madani group meets Narendra Modi, breaks Muslim ranks" [محمود مدنی کا گروپ مسلمانوں کی صفوں کو توڑتے ہوئے نریندر مودی سے ملاقات کر رہا ہے۔]. ملی گیزیٹ. 9 مئی 2017. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  43. جامعی 1995, p. 292.
  44. جامعی 1995, p. 293.
  45. ^ ا ب جامعی 1995, p. 294.
  46. "Unlocking of Babri Masjid was a 'balancing act' by then government: Arif Mohammed Khan" [بابری مسجد کو غیر مقفل کرنا اس وقت کی حکومت کی طرف سے ایک 'متوازن عمل' تھا: عارف محمد خان]. نیو انڈین ایکسپریس. 28 مارچ 2017. اخذ شدہ بتاریخ 26 جولائی 2021. 
  47. ^ ا ب جامعی 1995, p. 295.
  48. "Ayodhya verdict: Understanding the Supreme Court judgment" [ایودھیا فیصلہ: سپریم کورٹ کے فیصلے کی تفہیم]. ہندوستان ٹائمز. 28 جولائی 2020. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2021. 
  49. "Ayodhya verdict: Jamiat Ulema-e-Hind says filing review petition not beneficial" [ایودھیا فیصلہ: جمعیت علمائے ہند کا کہنا ہے کہ نظرثانی کی درخواست دائر کرنا فائدہ مند نہیں]. فائنانشل ایکسپریس. 22 نومبر 2019. 20 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2021. 
  50. ^ ا ب وینو گوپال، وسودھا (5 اگست 2020). "Will fight to protect other places, says JUH's Maulana Syed Arshad Madani" [جے یو ایچ کے مولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ دیگر مقامات کی حفاظت کے لیے لڑیں گے۔]. انڈیا ٹائمز. 14 جولائی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  51. "No alternative land acceptable for mosque in Ayodhya: Jamiat Ulama-e-Hind" [ایودھیا میں مسجد کے لیے کوئی متبادل زمین قابل قبول نہیں: جمعیت علمائے ہند]. ہندوستان ٹائمز. 15 نومبر 2019. 15 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  52. ^ ا ب "Jamiat Ulema-e-Hind defends Assam Accord-1985 in SC" [جمعیت علمائے ہند نے سپریم کورٹ میں آسام معاہدہ 1985ء کا دفاع کیا]. 3 مئی 2017. 25 مئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2021. 
  53. ^ ا ب کوشلیہ، پرگیہ (12 ستمبر 2019). "Kashmir as integral part of بھارت: Jamiat passes resolution, supports NRC" [کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے: جمعیت نے قرارداد منظور کی، این آر سی کی حمایت کی]. 25 مئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2021. 
  54. ^ ا ب "Jamiat Ulema-I-Hind says NPR is a big threat to Muslims" [جمعیت علمائے ہند کا کہنا ہے کہ این پی آر مسلمانوں کے لیے بڑا خطرہ ہے]. انڈیا ٹوڈے. 21 فروری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  55. "Jamiat Ulama-e-Hind moves Supreme Court against citizenship law" [جمعیت علمائے ہند نے شہریت قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا]. دی ہندو. 16 دسمبر 2019. 13 جولائی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2021. 
  56. ^ ا ب "Hold DM responsible to control communal riots: Arshad Madani" [فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پانے کے لیے ڈی ایم کو ذمہ دار ٹھہرائیں: ارشد مدنی]. Ummid. 23 اکتوبر 2020. 14 جولا‎ئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2021. 
  57. "Ahmedabad Woman Releases Suicide Video Before Jumping Into Sabarmati River, Netizens Demand Justice" [احمد آباد کی خاتون نے سابرمتی دریا میں چھلانگ لگانے سے قبل خودکشی کی ویڈیو جاری کی، نیٹیزینز نے انصاف کا مطالبہ کیا]. اے بی پی لائیو. 1 مارچ 2021. 
