بھارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جمہوریہ بھارت سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں


भारत गणराज्य (بھارت گنراجیہ)
جمہوریہ بھارت
بھارت کا پرچم بھارت کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: सत्यमेव जयते
(سچ ہی کی جیت ہے)
ترانہ: जन गण मन/ جن گن من
بھارت کا محل وقوع
دارالحکومت نئی دہلی
عظیم ترین شہر ممبئی
دفتری زبان(یں) ہندی، انگریزی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
پارلیمانی جمہوریہ
پرنب مکھرجی
نریندر مودی
آزادی
- اعلانِ آزادی
جمہوریہ
برطانیہ سے
15 اگست 1947ء
26 جنوری 1950ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
3166414  مربع کلومیٹر (7)
1222559 مربع میل
9.56
آبادی
 - تخمینہ:2008ء
 - 2001 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
1,129,600,316 (2)
1027015248
336 فی مربع کلومیٹر(33)
870 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007 ءء

2965 ارب بین الاقوامی ڈالر (چوتھا)
2700 بین الاقوامی ڈالر (132 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ءء)
0.619
(128) – متوسط
سکہ رائج الوقت بھارتی روپیہ (INR)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
بھارت کا معیاری وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 5.5)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 5.5)
انٹرنیٹ ڈومین .in
کالنگ کوڈ +91
بھارت

بھارت یا جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے ۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتی ہے۔ بھارت کے ایک ارب سے زائد باشندے ایک سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار ہیں، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان ہے اس کے علاوہ بھارت کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا ،مالدیپ کے قریب ترین ملک ہے۔جبکہ بھارت کے نکوبار اور اندامان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیاء سے سمندری حدود سے جڑے ہیں۔

بھارت کے کچھ مغربی علاقے زمانہ قدیم میں وادی سندھ کے مراکز میں شامل تھے جو تجارت اورنفع بخش سلطنت کے لیےقدیم زمانے سے ہی دنیا میں مشہور تھی۔چار مشہور مذاہب جن میں ہندومت ،بدھ مت، جین مت اور سکھ مت نے اسی ملک میں جنم لیا جبکہ زرتشت،جودھامت،عیسائیت اور اسلام اپنے ابتدائی ہزار سالوں میں ہی یہاں پہنچ گئی تھی جس نے اسے علاقے کی تہذیب و ثقافت پر انمٹ نقوش مرتب کئے۔اس علاقے پر آہستہ آہستہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت 18 ویں صدی میں شروع ہوئی جبکہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد یہاں برطانیہ کی براہ راست حکومت قائم ہوئی بھارت 1947 میں آزاد ہوا اس جدوجہد آزادی کے سرخیل اسلامیانِ ہندتھے-اور گاندھی ان کےدست راست بنے ،جن کا فلسفہ عدمِ تشدد کاتھا-

فی الحال بھارت کی معیشت عمومی جی ڈی پی کے لحاظ سے ساتویں بڑی اور قوت خرید(پی پی پی) کے لحاظ سے تیسری بڑی معیشت ہے۔1991 کے معاشی اصلاحات نے اسے دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشتوں میں لا کھڑا کیا ہے اور یہ تقریباً صنعتی ملک کا درجہ حاصل کرنے والا ہے۔بحرحال اس کے باوجود یہ ملک غربت ،کرپشن،خوراک اور صحت کے مسائل کا شکار ہے۔جوہری ہتھیاروں سے لیس یہ ملک خطے کا ایک طاقتور ملک ہے اسکی فوج بلحاظ تعداد دنیا کی تیسری بڑی قوت ہے اور دفاعی خرچ کے لحاظ سے یہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔بھارت ایک وفاقی جمہوریہ ہے جو پارلیمانی نظام کے تحت 29 ریاستوں اور 7 وفاقی علاقوں پر مشتم ہے۔بھارت ایک کثیر السانی ،مذہبی ،ثقافتی اور نسلی معاشرہ ہے۔نیز یہ ملک کئی انواع واقسام کی جنگلی حیات سے بھی مالا مال ہے۔

نام کی بنیاد[ترمیم]

دریائے سندھ کے مشرق میں واقع علاقہ کا نام عرب تاریخ نگاروں کے ہاں ہند تھا۔ علامہ اقبال کامشہور قومی نغمہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" الفاظ سےشروع ہوتا ہے ۔ اس کا ایک اور نام انڈیا ہے ۔ انڈس دریا سے نام انڈیا پڑا۔ ماضی میں اس خطے کو عموماً ہندوستان یا بھارت کہا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد ملک کا سرکاری نام بھارت رکھا گیا[1] تاہم تمام عالمی زبانوں میں اس کا انگریزی نام انڈیا ہی مستعمل ہے۔

