جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء
Seal of Jammu and Kashmir color.png
An Act to provide for setting out the regime of right to information for the people of the State to secure access to information under the control of public authorities in order to promote transparency and accountability in the working of every public authority, the constitution of a State Information Commission and for matters connected therewith or incidental thereto.
سمن Act No. VIII of 2009
Territorial extent جموں و کشمیر ریاست
نفاذ بذریعہ جموں و کشمیر ریاستی اسمبلی
تاریخ نفاذ 20-03-2009
تاریخ رضامندی 20-03-2009
تاریخ آغاز 20-03-2009
قانون سازی کی تاریخ
First reading مشتاق ریشی

جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء 20 مارچ 2009ء سے نافذ العمل ہوا ہے۔ یہ سابقہ جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2004ء اور جموں وکشمیر حق معلومات (ترمیم) قانون 2008ء جیسے قوانین کو بدل کر ان کی جگہ بنایا گیا ہے۔ یہ قانون بڑی حد تک مرکزی حق معلومات قانون 2005ء پر مبنی ہے۔ سبھی معلومات کا حق فراہم کرنے والے قوانین کی طرح یہ جموں و کشمیر ریاست کے شہریوں کو ایک قانونی آلہ پہنچاتا ہے جس سے وہ سرکاری ریکارڈز دیکھ سکتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2004ء[ترمیم]

جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2004ء 7 جنوری 2004ء کو بنایا گیا۔[1] قانون کے اصول 30 جون 2005ء کو جاری ہوئے تھے۔[2]

ریاستی سطح کے حق معلومات قوانین[ترمیم]

ریاستی سطح پر آر ٹی آئی کامیابی سے تمل ناڈو (1997ءگوا (1997ء)، راجستھان (2000ءمہاراشٹر (2002ءآسام (2002ء)، مدھیہ پردیش (2004ءہریانہ (2005ء) اور آندھرا پردیش میں بنایا جا چکا ہے۔ دستور ہند کے تحت دفعہ 370 کی وجہ سے جموں وکشمیر کو خصوصی موقف حاصل ہے۔ جموں وکشمیر کا اپنا ایک الگ دستور ہے۔ اس کے تحت کسی مرکزی قانون سازی کے جواب میں ریاست اسی کی عمل آوری ریاست تک وسیع کرسکتی ہے یا کوئی الگ قانون سازی کرسکتی ہے یا اسے بالکل ہی نظرانداز کرسکتی ہے۔

جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2008ء[ترمیم]

کئی سالوں سے شہریوں کے گروپوں کی جانب سے حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے باوجود جموں و کشمیر کی حکومت مرکزی حق معلومات قانون 2005ء کو ریاست میں نافذ نہیں کیا۔[3] اس کے تتیجے میں جموں و کشمیر کے شہری ایک پرانے اور کم اثرانگیز جموں وکسمیر حق معلومات قانون 2004ء کا سہارا لیتے رہے۔۔

ستمبر 2007ء کو حکومت نے جموں وکشمیر حق معلومات (ترمیم) قانون کو منظور کروایا [4] جسے بعد میں جموں وکشمیر گزٹ میں اعلامیہ کی شکل میں جنوری 2008ء میں جاری کیا۔ 2008ء کا ترمیمی قانون اصل قانون میں کئی تبدیلیاں لاکر اسے مرکزی قانون کے مساوی بناتا ہے، تاہم کئی شہریوں کے گروپ اسے اس کے کلیدی مشمولات سے دستبرداری قرار دیتے ہیں۔[5] حالانکہ 2008ء کا ترمیمی قانون تکنیکی طور پر نافذ تھا، مگر اس پر کبھی بھی حقیقی معنوں میں عمل آوری نہیں ہوئی۔ ترمیمی قانون کے اصول کبھی جاری نہیں ہوئے اور ضروری جموں و کشمیر ریاستی معلوماتی کمیشن جس کی اس قانون میں وکالت کی گئی تھی، کبھی قائم نہیں ہوا۔

موجودہ قانون[ترمیم]

دسمبر 2008ء میں عمر عبداللہ کی زیر قیاست نیشنل کانفرنس پارٹی نے اعلان کیا کہ ایک نیا حق معلومات قانون ان "انتخابی منشور" کے مقاصد کا حصہ ہے۔ جب نیشنل کانفرنس منتخب ہوئی اور عمر عبد اللہ وزیر اعلٰی بنے، ایک بل کا مسودہ اسمبلی میں 7 مارچ 2009ء کو رکھا گیا اور اسے اسمبلی اور ریاستی کونسل کی جانب سے 12 مارچ 2009ء کو منظور ہوا۔ یہ قانون 20 مارچ 2009ء کو گزٹ کا حصہ بنا (نافذ العمل ہوا)۔ قانون کے اصول 6 جون 2009ء کو جاری ہوئے۔ حکومت نے اسی کے ساتھ عوامی معلومات افسروں اور نائب عوامی معلومات افسروں کے تقرر کا عمل شروع کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "J&K RTI Act 2004 (Official Copy)"۔ Government of Jammu & Kashmir, GAD۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-09-14۔
  2. "SRO 181, Right to Information Rules (Official Copy)"۔ Government of Jammu & Kashmir۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-10-29۔
  3. "State Level RTI: Jammu and Kashmir"۔ Commonwealth Human Rights Initiative (Delhi Office)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-10-29۔
  4. Shujaat Bukhari (2 ستمبر 2007)۔ "J&K RTI Act amended, State to have Information Commission soon"۔ The Hindu (newspaper)۔ Chennai, India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-10-29۔
  5. Venkatesh Nayak۔ "Jammu and Kashmir Right to Information (Amendment) Bill, 2007: An Analysis with Recommendations for Improvement"۔ Commonwealth Human Rights Initiative (Delhi Office)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-10-29۔

بیرونی روابط[ترمیم]