  58. ^ ا ب چوہان، وجے (5 مارچ 2021). "Pune body takes up drive against dowry" [پونے باڈی جہیز کے خلاف مہم چلاتی ہے]. انڈیا ٹائمز. 11 مارچ 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  59. ^ ا ب ناتھ، ہیمنت کمار (5 جولائی 2021). "Jamiat won't support if Assam forcefully implements population policy: Jamiat Ulama" [جمعیت حمایت نہیں کرے گی اگر آسام آبادی کی پالیسی کو زبردستی نافذ کرے: جمعیت علماء]. انڈیا ٹوڈے. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  60. ^ ا ب "Jamiat Ulama-i-Hind to hold camps to spread awareness on Covid vaccine" [جمعیت علمائے ہند کوویڈ ویکسین کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے کیمپ لگائے گی]. انڈین ایکسپریس. 15 جون 2021. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  61. "COVID-19 vaccine is permissible for Muslims: Clerics" [کووِڈ-19 ویکسین مسلمانوں کے لیے جائز ہے: علما]. نیو انڈین ایکسپریس. 3 جنوری 2021. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  62. "About Mabahith-e-Fiqhiyyah" [مباحث فقیہ کے بارے میں]. جمعیت علمائے ہند (الف). اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  63. ^ ا ب "مباحث فقہیہ جمعیۃ علماء ہند کا تین روزہ فقہی اجتماع 27 مارچ سے نئی دہلی میں !". ملت ٹائمز. 26 مارچ 2019. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  64. ^ ا ب صفورا (28 جولائی 2018). "What is Jamiat's 'Youth Club wing' is all about?" [جمعیت کا 'یوتھ کلب ونگ' کیا ہے؟]. روزنامہ سیاست. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  65. ^ ا ب "Jamiat Ulama-i-Hind forms RSS-like 'Jamiat Youth Club'، to train 12 lakh youths every year" [جمعیت علمائے ہند نے ہر سال 12 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے آر ایس ایس جیسا 'جمعیت یوتھ کلب' تشکیل دیا]. فائنانشل ایکسپریس. 28 جولائی 2018. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  66. ^ ا ب "Jamiat Ulama-e Hind Halal Trust reliable institution" [جمعیت علمائے ہند حلال ٹرسٹ قابل اعتماد ادارہ]. ملی گیزیٹ. 13 اگست 2011. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  67. "JUHHT clarifies on certificate to Patanjali products" [جے یو ایچ ایچ ٹی پتنجلی مصنوعات کے سرٹیفکیٹ پر وضاحت کرتا ہے]. گریٹر کشمیر. 30 اپریل 2020. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  68. ^ ا ب احمد، غزالہ (22 فروری 2021). "Jamiat Ulema-E-Hind Launches 'Jamiat Open School' To Provide Secondary Level Education To Madrasa Students" [جمعیت علمائے ہند نے مدرسہ کے طلباء کو ثانوی سطح کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے 'جمعیت اوپن اسکول' کا آغاز کیا]. دی کوگنیٹ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  69. حسین، یسرٰی (4 مارچ 2021). "Jamiat open school to have smart classes" [جمعیت اوپناسکول سمارٹ کلاسز کے لیے]. ٹائمز آف انڈیا. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  70. ^ ا ب "JuH distributes scholarship to non-Muslims" [جمعیت غیر مسلموں میں وظائف تقسیم کرتی ہے۔]. لوکمت. 20 مارچ 2021. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  71. عالم، مہتاب (11 فروری 2018). "It Takes More Than Guns to Kill a Man" [یہ انسان کو مارنے میں بندوق سے زیادہ لیتا ہے]. دی وائر. اخذ شدہ بتاریخ 25 جولائی 2021. جمعیت علماء ہند مہاراشٹر لیگل سیل میں ایک گروہ جو دہشت گردی کے ملزَموں کو قانونی مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے، ندیم اس تنظیم کے لیے وہی کردار ادا کرتا ہے جو (شاہد) اعظمی نے اس کے لیے پہلے ادا کیا تھا 
  72. ^ ا ب پ ت حسین، ولید. "An innocent man deserves a fair trial: Jamiat Ulama-i-Hind president" [ایک بے گناہ انسان منصفانہ مقدمے کا مستحق ہے: جمعیت علمائے ہند کے صدر]. نیؤ انڈین ایکسپریس. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  73. سنگھ، ہرنیت (9 اگست 2012). "The unlikely lawyer as an unlikely hero" [غیر متوقع ہیرو کے طور پر غیر متوقع وکیل]. انڈین ایکسپریس. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2021. 
  74. ^ ا ب پ ت "Jamiat Ulema-e-Hind Provides Legal Aid in Many Cases" [جمعیت علمائے ہند کئی معاملات میں قانونی مدد فراہم کرتی ہے]. آؤٹ لُک انڈیا. 22 جولائی 2012. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  75. "After 12 yrs in jail, Faheem Ansari is out: Karkare told officials I was innocent" [12 سال جیل میں رہنے کے بعد فہیم انصاری باہر ہے: کرکرے نے عہدیداروں کو بتایا کہ میں بے گناہ ہوں]. انڈین ایکسپریس. 8 نومبر 2019. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2021. 
  76. "26/11 accused Fahim Ansari's lawyer Shahid Azmi shot dead" [26/11 کے ملزم فہیم انصاری کے وکیل شاہد اعظمی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا]. ٹائمز آف انڈیا. 11 فروری 2010. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2021. 
