جوئیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جوئیہ قوم پاکستان کی مشہورقوم ہے

اور دیگر برصغیر کے ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس قوم کے افراد زمیندار، محنتی، جفاکش اور خود داری کے حوالے سے معروف ہیں۔ یہ پنجاب اور سندھ میں اکثریت سے ہیں۔جوئیہ راجپوت : جوئیہ خاندان قبیلہ کے معروف سردار لونے خان اور اس کے دو بھائی بر اور وسیل اپنے ہزاروں اہل قبیلہ کے ساتھ 635ھ کے قریب بابا فرید رحمۃ اللہ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوئے. بابا فرید نے لونے خان کو دعا دی، تو 12 فرزند ہوئے اس کا بڑا بیٹا لکھو خاں سردار بنا، بیکانیر میں رنگ محل کا قلعہ بنوایا بیکانیر میں قصبہ لکھویرا بھی اسی کے نام سے منسوب ہے۔ اس کی اولاد کو لکھویرا کہا جاتا ہے جو ضلع بہاولنگر اور پاکپتن میں آباد ہیں۔ بعض جوئیے اپنے قبیلے کو عربی النسل کہتے ہیں مگر اصل میں جوئیہ قوم ہند کی ایک قدیم قوم ہے۔ ٹاڈ کے مطابق جوئیہ قوم سری کرشن جی کی اولاد ہے یہ قوم پہلے بھٹنیر، ناگور اور ہریانہ کے علاقہ میں حکمران تھی اب بھی بھی یہ قوم راجپوتانہ میں اور اس کے ملحقہ علاقے میں کافی تعداد میں آباد ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ قبیلہ بیکانیر سے ہجرت کر کے زیادہ تر ریاست بہاولپور اور ضلع ساہیوال، عارف والا، پاکپتن میں آباد ہو گیا۔ ساتویں صدی ہجری میں جوئیوں کی بھٹی راجپوتوں سے بے شمار لڑائیاں ہوئیں، دسویں صدی ہجری میں راجپوتانہ کے جاٹ اور گدارے جوئیوں کے خلاف متحد ہو گئے ان لڑائیوں سے تنگ آکر دریائے گھاگرہ کے خشک ہونے کی بنا پر جوئیہ سردار نے دسویں صدی ہجری میں اپنے آبائی شہر رنگ محل کو خیر باد کہا اور دریائے ستلج کے گردونواح ایک نیا شہر سلیم گڑھ آباد کیا زبانی روایات کے مطابق سلیم گڑھ کا ابتدائی نام شہر فرید تھا۔ بعد میں نواب صادق محمد خان اول نے لکھویروں کے محاصل ادا نہ کرنے کی وجہ سے نواب فرید خان دوم اور ان کے بھائی معروف خان اور علی خان کے ساتھ جنگ کی. جس کی بنا پر جنوب میں بیکانیر کی سرحد تک اور شمال میں پاکپتن کی جاگیر تک نواب صادق محمد خان کا قبضہ ہو گیا اور لکھویرا کی ریاست بہاولپور کی ریاست میں مدغم ہو گی. تاہم بعد ازیں شاہان عباسی نے لکھویروں کی ذاتی جاگیریں بحال کر دیں اور انہیں درباری اعزازات بھی دیے۔ جنرل بخت خان جنگ (آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا سپہ سالار) بھی جوئیہ تھا یہ کوروپانڈوؤں کی نسل سے خیال کیے جاتے ہیں۔ راجپوتوں کے 36 شاہی خاندانوں میں شامل ہیں۔ ایک روایت کے مطابق راجا پورس جس نے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا، جوئیہ راجپوت تھا۔ ملتان بار اور جنگل کے بادشاہ مشہور تھے۔ چونکہ سرسبز گھاس والے میدان کو جوہ کہا جاتا ہے۔ اسی جوہ کے مالک ہونے کی وجہ سے یہ جوھیہ اور جوئیہ مشہور ہوئے جو بابا فرید رحمۃ اللہ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوئے.لونا کے والد کا نام گراج تھا۔ اور دادا کا نام جیسنگ تھا۔ جیسنگ کے دو بیٹے تھے۔ ایک بیٹا ہراج اور دوسرا گراج۔ ہراج کے بیٹے کا نام چونڈرا یا چونڑا تھا۔ ہراج نے گراج کو ایک قطعہ زمین کی خاطر قلعہ کھربارہ میں قتل کیا۔ بعد ازاں اسی دشمنی کی وجہ سے چونڈرا نے لونا کو قتل کیا۔ اسی طرح جوئیہ فیملی کی ایک گوت ہراج اور چونڈرا بھی ہے۔

