جنگی جرائم قانون (یورپ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یورپ کے مختلف ممالک میں ایسے جنگی جرائم قوانین رائج ہیں جو ان ملکوں میں بیرون ملک سرزد جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کا "اختیار" دیتے ہیں، چاہے ملزم اس ملک کا باسی یا باشندہ ہو نہ ہو۔

بلجیم میں ایسا قانون نافذ تھا۔ اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں نے 1993ء میں امریکی صدر جارج بش اور عہدے داروں پر عراق کے خلاف جارحیت کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر عدالتوں سے شکایت کی۔ امریکا نے بلجیم کو سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ اس پر بلجیم نے قانون کو بدل ڈالا۔

برطانیہ میں بھی ایسا قانون موجود ہے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینی باشندوں نے سابق اسرائیلی وزیر کے گرفتاری وارنٹ جاری کروا لیے۔ تاہم اسرائیلی وزیر کے برطانیہ داخل نہ ہونے پر یہ وارنٹ منسوخ کر دیے گئے۔ برطانوی وزیر خارجہ ملبینڈ نے اسرائیلی حکومت سے معذرت کی اور برطانوی حکومت نے قانون کو بدل دینے کا وعدہ کیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ٹائمز آن لائن، 21 دسمبر 2009ء، "Hamas using English law to demand arrest of Israeli leaders for war crimes"