  77. "2006 Malegaon blast: Notice to ATS, CBI, home ministry" [600ء مالیگاؤں دھماکا: اے ٹی ایس، سی بی آئی، وزارت داخلہ کو نوٹس]. بزنس اسٹینڈرڈ. 20 اکتوبر 2013. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2021. 
  78. "All nine accused discharged in 2006 Malegaon blasts case" [2006ء کے مالیگاؤں دھماکوں کے معاملے میں تمام نو ملزمان کو رہا کر دیا گیا]. ہندوستان ٹائمز. 26 اپریل 2016. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2021. 
  79. "Eleven Muslims Acquitted 25 Years After Being Charged Under Anti-Terrorism Law" [گیارہ مسلمانوں کو 25 سال بعد انسداد دہشت گردی قانون کے تحت چارج کیا گیا]. دی ورک. 1 مارچ 2019. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  80. "Two men, cleared of UAPA charges, regret the 9 years they lost in jail" [یو اے پی اے کے الزامات سے پاک ہونے والے دو افراد کو افسوس ہے کہ ان کے 9 سال جیل میں ضائع ہوئے]. انڈیا ٹوڈے. 17 جون 2021. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  81. بھان، روہت (6 جولائی 2015). "Gujarat Police Stop Release of Book by Man Acquitted in Akshardham Attack Case" [گجرات پولیس نے اکشردھام حملہ کیس میں بری شدہ شخص کی کتاب کی ریلیز روک دی]. این ڈی ٹی وی. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  82. "Jamiat Ulema-e-Hind cleric to provide legal assistance to terror suspects" [جمعیت علمائے ہند کے مولانا دہشت گردی کے ملزمان کو قانونی مدد فراہم کریں گے]. ٹائمز آف انڈیا. 15 جولائی 2021. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  83. جامعی 1995, p. 358.
  84. "Jamiat Ulama-e-Hind's publiations" [جمعیت علمائے ہند کی مطبوعات]. ورلڈ کیٹ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2021. 
  85. ادروی، اسیر. مآثرِ شیخ الاسلام (ایڈیشن پانچواں). دیوبند: دار المؤلفین. صفحہ 258. 
  86. "Jamiat Ulama-I-Hind & Anr. vs Maulana Mahmood Asad Madni & Anr. on 25 اگست، 2008" [جمعیت علمائے ہند اور اے این آر بمقابلہ مولانا محمود اسعد مدنی اور این آر۔ 25 اگست 2008ء کو۔]. انڈین قانون. 11 جولائی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 جولائی 2021. 
  87. "سبھی ریاستی جمعیتوں کی متفقہ تجویز پر مولانا محمود مدنی اگلے ٹرم کے لئے صدر منتخب جمعیۃ علماء ہند طالبان کی نئی حکومت سے حقوق انسانی کے احترام اور بھارت سے خوشگوار تعلقات کے خواہاں". ملت ٹائمز. ملت ٹائمز. 18 ستمبر 2021. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2021. 
  88. "Arshad Madani elected President of Jamiat Ulama-i-Hind" [ارشد مدنی جمعیت علمائے ہند کے صدر منتخب]. رہنما. 9 مارچ 2021. اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2021. 
  89. "Maulana Mahmood Madani elected interim chief of Jamiat Ulema-e-Hind" [مولانا محمود مدنی جمعیت علمائے ہند کے عبوری صدر منتخب]. آؤٹ لُک انڈیا. 27 مئی 2021. اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2021. 
  90. ^ ا ب "مولانا محمود مدنی جمعیت علمائے ہند(م) کے قومی صدر منتخب". قندیل. 27 مئی 2021. 27 مئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 جولائی 2021. 
  91. "جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی منتخب ہونے پر مفتی معصوم ثاقب قاسمی کو جمعیۃ علماء کرناٹک نے پیش کی تہنیت". بصیرت آن لائن. 26 دسمبر 2020. 26 دسمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 جولائی 2021. 
  92. ادروی 2016, p. 127.
  93. "Jamiat Ulema-e-Hind to elect its President for Bihar and Jharkhand" [جمعیت علمائے ہند اپنے صدر کا انتخاب بہار اور جھارکھنڈ کے لیے کرے گی]. ٹو سرکلز. 5 اگست 2007. 17 مارچ 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  94. عالم، شانِ (17 فروری 2020). "جمعیت علماء مدھیہ پردیش نے لیا سی اے اے اور این پی آر کے خلاف صوبائی سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ". ہندی سماچار. 14 جولائی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 
  95. "Jamiat Ulama-e-Hind (M) governing body" [جمعیت علماء ہند (میم) منتظمہ]. جمعیت علمائے ہند. 12 جولائی 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2021. 

کتابیات[ترمیم]

مزید مطالعہ[ترمیم]