تاریخی اعتبار سے بھارت کو کرما بھومی، تپو بھومی اور پُنیا بھومی جیسے ناموں سے بھی جاتا ہے۔[2]

تاریخ[ترمیم]

برصغیر پاک و ہند صرف تین ادوار میں ایک ملک رہا۔ ایک تو چندرگپت موریا کے عہد میں اور دوسرے مغلیہ دور میں اور تیسرے انگریزوں کے زمانے میں۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں مغلیہ سلطنت نسبتاً سب سے بڑی تھی۔ انگریزوں کے زمانے میں سلطنت مغلیہ دور سے قدرے کم تھی۔ ان تین ادوار کے علاوہ ہندوستان (موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان) ہمیشہ چھوٹی چھوٹی بےشمار ریاستوں میں بٹا رہا۔ اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کے بیشتر دور میں ہندوستان چھوٹی ریاستوں ہی میں بٹا رہا ہے۔ بھارت میں پتھروں پر مصوری کی شروعات 40،000 سال پہلے ہوئی۔ سب سے پہلی مستقل آبادیاں 9،000 سال پہلے وجود میں آئیں۔ ان مقامی آبادیوں نے ترقی کر کہ سندھ طاس تہذیب کو جنم دیا۔ یہ تہذیب چھبیسویں صدی قبل از مسیح سے لے کر انیسویں صدی فبل از مسیح تک اپنے عروج پر تھی اور اس زمانے کی سب سے بڑی تہذیبوں میں شامل ہوتی تھی۔ مگر اس زمانے میں بھی اسے کبھی ہند نہیں کہا گیا بلکہ سندھ کے نام سے جانا جاتا رہا۔ برصغیر بہت عرصہ تک سندھ اور ہند میں منقسم رہا۔

اس کے بعد آنے والے دور کے بارے میں دو نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ ماکس مولر نے پیش کیا۔ اس کے مطابق تقریباًً پندرہویں صدی قبل از مسیح میں شمال مغرب کی طرف سے آریاؤں نے ہندورستان میں گھسنا شروع کر دیا۔ آریا حملہ آور بن کر آئے تھے اور طاقت کے استعمال سے پھیلے۔ مگر گنتی کے چند آریا طاقت کا استعمال کئے بغیر آہستہ آہستہ اس علاقے میں پھیلے اور آریاؤں اور مقامی دراوڑوں کے درمیان ہونے والے تعلق اور تبادلۂ خیالات سے ویدک تہذیب نے جنم لیا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آریا / ویدک لوگ ہندوستان کے مقامی لوگ تھے جو دراوڈ تہذیب ختم ہونے کے بعد عروج پزیر ہوئے۔

ساتویں صدی میں عربوں نے مغربی برصغیر کے علاقے سندھ پر حملہ کر کہ قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور عربوں خے قابض ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے بڑی تیزی سے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد تیرہویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ سولہویں صدی میں مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور آہستہ آہستہ تمام ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ مغلوں کے حملے سے پہلے ہی ہندوستان میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد مسلمان تھی۔

انیسویں صدی میں انگریزوں نے مغلوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس طرح ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ 1857ء کے غدر کے بعر حکومت کمپنی سے برطانوی تاج کے پاس چلی گئی۔ 1876ء کے بعد سے برطانوی شاہان کو شاہنشاہ ہندوستان کا عہدہ بھی مل گیا۔ ملک کو سنبھالنے کے لئے‎ برطانوی حاکموں نے اپنی ’بانٹو اور راج کرو‘ پالیسی کو استعمال کیا۔ برطانوی پیداوار سستی اور مقامی پیداوار مہنگی کر کے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا گیا اور اس طرح ہندوستان سے پیسہ برطانیہ جاتا گیا۔ بھارت کی تحریک آزادی کا زیادہ تر زور نسلی امتیاز اور تابع تجارتی پالیسی کے خلاف تھا۔

بھارت کا نقشہ، اردو میں

برطانوی راج کے خلاف ایک زیادہ تر غیر تشدد پسند تحریک چلا کر موہنداس کرمچند گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، ابوالکلام آزاد، بال گنگادھر تلک اور سبھاش چندر بوس کی قیادت میں بھارت نے 1947ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ ہندوستان کی تقسیم ہو کر دو نئے ملک پاکستان اور بھارت بن گئے۔

