جنوبی سوڈان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جمہوریہ جنوبی سوڈان
Republic of South Sudan
شعار"انصاف، آزادی، خوشحالی"
قومی ترانہ"South Sudan Oyee!"
دارالحکومت
(اور عظیم ترین شہر)
جوبا
04°51′N 31°36′E / 4.850°N 31.600°E / 4.850; 31.600
دفتری زبان(یں) انگریزی[1][2]
نام آبادی جنوبی سوڈانی
حکومت وفاقی صدارتی جمہوری جمہوریہ
 -  صدر Salva Kiir Mayardit
 -  نائب صدر Riek Machar
مقننہ قومی مَجلِسِ قانُون ساز
 -  ایوان بالا ریاستی کونسل
 -  ایوان زیریں قومی قانون ساز اسمبلی
آزادی سوڈان سے 
 -  جامع امن معاہدہ 6 جنوری 2005 
 -  حکومت جنوبی سوڈان 9 جولائی 2005 
 -  آزادی 9 جولائی 2011 
رقبہ
 -  کُل 619,745 مربع کلومیٹر (بیالیس واں)
239,285 مربع میل 
آبادی
 -  2008 census 8,260,490 (متنازعہ)[3] (94 واں)
 -  کثافت 13.33 فی مربع کلومیٹر (214)
34.52 فی مربع میل
خام پیداوار (nominal) 2011 تخمینہ
 -  کُل $13.227 بلین [4] 
 -  فی کس $1,546 [4] 
کرنسی جنوبی سوڈانی پاؤنڈ (SSP)
منطقۂ وقت مشرقی افریقہ وقت (UTC+3)
گاڑی چلانے کہ سمت دائیں
ملکی بلند ترین اسمِ ساحہ .ss[5] (رجسٹرڈ لیکن ابھی تک آپریشنل نہیں)
رمز بعید تکلم
 (کالنگ کوڈ)
+211[6]
Coat of arms of South Sudan.svg
Flag of South Sudan.svg
South Sudan in its region (undisputed).svg

جنوبی سوڈان اقوام متحدہ کا 193واں رکن ملک ہے۔جنوری2011ء میں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے سوڈان کے عوام نے جنوبی سوڈان کو ایک آزاد ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کے بعد نو جولائی2011ءکو اسے پر امن طریقے سے باقاعدہ آزادی دی گئی۔واضح رہے کہ جنوری کا ریفرنڈم 2005ء کے اس امن معاہدے کا حصہ تھا، جس کی بدولت عشروں سے جاری خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ سوڈان کی حکومت کو امریکی اور مغربی دباؤ اور دھونس کے باعث ملک کی تقسیم قبول کرنا پڑی۔[7] سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران یہاں بنیادی اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا تھا تاہم جبہ اور خرطوم حکومتوں نے اب عہد کیا ہے کہ ماضی کے تمام تنازعات کے پر امن حل کے لیے دونوں ممالک اپنی بھرپور کوششیں کریں گے تاکہ وہاں ترقی کے راستے کھل سکیں۔ جنوبی اور شمالی سوڈان کو ابھی تک کئی اہم تنازعات پر سمجھوتہ کرنا ہے۔ ان میں سرحدی تنازعات کے علاوہ قدرتی وسائل کی تقسیم کے معاملات سرفہرست ہیں۔

  1. "The Transitional Constitution of the Republic of South Sudan, 2011". Government of South Sudan. اخذ کردہ بتاریخ 12 July 2011.  Part One, 6(2). "English shall be the official working language in the Republic of South Sudan".
  2. "At a Glance". Official portal. Government of Southern Sudan. 12 July 2011. اخذ کردہ بتاریخ 2011-07-24. 
  3. "Discontent over Sudan census". News24.com. AFP. 21 May 2009. http://www.news24.com/Content/World/News/1073/b52cc36803164f39be83598566f1eb70/21-05-2009-07-23/Discontent_over_Sudan_census۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-07-14. 
  4. ^ 4.0 4.1 South Sudan National Bureau of Statistics (NBS) "Release of first Gross Domestic Product (GDP) and Gross National Income (GNI) figures for South Sudan by the NBS" 11 August 2011 Retrieved 2011-09-05
  5. ".ss Domain Delegation Data". Internet Assigned Numbers Authority. ICANN. اخذ کردہ بتاریخ 2011-09-01. 
  6. "New country, new number: Country code 211 officially assigned to South Sudan". International Telecommunication Union. 14 July 2011. http://www.itu.int/net/pressoffice/press_releases/2011/25.aspx۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-07-20. 
  7. "نیلوں کے سنگم کی سرزمیں کی تقسیم". نوائے وقت. http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Mazamine/13-Jul-2011/21099۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 July 2011. 

بیرونی روابط[ترمیم]