جمیلہ ہاشمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جمیلہ ہاشمی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1934  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر، (برطانوی ہندوستان)
وفات سنہ 1988 (53–54 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پاکستان
شریک حیات سردار احمد اویسی
عملی زندگی
مادر علمی فورمن کرسچین کالج
تعلیمی اسناد ایم اے  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ناول نگار، کہانی نویس
اعزازات
P literature.svg باب ادب

جمیلہ ہاشمی (1929ء / 1934ء – 1988ء) ایک پاکستانی ناول نگار اور مختصر کہانی نویس تھیں۔ انہوں نے اردو میں کام کیا۔ انہوں نے اپنا پہلا ناول ’’ آتشِ الفت ‘‘ کے نام سے تحریر کیا تھا جس پر ایک ٹی وی سیریل بھی بنائی گئی۔ بعد میں انہوں نے تلاش بہاران لکھا، یہ ناول بعد میں آدم جی ادبی ایوارڈ کا وصول کنندہ بنا۔ انہوں نے شارٹ سٹوریز بھی لکھیں جن میں رنگ بھوم، آپ بیتی-جگ بیتی وغیرہ۔[1]

جمیلہ 1934 میں برطانوی ہندوستان کے علاقے امرتسر میں پیدا ہوئی تھیں۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ وہ 1929 میں پیدا ہوئی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد، انہوں نے 1947 میں پاکستان ہجرت کی اور ساہیوال میں سکونت اختیار کی، بعد ازاں وہ لاہور چلی گئیں جہاں انہوں نے فارمین کرسچن کالج سے انگریزی ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے سردار احمد اویسی [1] سے شادی کی جس کے ساتھ ان کی ایک بیٹی عائشہ صدیقہ ہے۔ [2]

کیریئر[ترمیم]

انہوں نےمتعدد ناول اور مختصر کہانیاں لکھیں جن میں خاص طور پر پنجابیوں کی ثقافت، زندگی اور سکھ فن اور ثقافت پر توجہ دی گئی تھی۔ انہوں نے شیری کے نام سے ایک ناول بھی لکھا جسے الحمرا آرٹس کونسل میں ایک پاکستانی سماجی کارکن شیما کرمانینے ڈرامے کی شکل میں پیش کیا۔ [1] ان کی کتاب 'جب یادیں بننے سے تکلیف دہ ہوجاتی ہیں ' تقسیم ہند کے ارد گرد گھومتی ہے۔ [3]

ان کے ناول 'دشت سوس'، 'چہرہ با چہرہ'، 'روبرو'، 'تلاش بہاراں' غیر حقیقی کرداروں پر مشتمل ہیں۔ ان کی ایک شارٹ سٹوری جس کا نام "بینشد" میں ایک مسلمان لڑکی کو دکھایا گیا ہے جسے تقسیم ہند کے وقت تشدد سے پریشانی ہوتی ہے۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Ansari، Shahab (2016-02-12). "Play on Jamila Hashmi's short story – Lahore". The News International. اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2021. 
  2. "Military Inc: enter at your own risk – Islamabad". The News International. 2007-06-08. اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2021. 
  3. "When Memories Become Traumatic : A Reading of Jamila.۔۔". Bartleby. اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2021. 
  4. "The Temporal Transcendentalism In Characters Of Jamila Hashmi". Naya Daur. 2020-06-11. اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2021. 

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید پڑھئے[ترمیم]