قبول اسلام،[ترمیم]

اس سوال کا عام طور پر  جواب يہ ديا جاتا ھے کہ اس قوم کو حضرت بابا فريد الدين گنج رحمتہ اللہ کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا. پوری جوئيہ قوم کے حوالے سے يہ بات نامکمل بھی ھے اور تحقيق طلب بھی. دراصل جوئيہ قوم کا شمار ہندوستان کی ان قوموں ميں ہوتا ھے جس کے کچھ ( اکثر ) افراد مسلمانوں کے فاتحين کے سلسلہ آمد سے قبل مسلمان ہوئے. دوسری اہم بات يہ ھے کہ اس قوم کو کسی ايک بزرگ نے مسلمان نہیں کيا مختلف ادوار ميں مختلف بزرگوں کے ہاتھوں يہ مشرف بااسلام ہوئی.

لالہ رام رکھا مل ملہو ترا راجپوتوں کے خصائل کے بارے میں لکھتا ھے.

'راجپوت بڑ ے بہادر' جنگجو' غيرت مند اور وعدے کے پکے تھے انہيں اپنی عزت کا بڑا پاس تھا اور بے عزتی پر

موت کو ترجيح ديتے تھے آزادی اور خودداری کے دلدادہ تھے. عورتیں دير اور پاکدامن ہوتی ھيں جب دشمن سے بچاؤ کی صورت نہ ديکھيں تو ''رسم جوھر''ادا کرتيں يعنی زندہ جل کر مر جاتيں. مردوں کی بہادری کا يہ عالم تھا  کہ نہتے اور سوئے ياگرے ہوئے يا گرے ہوئے دشمن پر حملہ نہ کرتے تھے ''.

ايک روايت يہ بھی ھے ( واللہ اعلم بالصواب ) کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم ہر نماز میں مشرق کی جانب رخ مبارک فرما کر دعا فرمايا کرتے تھے. صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمايا ''مشرق ميں ايک ايسی قوم آباد ھے جس ميں اسلام کی تمام خوبياں موجود ھيں يعنی وہ وعدے کے پکے ' پاکدامن 'بہادر اور ھٹ کے پکے ھيں. صرف کلمہ پڑھنے کی پڑھنے کی کسر ھے ''. يہ راجپوت قوم ہی کے بارے ميں فرمايا گيا.

سرزمین عرب میں طلوع اسلام کے وقت ہندوستان کے وسيع علاقوں خصوصاً پنجاب میں جوئيہ قوم کا وجود ملتا ھے.

مورخين کے مطابق يہ قوم قدیم ايام سے يہاں مسکن پزير تھی.