1962ء میں بھارت کی متنازع علاقوں پر چین سے جنگ ہوئی۔ 1965ء میں کشمیر پر بھارت کی پاکستان سے جنگ ہوئی۔ 1971ء میں پاکستان میں خانہ جنگی ہوئی اور اس میں بھارتی مداخلت بھی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔

گزشتہ کچہ عرصہ میں بھارت کی سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ دیکھا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کے سامنے بنیادی مسائل پاکستان کے ساتھ کشمیر کا تنازعہ، آبادی کا زیادہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی، غربت، مذہبی اور نسلی اختلاف ہیں۔

قومی علاماتِ جمہوریہ بھارت
قومی جانور 2005-bandipur-tusker.jpg
قومی پرندہ Pavo muticus (Tierpark Berlin) - 1017-899-(118).jpg
قومی درخت Banyan tree on the banks of Khadakwasla Dam.jpg
قومی پھول Sacred lotus Nelumbo nucifera.jpg
قومی وراثی جانور Panthera tigris.jpg
قومی آبی سمندری ستنپایی PlatanistaHardwicke.jpg
قومی رینگنے والا جانور King-Cobra.jpg
قومی وراثی ستنپایی Hanuman Langur.jpg
قومی پھل An Unripe Mango Of Ratnagiri (India).JPG
قومی مندر New Delhi Temple.jpg
قومی دریا River Ganges.JPG
قومی پہاڑ Nanda Devi 2006.JPG

سیاست[ترمیم]

بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔ بھارت اپنی 29 ریاستوں (صوبہ جات) اور مرکزی زیرِ حکومت علاقوں کا یونین (اتحاد) ہے جس کا بنیادی ڈھانچہ وفاقی ہے۔ بھارت کی ریاست کا سربراہ بھارت کا صدر ہے۔ صدر اور نائب صدر پانچ سالہ عرصے کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔

بھارت میں انتظامی طاقت کابینہ کے پاس ہے۔ کابینہ کے سربراہ وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ صدر ان کو وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں جن کو پارلیمان کی اکثریتی جماعت/ جماعتوں نے نامزد کیا ہوتا ہے۔ پھر وزیر اعظم کی صلاح پر دوسرے وزراء مقرر ہوتے ہیں


ذیلی علاقہ جات[ترمیم]

بھارت ایک ملک ہے جو 29 ریاستوں اور 7 مرکزی زیر اقتدار علاقوں پر مبنی ہے۔ .[3] 1956 کے سٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کے تحت، اتحادی علاقے مرکزی حکومت کے زیر اقتدار آتے ہیں۔ ریاستورں کو لسانی بنیاد پر تشکیل کی گئی۔ ہر ریاست یا اتحادی علاقہ اضلاع میں تقسیم کیا گیا اور اضلاع تحصیلوں میں۔ حکومت کی آخری انتظامی اکائی کے طور پر گاؤں/پنچایت تشکیل پائے گئے۔

بحر ہند خلیج بنگال بحیرہ انڈمان بحیرہ عرب بحیرہ لاکادیو سیاچن گلیشیر جزائر انڈمان و نکوبار چندی گڑھ دادرا و نگر حویلی دمن و دیو دہلی لکشادیپ پونڈیچری پونڈیچری پونڈیچری اروناچل پردیش آسام بہار (بھارت) چھتیس گڑھ گوا گجرات (بھارت) ہریانہ ہماچل پردیش جموں و کشمیر جھارکھنڈ کرناٹک کیرلا مدھیہ پردیش مہاراشٹر منی پور میگھالیہ میزورم ناگالینڈ اڑیسہ پنجاب (بھارت) راجستھان سکم تامل ناڈو تری پورہ اتر پردیش اتراکھنڈ مغربی بنگال افغانستان بنگلہ دیش بھوٹان میانمار چین نیپال پاکستان سری لنکا تاجکستان دادرا و نگر حویلی دمن و دیو پونڈیچری پونڈیچری پونڈیچری پونڈیچری گوا گجرات (بھارت) جموں و کشمیر کرناٹک کیرلا مدھیہ پردیش مہاراشٹر راجستھان تامل ناڈو آسام میگھالیہ آندھرا پردیش اروناچل پردیش ناگالینڈ منی پور میزورم تلنگانہ تری پورہ مغربی بنگال سکم بھوٹان بنگلہ دیش بہار (بھارت) جھارکھنڈ اڑیسہ چھتیس گڑھ اتر پردیش اتراکھنڈ نیپال دہلی ہریانہ پنجاب (بھارت) ہماچل پردیش چندی گڑھ پاکستان سری لنکا سری لنکا سری لنکا سری لنکا سری لنکا سری لنکا سری لنکا سری لنکا سری لنکا کشمیر کشمیر
بھارت کے 29 ریاستوں اور 7 متحدہ عملداریوں کا قابل طق نقشہ

