مندرجات کا رخ کریں

جنتنا کیو کاؤ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جنتنا کیو کاؤ
معلومات شخصیت
پیدائش ء1962
پپراچواپ کھیری کھان، مملکتِ تھائی لینڈ
عملی زندگی
پیشہ

جنتنا کیو کاؤ (تھائی: จินตนา แก้วขาว؛ پیدائش 1962) ایک ماحولیاتی کارکن ہیں جو تھائی لینڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ اپنے ساحلی گاؤں بان کروت، پراچواپ کھیری کھان میں بجلی گھر کے قیام کے خلاف اپنی سرگرمیوں کے باعث مشہور ہوئیں۔

ابتدائی زندگی

[ترمیم]

1982ء میں، 20 سال کی عمر میں کیو کاؤ بان کروت منتقل ہوئیں۔ انھوں نے ایک مقامی شخص سے شادی کی، ایک چھوٹی کِرانہ دکان کھولی اور تین بچے پیدا کیے۔ ابتدائی طور پر وہ ماحولیاتی سرگرمیوں میں زیادہ معروف نہیں تھیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بجلی گھروں کے خلاف تحریکوں میں شامل ہو گئیں۔[1]

یونین پاور ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ سے تنازع

[ترمیم]

1998ء میں یونین پاور ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( یو پی ڈی سی)نے بان کروت میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا۔ یہ منصوبہ امریکا، ہانگ کانگ اور جاپان کے سرمایہ کاروں کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس منصوبے سے علاقے میں سیاحتی ترقی ممکن تھی، مگر اس کے لیے 10,000 ناریل کے درخت کاٹے جانے تھے اور 1.4 گیگاواٹ کا کوئلے کا بجلی گھر تعمیر ہونا تھا۔


کیو کاؤ کی تحریک

[ترمیم]

کیو کاؤ نے یو پی ڈی سی کے خلاف جدوجہد کے لیے قریبی دیہاتوں کا دورہ کیا، بازاروں میں عوام کو اکٹھا کیا اور بجلی گھر کی مخالفت میں دستخطی مہم چلائی۔[2]


1998ء میں انھوں نے صوبے کے لوگوں کے ساتھ ساؤتھ ہائی وے پر احتجاجی مارچ کیا اور 2001ء میں یو پی ڈی سی کے دفتر میں داخل ہو کر مظاہرہ کیا۔ انھوں نے کمپنی کے حصص بھی خریدے تاکہ بطور سرمایہ کار اپنی رائے دے سکیں۔[1]

ان کی تحریک کے نتیجے میں 2004ء میں منصوبہ روک دیا گیا اور عدالت نے کیو کاؤ اور ان کے حامیوں کے حق میں فیصلہ دیا۔[3]


بعد ازاں کیو کاؤ نے زمین کے حقوق کے لیے مذاکرات کیے تاکہ مستقبل میں بان کروت کو کسی بجلی منصوبے سے محفوظ رکھا جا سکے۔[4]

عدالتی و حکومتی کارروائیاں

[ترمیم]

2000ء کی دہائی کے آغاز میں یو پی ڈی سی نے کیو کاؤ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ابتدائی طور پر فوجداری عدالت نے کیس ختم کر دیا لیکن اپیل پر انھیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جو بعد میں چار ماہ کر دی گئی۔ 2005ء میں تھائی لینڈ کی سپریم کورٹ نے انھیں کمپنی کی زمین پر غیر قانونی داخلے کے جرم میں سزا سنائی۔ انھیں ایشیائی انسانی حقوق کمیشن اور گرین پیس کی جانب سے بھی اعزازات مل چکے ہیں۔[5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب Joseph Schatz۔ "Thai environmentalists pay for activism with their lives"۔ Al Jazeera America۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-23 {{حوالہ ویب}}: |ویب گاہ= میں 3 کی جگہ line feed character (معاونت)
  2. "Communities vs. Coal: Strategies and Stories from Thailand". YouTube (بزبان انگریزی). Retrieved 2021-10-23.
  3. Geographical. "On the front lines: female activism in Thailand – Geographical Magazine". Geographical (بزبان برطانوی انگریزی). Archived from the original on 2021-12-18. Retrieved 2021-10-23.