جنگ علی وال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علیوال کی لڑائی 28 جنوری 1846 میں سکھ سلطنت اور انگریزوں کے درمیان علی وال، لدھیانہ کے مقام پر لڑی گئی۔اس لڑائی میں انگریزوں کی قیادت ہیری سمتھ اور سکھوں کی سالاری رنجودھ سنگھ مجیٹھیا نے کی تھی۔ اس لڑائی میں انگریزوں کو فتح حاصل ہوئی اور یہ پہلی اینگلو سکھ جنگ میں ایک اہم موڑ تھا۔

پس منظر[ترمیم]

پہلی اینگلو سکھ جنگ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے چھ سال بعد شروع ہوئی تھی۔ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد پنجاب میں انتشار پھیل گیا تھا اور انگریز نے اپنی سرحد پر فوج کی تعداد میں اضافہ شروع کر دیا تھا۔خالصہ فوج کو حملے کی لیے اکسایا گیا اور انہوں نے اپنے اکابرین کی قیادت میں ستلج پار انگریزوں پر حملہ کر دیا۔

علیوال کی لڑائی[ترمیم]

فروز شہر (پھیرو شہر) سے ہار کر سکھ فوج ستلج پار کر کے اپنے علاقے میں پہنچی اور اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے سبھراؤں کے قریب تیاری میں مصروف ہو گئی۔ اُدھر انگریز فوج بھی فیروز پور کی چھاؤنی میں اپنی تیاری کرنے لگی۔ اسی دوران لدھیانے کے قریب بدووال (21 جنوری 1846 ) اور علی وال (28 جنوری 1846 ) میں انگریز اور سکھ فوجوں کے درمیان دو چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوئیں۔ اگرچہ انگریزوں کے کافی فوجی مارے گئے لیکن سکھ فوج کے جرنیل رنجودھ سنگھ مجیٹھیا کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے28 جنوری 1846 کو یہاں بھی انگریز فاتح رہے۔

علی وال 28 جنوری 1846 کو انگریزوں اور سکھوں کی فوجوں کے درمیان بہت زبردست جنگ ہوئی تھی جس میں ہزاروں سکھوں نے جانیں نچھاور کیں اور انگریزوں کا بھی بہت نقصان ہوا تھا۔ یہ لڑائی پنجاب میں انگریزوں اور سکھوں کے درمیان ہونے والے دو بڑی لڑائیوں کا حصہ تھی۔ اس جنگ کا پہلا دور 1845–46 میں ہوا اور دوسرا دور 1848–49 کے دوران۔ مارچ 1849 کو آخری لڑائی چلیانوالہ میں ہوئی جہاں انگریزوں نے سکھوں کو ہرا کر پنجاب میں سکھ راج کا باقائدہ خاتمہ کر دیا اور پنجاب کو اپنی ہندوستانی سرکار میں شامل کر لیا۔ اس لڑائی میں انگریزی فوج کا سالار ہیری سمتھ تھا۔

لڑائی کی مختصر تاریخ[ترمیم]

1845 کے آغاز سے ہی سارے پنجاب کا ماحول ایسا تھا کہ بہت سے سکھ فوجیوں کے دلوں میں لاہور کے ان سرداروں کے خلاف غصہ ہی غصہ تھا۔ جنہوں نے درون خانہ انگریزوں سے سازباز کرنا شروع کر دیا تھا۔ جس سے پنجاب میں سکھ راج کو خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔علیوال کی لڑائی سے ایک مہینہ پہلے 24 دسمبر 1845 کو انگریزوں اور سکھوں کے درمیان مدکی اور پھر وجشا میں بڑی لڑائی ہو چکی تھی۔ دونوں طرف سے نقصان بہت ہوا تھا مگر یہ لڑائی فیصلہ کن نہ تھی۔ کوئی فریق ہارا نہیں تھا۔ مد کی کے بعد سکھ فوجیوں کی کمان بھکر گئی تھی۔ فوج کا ایک حصہ انگریزوں سے ٹکر لے کر انہیں ستلج سے پرے دھکیلنا چاہتا تھا۔ سکھ فوجیوں کا ایک بڑا حصہ سبھراؤں کے گاؤں کے قریب ستلج پر کشتیوں کا پل بنانے لگا۔

سکھ فوجیوں کا ایک اور دستہ مزید پچاس میل آگے ستلج کو پار کر کے انگریزی ریاست میں داخل ہو گیا۔ ان فوجوں کی کمان رنجودھ سنگھ مجیٹھیا کر رہا تھا۔انہوں نے 21 جنوری کو بدووال میں انگریزوں کا کچھ اسلحہ چھین لیا اور اُن کا ایک افسر اور چند فوجی مار دیے۔ بددوال کے بعد سکھ فوجیں ،انگریزوں کی لدھیانے والی چھاؤنی پر برا ہ راست حملہ کرنے بجائے پھلور کے قریب ستلج کا پل پار کر گئیں۔