ریاستیں

عملداریاں

  1. جزائر انڈمان و نکوبار
  2. چندی گڑھ
  3. دادرا اور نگر حویلی
  4. دمن و دیو
  5. لکشادیپ
  6. قومی دارالحکومتی علاقہ دہلی
  7. پانڈی چیری

فوجی طاقت[ترمیم]

اے جے ایل ٹی: جو ایک ہلکا بھارتی سپرسونك لڑاکا طیارہ ہے।

1947ء میں اپنی آزادی کے بعد سے، بھارت نے زیادہ تر ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلق قائم رکھا ہے. 1950ء کی دہائی میں، بھارت نے بھرپور طریقے سے افریقہ اور ایشیا میں یورپی ممالک سےآزادی کی حمایت کی اور غیر وابستہ تحریک میں ایک اہم کردار ادا کیا. 1980ء کے دہائی میں بھارت نے پڑوسی ممالک کی دعوت پر دو ممالک میں مختصر فوجی مداخلت کی۔ مالدیپ، سری لنکا اور دیگر ممالک میں آپریشن کے دوران بھارتی امن فوج بھیجی. جبکہ، بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ ایک کشیدہ تعلق شروع سے برقرار رہا، اور دونوں ملک چار بار جنگوں (1947ء، 1965ء، 1971ء اور 1999ء میں) میں مدمقابل آئے. تنازعہ کشمیر ان جنگوں کی بڑی وجہ تھی۔ 1971ء کو چھوڑ کر، کہ وہ جنگ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شہری کشیدہ حالات کے لئے کی گئی تھی. 1962ء کی بھارت - چین جنگ اور پاکستان کے ساتھ 1965ء کی جنگ کے بعد بھارت نے اپنی فوجی اور اقتصادی حالت میں ترقی کرنے کی کوشش کی. سوویت یونین کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے سن 1960ء کی دہائی میں، سوویت یونین بھارت کا سب سے بڑا ہتھیار فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے.

آج روس کے ساتھ دور رس تعلقات کو جاری رکھنے کے علاوہ، بھارت اسرائیل اور فرانس کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھ رہا ہے. حالیہ برسوں میں، بھارت نے علاقائی تعاون اور عالمی تجارتی تنظیم کے لئے ایک جنوبی ایشیائی ایسوسی ایشن میں موثر کردار ادا کیا ہے. بھارت نے اب تک 10،000 متحدہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کے ذریعے چار براعظموں میں پینتیس اقوام متحدہ امن کارروائیوں میں خدمات فراہم کی ہیں. بھارت بھی مختلف بین الاقوامی مقام، خاص طور پر مشرقی ایشیا کی سربراہ اجلاس اور جی -85 اجلاس میں ایک سرگرم رکن رہا ہے. اقتصادی شعبے میں بھارت نے جنوبی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے ترقی پزیر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں. اب بھارت نے "آگے کی طرف دیکھو پالیسی" میں بھی اتفاق کیا ہے. یہ "آسیان" ممالک کے ساتھ اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے امور کا معاملہ ہے جس میں جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی مدد کی ہے. یہ خاص طور پر اقتصادی سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کی کوشش ہے.

1974ء میں بھارت نے اپنے پہلے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کیا اور پھر 1998ء میں زیر زمین تجربات کیے. بھارت کے پاس اب انواع و اقسام کے جوہری ہتھيار ہیں. بھارت اب روس کے ساتھ مل کر جدید لڑاکا طیارے تیار کر رہا ہے، جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

حال ہی میں، بھارت کا امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ اقتصادی، وسیع تر باہمی مفاد اور دفاعی تعاون بڑھ گیا ہے. 2008ء میں، بھارت اور امریکہ کے درمیان غیر فوجی جوہری تعاون کے معائدے پر دستخط کئے گئے تھے. حالانکہ اس وقت بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیار تیار تھا اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے حق میں نہیں تھا۔ گو اس کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے اور نیوکلیئر سپلائر گروپ سے چھوٹ حاصل ہے۔ اسی معائدے کے تحت بھارت کی غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری تجارتی مقاصد پر پہلے ہی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ بھارت دنیا کا چھٹا ایٹمی ہتھیار سے لیس ملک بن گیا ہے. نیوکلئیر سپلائر گروپ کی جانب سے دی گئی چھوٹ کے بعد بھارت روس، فرانس، برطانیہ، اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ غیر فوجی جوہری توانائی معاہدے پر دستخط کرنے کے قابل ہے.