جوئيہ گوتيں[ترمیم]

ابھريرے-اجيرے -ادميرے -ادلانے -ادوکے -اسمعيل کے-اسحاق کے- الپہ-ايبک-اٹھوال-بلانے-بدانے-بلوانہ-بلوکے-بہادرکے -بيگ کے -برخے کے -بالے کے -بگريرے - بھٹنيرے - باھورانے -بھاٹے کے -بھلوکے -بھکرانی -بھراج کے -بھورے کے -بھڑيرے -بھيکھارانی -بلھياری -بٹٹرے -برے -بلوچ خيل -برہان کے - بليال کے -پانجيرہ -پہلوان کے -پہاڑے کے -پھتورا -پہاڑے خيل -پہنے خيل -تگيرے _ٹھٹھے واليے -جمليرے -جودھيکا -جلوکے -جسپليرے -جلوانے -جھنڈے کے -جونے کے -جدھيانے -جوگےکے -جوئيہ -جوئیو_جوعا-جنوعا -جوئيہ زئی-جوئيہ خيل -جھميرے -جھنڈے خيل -جين کے -جليرے -جہاں بيرے -جتيرہ -جلويرہ -جماليکے -جلال کے -جندے کے _جاگن کے _چنگے کے _چاؤيکے _چھلڑے _چکوکا _چابہ _چونڈرے_حاجی کے _حسن کے _حامندکے _حمديرے _حسين خيل _خصر کے _خانيکے _خيراکے _خان خيل _دلےکے _دولتانے _دہکو_دلاورکے_دليلےکے_ڈھيڈے_ڈورےخيل _ڈھبکڑے _راضائےخيل _راٹھ_رانوکے_رمديرے_رنديرے_رونت_رانےکے_رتھ_رتھال کے _راضی خيل _راجيکا_زيرک_زمانيکا_سنتيکے_سوائےکے_سلديرے_سليرے_سلميرے_سادہ کے _ساھوکے _سليال کے _سرون کے _سيلم کے _سوڈھےکے_سيسی_سيرانی_سيلم خانی _سيلم رائے _سجن کے _سادھورانی_سخبرانی_سپرانی_

سباجی_سابوکے_سمليرے_سلجيرے_

سيکر_سمنداکے_ساوند_سوھنےخيل _سيکھوکے_سريرے_سال ھوکا_ساہکا_ستارکے_سماعيل کے _شنيکی _شادی خيل _شادوکے_شيخوکے_شالبازی_شاميکے_شريف خيل _صادق کے _صابوکے_صوبہ کے_ظريف خيل _عالم کے _عاکوکے _عسکيرے_غازيخنانے_غلام محمد خيل _فريد کے _فتويرے _فتولاں کے _فقير_فيروزکے_فصلوخيل_فتح خيل _قائم کے _قاسم کے _کبےکے _کلاسی _کمرانی _کليرے _کھيواکے _کميرے _کالو _کريانی _کامل کے _کھپريرے _کوڈيکے _گاگن کے _گاڈی واھنے _گوگا_گراج کے _گندڑا_گاموں کے _گنجو _گاھنڑے خيل _گگريڑے _گلابی_گبوری_گھليکا_گاموں کے _لاليکا_لکھويرے_لطفيی_لکھوکا_لوھيے کا_لنگاھےکے_لاھر_لنگرےکے_ليدھرا_

لعل خيل _ملکيرے _ممديرے _مدوکے_مگھيرے_مديرے_ممليرے_

مموں کے _مومےکے _مسےکے _ماھمےکے _معراج کے _مانڈل _مہروکے _مادھورانی _منگھير_مسوانہ_مليرے_مامورکے_

محمد کے _محرم خيل _موسی خيل _ماٹن_مانک ويرے _مغلانے _محکم خيل _محمد خيل _موسی کے _مستقیم کے_نہال کے _نسريرے _نامے کے _نہالکہ _نصيرکے _نورخيل _ہمديرے _ولی کے _واھيہ راجپوت _وزيرکے _وسلديرکے _وساؤے خيل _واگہہ_وڈجوئيہ_ولياکے_ہراج کے_يکتاری_

يونس کے _يوسف کے _يارے خيل _يسين کے _ياراکے. حوالہ تاریخ جوئیہ

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ کتاب قوم جوئيہ  ( مصنف ڈاکٹر آفتاب جوئيہ ) تحریر سعداللہ جوئيہ