جواہر لعل نہرو یونیورسٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی، بھارت میں واقع ایک سرکاری یونیورسٹی ہے۔ یہ ملک کی مایہ ناز جامعات میں سے ہے۔ اس جامعہ میں ہمہ قسم کے کورس دستیاب ہیں۔ جامعہ کے اساتذہ بھی ملک کے کونے کونے سے آتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی 1969 میں پارلیمنٹ کے اقدام سے وجود میں آئی[1] ، یہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے نام پر بننے والی پہلی یونیورسٹی ہے۔ پروفیسر مونس رضا بانی چیئرمین اور ریکٹر [2][3] تھے۔ راجیا سبھا میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے قیام کا بل 1 ستمبر 1965 میں اس وقت کے وزیر تعلیم ایم سی چاگلہ نے پیش کیا۔ بھوشان گپتا نے رائے دی کہ اسے کسی بھی دوسری یونیورسٹی کی طرح نہیں ہونا چاہیے ، نئی فیکلٹی بنانی چاہیے جیسا کہ سائنسی سوشلزم اور ایک چیز جسے اس یونیورسٹی کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے وہ ہے اعلی خیالات کا برقرار رکھنا اور معاشرے کے کمزور طبقوں سے طالب علموں کو رسائی فراہم کرنا۔ 16 نومبر 1966 کو لوک سبھا میں یونیورسٹی کا بل منظور ہو گیا اور 22 اپریل 1969 میں جواہر لعل یونیورسٹی ایکٹ[4] عمل میں آیا۔

یونیورسٹی میں سیاست[ترمیم]

2010ء کے بعد سے یہ جامعہ طلبہ کی سیاست کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ کئی سرکردہ نام جیسے کہ کنہیا کمار، شہلا راشد اور عمر خالد کا تعلق اسی جامعہ ہے۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ یہاں کے طلبہ بی جے پی نواز اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) اور بائیں محاذ میں بٹ چکے ہیں۔

ملحقہ ادارے[ترمیم]

جواہر لعل یونیورسٹی نے ملک میں بھر متعدد اداروں کے ساتھ الحاق اور تصدیق عطا کی ہوئی ہے۔

ڈیفنس ادارے[ترمیم]

  • آرمی کیڈٹ کالج ، دھرادن
  • ملٹری انجنیئرنگ کالج، پونے
  • نیشنل ڈیفنس اکیڈیمی ، پونے
  • انڈین نیول اکیڈیمی

ریسرچ اور ڈویلپمنٹ ادارے[ترمیم]

  • سینٹرل ڈرگ ریسرچ انسٹیٹوٹ، لکھنؤ
  • سینٹر برائے سیلولر اور مالیکیولر بائیولوجی، حیدرآباد
  • انٹر یونیورسٹی ایکسلیریٹر سینٹر ، نئی دلی
  • انسٹی ٹیوٹ برائے مائیکروبیل ٹیکنالوجی ، چندی گڑھ
  • رامن ریسرچ سنٹر، بنگالور
  • نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے امیونولوجی ، نئی دلی

اس کے ساتھ ، دنیا بھر سے 71 سے زائد یونیورسٹیوں کے ساتھ تبادلہ پروگرام اور ادارہ جاتی معاونت جاری ہے۔

یونیورسٹی بہار میں ایک سینٹر [5] قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس  کے ٹریننگ حاصل کرنے والے افسران کو پبلک مینیجمنٹ میں ایم اے ڈگری [6] جواہر لعل یونیورسٹی کی طرف سے دی جائے گی۔

ایوارڈ[ترمیم]

جواہر لعل یونیورسٹی کو 2017 میں بہترین یونیورسٹی [7] [8] کا ایوارڈ صدر ہندوستان کی طرف سے دیا گیا۔

رینکنگ[ترمیم]

جواہر لعل یونیورسٹی ہندوستان کی صف اول کی یونیورسٹی ہے اور دنیا بھر میں پڑھائی اور ریسرچ کے لحاظ سے ایک معروف اور جانا مانا سینٹر ہے۔ ہندوستان میں نیشنل انسٹیٹیوشنل رینکنگ فریم ورک ، حکومت انڈیا کے بقوی 2016 میں یہ تمام یونیورسٹیوں میں تیسرے نمبر [9] پر ہے۔

2018 میں اسی فریم ورک کے تحت مجموعی طور پر چھٹے نمبر پر رہی اور یونیورسٹیوں میں دوسرے نمبر پر رہی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Jawaharlal Nehru University Act 1966" (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2012۔
  2. "We need a sustainable framework that synthesizes human and environmental elements of security: Vice President"۔ pib.nic.in۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Moonis Raza؛ Sudesh Nangia۔ "Atlas of the Child in India"۔ Concept Publishing Company۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Jawaharlal Nehru University Vision"۔ مورخہ 29 جنوری 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 مارچ 2017۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  5. "After BHU, JNU submits proposal to set up a Campus in Bihar"۔ IANS۔ news.biharprabha.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2014۔
  6. Manash Pratim Gohain۔ "IAS trainees to get MA degrees from Jawaharlal Nehru University"۔ The Times of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2016۔
  7. "JNU wins Visitor's Awards 2017 for best university"۔ Business Standard۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جولا‎ئی 2017۔
  8. ANI۔ "JNU wins Visitor's Awards 2017 for best university"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. "Jawaharlal Nehru University"، Jawaharlal Nehru University، مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ

بیرونی روابط[ترمیم]