مندرجات کا رخ کریں

جنتر منتر دہلی احتجاجات (2026ء)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جنتر منتر احتجاجات 2026ء
سلسلہ جن زی احتجاجات اور ایشیا میں جن زی احتجاجات
اوپر بائیں سے دائیں، پھر نیچے بائیں سے دائیں:
  • بھگت سنگھ کے پوسٹر اٹھائے ہوئے مظاہرین
  • ابھیجیت دیپکے سونم وانگ چوک کے ساتھ
  • وانگ چوک کو زبردستی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے
  • جنتر منتر میں احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین
تاریخ6 جون – 26 جولائی 2026ء
مقام
وجہ
اہداف
طریقہ کارمظاہرے، دھرنے، بھوک ہڑتال
حیثیتجاری
جماعتیں
مرکزی شخصیات
* نریندر مودی * سونم وانگ چوک
متاثرین
زخمی118

6 جون سے 25 جولائی 2026ء تک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، جو ابھیجیت دیپکے کی قائم کردہ بھارت کی نوجوانوں کی طنزیہ سیاسی تحریک ہے، نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت مختلف طلبہ تنظیموں کے اشتراک سے احتجاج کیا۔[1][2] مظاہرین نے 2026ء کے این ای ای ٹی پرچہ لیک، سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سرکاری امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔[3][4] یہ احتجاج اس وقت قومی توجہ کا مرکز بن گیا جب سماجی کارکن سونم وانگ چوک نے 28 جون کو جنتر منتر میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔[5]

کاکروچ جنتا پارٹی کی ابتدا مئی 2026ء میں ایک سوشل میڈیا مہم کے طور پر ہوئی جسے ڈیجیٹل مواصلاتی حکمت عملی کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سیاسی طنز کے طور پر شروع کیا تھا۔ اس تحریک کا نام بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کے اس بیان سے ماخوذ ہے جس میں انھوں نے بے روزگار نوجوانوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کو کاکروچ (لال بیگ) اور طفیلی (پیراسائٹ) قرار دیا تھا۔[6] سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کرنے کے بعد یہ مہم سڑکوں پر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو گئی جس کی دہلی پولیس نے اجازت دے دی تھی۔

28 جون 2026ء کو لداخ سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات اور تعلیمی کارکن سونم وانگ چوک بھی احتجاج میں شریک ہو گئے۔ انھوں نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔[7]

جولائی 2026ء کے وسط میں دہلی پولیس کی قیادت میں تبدیلی کے بعد پولیس نے احتجاجی مقام سے رکاوٹیں ہٹا دیں اور سونم وانگ چوک کو زبردستی ایک اسپتال منتقل کر دیا۔[8] اس کارروائی اور ابھیجیت دیپکے پر سیاہی پھینکے جانے کے واقعے کے بعد اس تحریک کو قومی ذرائع ابلاغ میں مزید نمایاں توجہ حاصل ہوئی۔[9][10]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Geeta Pandey (1 Jul 2026). "Why India's cockroach protesters are still on the streets in over 40C heat". BBC News (بزبان برطانوی انگریزی). Retrieved 2026-07-16.
  2. "India's viral Cockroach Party launches nationwide youth protests". AP News (بزبان انگریزی). 11 Jun 2026. Retrieved 2026-06-11.
  3. "CJP Demands Education Minister's Resignation in Bengaluru Protest Over National Exam Irregularities". ETV Bharat (بزبان انگریزی). 15 Jun 2026. Retrieved 2026-06-15.
  4. "India news: Cockroach Party warns of protest infiltrators". Deutsche Welle (بزبان انگریزی). Deutsche Welle. Retrieved 2026-07-20.
  5. Geeta Pandey (16 جولائی 2026)۔ "Indian activist urged to end hunger strike as he loses 9.1kg in 19 days"۔ BBC News۔ 2026-07-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-07-18

  6. "Wangchuk hunger strike Day 21: CJP continues protest at Jantar Mantar ahead of march on 20 July". ThePrint (بزبان امریکی انگریزی). 18 Jul 2026. Retrieved 2026-07-18.
  7. Geeta Pandey (18 Jul 2026). "Indian activist on hunger strike for 20 days forcibly taken to hospital". BBC News (بزبان برطانوی انگریزی). Retrieved 2026-07-18.
  8. Saurabh Dwivedi (14 Jul 2026). "Sonam Wangchuk to Express: CJP protest has no political colour, PM should be sensitive". The Indian Express (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2026-07-15. Retrieved 2026-07-17.
  9. "'Atmosphere of intimidation': PIL in Delhi high court questions continuous surveillance of Jantar Mantar protesters"۔ The Times of India۔ 15 جولائی 2026۔ ISSN:0971-8257۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-07-17