مندرجات کا رخ کریں

جنگ نقرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

جنگ نقرہ اکتوبر 633ء میں فتنۂ ارتداد کی جنگوں کے دوران باغی فوجوں اور خالد بن ولید کی فوج کے درمیان میں ہوئی تھی۔ یہ جنگ جزیرۂ عرب میں اُن سلسلۂ معرکات میں سے ایک تھی جن کا مقصد اُن قبائل کو دوبارہ اسلامی نظم کا پابند بنانا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد زکوٰۃ اور اطاعتِ خلافت کے معاملے میں منحرف ہو گئے تھے۔

پس منظر

[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بعض قبائل نے اسلام ترک کرنے، زکوٰۃ روکنے اور قبائلی خود مختاری کا اعلان کرنے کی کوشش کی۔ اس صورت حال نے پورے عرب معاشرے میں سیاسی اور مذہبی انتشار پیدا کر دیا، جسے بعد میں "فتنۂ ارتداد" کہا گیا۔ بنو نقرہ سمیت کئی قبائل اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ یہ قبائل سمجھتے تھے کہ خلافتِ راشدہ کی مرکزی اتھارٹی کو تسلیم کرنا ان کی قبائلی آزادی کے خلاف ہے۔ دوسری طرف خلیفہ اول ابوبکر صدیقؓ نے واضح اعلان کیا تھا کہ زکوٰۃ ترک کرنا دراصل اسلامی نظام سے بغاوت ہے اور اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے۔

مقام اور فوجی ترتیب

[ترمیم]

نقرہ ایک ایسا علاقہ تھا جو اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ یہ کئی تجارتی راستوں اور قبائلی گزرگاہوں کے قریب تھا۔ باغی قبائل نے یہاں ایک بڑی اور منظم فوج جمع کر لی تھی۔ ان کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، لیکن تاریخی ذرائع عام طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ وہ تعداد میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ تھے۔

دوسری جانب خالد بن ولیدؓ کو خلیفہ کی جانب سے حکم ملا کہ وہ ارتداد کے تمام مراکز کو ختم کریں اور مسلمانوں کی اجتماعی وحدت قائم کریں۔ خالدؓ کی فوج اگرچہ تعداد میں کم تھی، مگر عسکری تربیت، نظم و ضبط اور ایمانی حوصلے میں مضبوط تھی۔

جنگ کا آغاز

[ترمیم]

جنگ سخت اور فیصلہ کن تھی۔ باغیوں نے ابتدا میں شدید مزاحمت کی اور چونکہ وہ علاقے کے صحرائی جغرافیے سے واقف تھے اس لیے انھیں مقام کا فائدہ بھی حاصل تھا۔ تاہم خالد بن ولیدؓ نے اپنی روایتی برق رفتار حکمت عملی، تیز حملوں اور دشمن کے مرکز کو توڑنے کی جنگی تکنیک استعمال کرتے ہوئے جنگ کا پانسا پلٹ دیا۔

انجام

[ترمیم]

آخرکار مسلم افواج کو فتح حاصل ہوئی اور باغی فوج منتشر ہو گئی۔ اس جنگ کے بعد اس خطے میں ارتداد کی تحریک تقریباً ختم ہو گئی اور دوبارہ خلافت کا نظم بحال ہوا۔ جنگِ نقرہ نے نہ صرف عرب قبائل کو واضح پیغام دیا بلکہ اسلامی ریاست کی وحدت کو مضبوط بنانے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔[1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. محمد الحسین، تاریخ الفتوحات الاسلامیة، دار العلم العربی، بیروت، 1992ء، ص 87۔