جنرل اختر عبدالرحمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جنرل اختر عبدالرحمن

مشہور پاکستانی فوج جرنیل۔ 11 جون 1924ء کو پشاور میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد ڈاکٹر عبدالرحمن سرکاری ملازم تھے۔ ڈاکٹر صاحب اس سے قبل افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان کے ذاتی معالج رہ چکے تھے۔ 1928ء میں والد کی وفات کے بعد ان کی تعلیم و تربیت والدہ کی نگرانی میں ہوئی۔ اچھے طالب علم تھے اور چھے اسپورٹس مین بھی۔ 1945 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے معاشیات کی ڈگری لینے کے بعد فوج میں ملازم ہو گئے۔

فروری 1947ء میں فوج میں باقاعدہ کمیشن ملا۔ قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب میں تعینات تھے۔ اس دور میں انہوں نے ان مہاجرین کی بڑی مدد کی جو آگ اور خون کا سمندر پار کرکے لٹے پٹے پاکستان پہنچے تھے۔ 1948ء میں کمشیر کے جہاد میں حصہ لیا ۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں لاہور کے قریب برکی کے محاذ پر داد شجاعت دی۔ 1971ء کی جنگ میں قصور کی سرحد پر ایک بریگیڈ کی قیادت کرتے رہے ۔ 1978 میں پاک آرمی کے ایجوٹنٹ جنرل اور 1979ء میں ڈائرکٹر انٹلجینس مقرر ہوئے۔ روس افغانستان کی جنگ میں تدبر اور احتیاط کے ساتھ منصوبہ بندی کرکے روس جیسی طاقت کو شکست کھانے پر مجبور کیا۔ فوجی ملازمت میں نمایاں کارکردگی پر ستارہ بسالت ، ہلال امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات دئیے گئے ۔17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب ہوائی جہاز کے حادثے میں صدر مملکت جنرل ضیاء الحق اور دوسرے اکابرین کے ساتھ جاں بحق ہوئے۔ ان کے صاحب زادے ہمایوں اختر آج کل عملی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ کئی مرتبہ وزیر بھی رہ چکے ہیں۔