تقریباًً 1.3 ملین سرگرم فوجیوں کے ساتھ، بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوجی طاقت ہے. بھارت کے صدر بھارتی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں. سال 2011ء میں بھارتی دفاعی بجٹ 36.03 ارب امریکی ڈالر رہا (یا خام ملکی پیداوار کا 1.83٪). 2008ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت خریدنے کی طاقت کے معاملے میں بھارتی فوج کے فوجی اخراجات 72.7 ارب امریکی ڈالر رہے. سال 2011ء میں بھارتی وزارت دفاع کے سالانہ دفاعی بجٹ میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ رقم حکومت کی دیگر شاخوں کے ذریعے فوجی اخراجات کے بجٹ میں شامل نہیں ہوتی. حالیہ سالوں میں، بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کنندہ بن گیا ہے.

ثقافت[ترمیم]

آگرہ میں واقع تاج محل مغل شہنشاہ شاہجہاں نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا۔ یہ دنیا کے جدید سات عجائبات میں اور یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہے۔[4]

بھارت کی ثقافت میں بہت تنوع موجود ہے[5] اور عوامی اور سرکاری سطح پر ایک متنوع اور بعض اوقات متضاد ثقافت اوت ایک دھارے میں لانے کی کوششیں بھی دیکھی جاتی ہیں۔[6] ہندوستانی ثقافت کا آغاز لگ بھگ 8000 سال قبل مسیح سے ہوتا ہے[7] اور اس کی محفوظ شدہ تاریخ تقریباًًً 2500 سال پر محیط ہے۔[8]

جنس اولاد[ترمیم]

بھارتی ثقافت میں نرینہ اولاد کو سبقت دینے کی وجہ سے مادہ اسقاط حمل کے رواج سے نر اور مادہ بچوں کے تناسب میں انتشار پیدا ہو گیا ہے۔[9]

حقوق[ترمیم]

مراقبت[ترمیم]

بھارتی سرکار کی طرف سے غیر پسندیدہ طباعت پر پابندی لگانے کی رویت ہے۔ اکانمسٹ کے 2011ء شمارے میں کشمیر کا نقشہ متنازع علاقہ لکھنے پر بھارت نے نقشہ پر سفید دھبہ لگانے کے بعد فروخت کی اجازت دی۔[10]

متعلقہ مضامین بھارت[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دستور ہند
  2. “Indian Society: Issues, Policies and Welfare Schemes”, Dr Vinita Pandey, BSC Publishers & Distributors, Hyderabad, P. 1.3.
  3. Library of Congress 2004.
  4. "Taj Mahal". World Heritage List. UNESCO World Heritage Centre. اخذ کردہ بتاریخ 28 September 2007. "The World Heritage List includes 851 properties forming part of the cultural and natural heritage which the World Heritage Committee considers as having outstanding universal value." 
  5. Baidyanath، Saraswati (2006). "Cultural Pluralism, National Identity and Development". Interface of Cultural Identity Development (1stEdition ed.). New Delhi: Indira Gandhi National Centre for the Arts. xxi+290 pp. http://ignca.nic.in/ls_03.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جون 2007. 
  6. Das، N.K. (جولائی 2006). "Cultural Diversity, Religious Syncretism and People of India: An Anthropological Interpretation". Bangladesh e-Journal of Sociology 3 (2nd). ISSN 1819-8465. http://www.bangladeshsociology.org/Content.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 September 2007. "The pan-Indian, civilizational dimension of cultural pluralism and syncretism encompasses ethnic diversity and admixture, linguistic heterogeneity as well as fusion, and variations as well as synthesis in customs, behavioural patterns, beliefs and rituals". 
  7. Arnett، Robert. India Unveiled. Atman Press, 2006. 
  8. Sharma، Shaloo. History and Development of Higher Education in India. Sarup & Sons, 2002. 
  9. "The full extent of India's 'gendercide'". انڈپنڈنٹ. http://www.independent.co.uk/news/world/asia/the-full-extent-of-indias-gendercide-2288585.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2011. 
  10. "کشمیر کا نقشہ، بھارت پر سینسرشپ کا الزام". بی بی سی. 25 مئی 2011ء. http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/05/110524_economist_allegation_fz.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 مئی 2011. 
      {{{{{3}}}}}
{{{{{3}}}}} {{{{{4}}}}}