مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان
مرکزی جمیعت اہل حدیث پاکستان مرکزی جمیعت اہلِ حدیث پاکستان | |
|---|---|
![]() | |
| بانی | سید داؤد غزنوی |
| امیر | حافظ عبدالکریم |
| تاسیس | 1947 |
| صدر دفتر | 106 راوی روڈ لاہور، پنجاب |
| طلبا تنظیم | جمعیت طلبہ اہل حدیث |
| یوتھ ونگ | اہل حدیث یوتھ فورس |
| نظریات | سلفی تحریک Federalism |
| سیاسی حیثیت | انتہائی دائیں بازو کی سیاست |
| قومی اشتراک | پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ متحدہ مجلس عمل |
| ایوان بالا پاکستان | 0 / 100 |
| قومی اسمبلی پاکستان | 0 / 342 |
| انتخابی نشان | |
| جماعت کا پرچم | |
| ویب سائٹ | |
| www | |
| سیاست پاکستان | |
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اہل حدیث کی نمائندہ مذہبی و سیاسی جماعت ہے۔ جو مجلس شوری، مرکزی عاملہ اور کابینہ پر مشتمل ہے۔[1]
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سینیٹر عبد الکریم ہیں۔[2][3] جب کہ ناظم اعلیٰ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مولانا عبد الرشید حجازی ہیں۔ 70 سال سے زائد عمر رکھنے والی یہ جماعت اہل الحدیث کی سب سے بڑی جماعت ہے۔
یاد رہے کہ مرکزی جمیعت اہل حدیث کے 33 سال تک امیر رہنے والے سینیٹر ساجد میر 3 مئی 2025 کو عارضہ دل کے باعث وفات پا گئے۔ ان کے بعد جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ نے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں بلا مقابلہ ڈاکٹر عبد الکریم صاحب کو امیر مقرر کیا۔ ناظم اعلیٰ کے انتخاب پر مولانا عبد الرشید حجازی مقابلہ کے بعد منتخب ہوئے۔
سیاسی تاریخ
[ترمیم]1906 میں قائم کی جانے والی آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس تقسیم ہند کے بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور جمعیت اہل حدیث ہند کے طور پر وجود میں آئی۔ مرکزی جمیعت اہل حدیث پاکستان مسلکی مذہبی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی حیثیت سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہاں رجسٹرڈ جماعت ہے۔ دائیں بازو کی اس جماعت کا ماضی میں انتخابی نشان پھول رہا ہے اور اب عینک کے انتخابی نشان سے ملک کے بعض حلقوں میں یہ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اور ملک کے تمام صوبوں میں اپنا کم یا زیادہ وجود رکھتی ہے۔
ماضی میں مرکزی جمیعت اہل حدیث کے نشان سے انتخابی میدان میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواران میں اہم نام محمد داؤد غزنوی، ملک محمد احمد خان کے والد ملک محمد علی خان وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ ایوان بالا میں سینیٹر ساجد میر اور سینیٹر حافظ عبدالکریم کے نام قابل ذکر ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت سے ہی مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کا جھکاؤ دائیں بازو کی پارٹی ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (پاکستان) سے رہا ہے۔ یہی اتحاد آگے جا کر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے اتحاد کا سبب بنا اور اب یہ دونوں جماعتیں سیاسی اتحاد میں طویل عرصے سے یکجا ہیں۔
متحدہ مجلس عمل کی اہم رکن جماعت ہے جو مجلس کے قیام کے وقت سے اکٹھے چل رہے ہیں۔
ذیلی ادارے
[ترمیم]ذیلی ادارے اس کے زیر انتظام درج ذیل ادارے کام کر رہے ہیں۔
- ہفت روزہ اہل حدیث (ہفتہ وار رسالہ) آن لائن مطالعہ کے لیے دستیاب ہے۔[4]
- مکتبہ سلفیہ، لاہور میں جمعیت اہل حدیث کا اشاعتی ادارہ
- نظام مساجد و اوقاف
- وفاق المدارس السلفیۃ: اہل حدیث مدارس اور جامعات کا تعلیمی بورڈ
- پیغام ٹی وی (فرقہ واریت سے بچ کر دینی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے چینل)[5]
ذیلی تنظیمات
[ترمیم]ذیلی تنظیمیں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی تمام ذیلی تنظیمات کے سربراہ ڈاکٹر عبد الغفور راشد ہیں جو اس جماعت کے انتخابی بورڈ کے نگران بھی ہیں۔ جمعیت کے ذیلی تنظیمات کے نام درج ذیل ہیں۔
- اہل حدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن
- جمیعت اساتذہ پاکستان
- جمعیت طلبہ اہل حدیث
- متحدہ حکماء محاذ
2 مارچ 2018ء کو 14 سال بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناراض دھڑے نے حافظ ابتسام الہی ظہیر کی قیادت میں سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی غیر مشروط امارت قبول کرتے ہوئے ساتھ چلنے اور اپنے تمام اختلافات ختم کرکے اپنی جماعت جمعیت اہل حدیث کو مرکزی جمعیت اہل حدیث میں ضم کر دیا۔ تاہم 2024 میں مرکزی جمیعت اہل حدیث کی بعض پالیسیوں سے اختلافات کرتے ہوئے وہ دوبارہ الگ ہو گئے۔
تنظیم کے اکابرین
- محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
- محمد اسماعیل سلفی
- سید داؤد غزنوی
- عطاء اللہ حنیف بھوجیانی
- عبداللہ روپڑی
- حافظ محمد گوندلوی
- احسان الہی ظہیر
- ساجد میر
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "آفیشل ویب سائٹ"۔ 2021-10-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-14
- ↑ "Profile-pakistanherald"۔ Pakistanherald۔ 2019-09-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-11-27
- ↑ "Sajid-Mir-calls-on-CM"۔ thenews۔ 24 نومبر 2014۔ 2014-11-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-11-27
- ↑ "ہفت روزہ اہل حدیث"۔ 2021-10-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-14
- ↑ "پیغام ٹی وی"۔ 2021-10-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-14
